فلاح اور اصلاح - روبینہ شاہین

اپنے ہاتھوں سے لگائے ہوئے پودے سورج کی گرمی سے مرجھا جائے تو دل کا دکھنا لازمی ہے۔ والدین اپنی ہر سانس بچوں کے بہترین مستقبل اور حال کے لئے وقف کردیتے ہیں وہ اپنی ذات کے لیے کم لیکن اپنی اولاد کی راحتوں کے لئے آنکھوں میں امید کے دیے جلاکر شاہراہ زندگی پر محو سفر ہوتے ہیں ۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا اچھاکھلا دینا، اچھا پہنا دینا، اچھا رہن سہن اچھی تربیت میں شامل ہے آج کی بیسویں صدی جہاں دنیا میں ترقی کے دروازے کھل چکے ہیں وہاں معاشرے میں تہذیب و تمدن اور اقدار کا فقدان بھی آیا ہے ۔ان بچوں کو اخلاقی کمزوری تعلیم سے دوری وقت کا ضیاع اور مقصدیت نہ ہونا زندگی کو خالی کر دیا ہے۔

موبائل اور انٹرنیٹ کا بے تحاشہ استعمال کتاب سے بیگانگی تابناک تاریخ سے لاعلمی اور سب سے بڑھ کر احساس سے کمی کا شکار کر دیا ہے۔آج کے والدین بچوں کی ان کمزوریوں کو تعلیمی اداروں پر چھوڑ چکے ہیں وہ یہ بات کیوں نہیں سمجھتے کہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے جس کا ہر کام باقاعدہ طور پر رکھا جاتا ہے۔ اس طرح اولاد کی تربیت کو بھی سیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہر زمانے کے ساتھ تربیت کے اصول بھی بدلتے ہیں۔

خود سے سوال کیجئے کہ کیا آپ موجودہ دور کے نئے تربیتی اصولوں سے واقف ہےسوچئے آج کل کے مادی دور میں گھروں کے سائز بڑھ جاتے ہیں گاڑیوں کے سائز بڑے ہوجاتے ہیں فیکٹریوں کے سائز میں توسیع آجاتی ہے لیکن کیا انسان کی خوشیوں کے سائز بھی بڑھ جاتے ہیں نہیں خوشی نہیں بڑھتی کیونکہ انسان دین سے بہت دور ہو چکا ہے۔ کیا ہم اپنے بچوں کو یہ بتاتے ہیں کہ بیٹا اسلام کیا کہتا ہے اللہ کے کیا احکامات ہیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا تعلیمات ہےہمیں دنیا کی دولت کی کس حد تک ضرورت ہے۔خوشی کا کوئی تعلق مادیت کے ساتھ نہیں اگر ہوتا تو ہر خواہش کے بعد انسان ہمیشہ مطمئن ہو جاتا۔

دنیا کے سامنے بڑے پرجوش ہو کر بتاتے ہیں کہ ہمارا بچہ فلاں بڑے سکول کالج یا یونیورسٹی سے تعلیم لے رہا ہے مگر دیر سے گھر آنا دوستوں کے ساتھ لاعلمی خوراک میں باہر کھانا عادت بن جانا آجکل کا ٹرینڈ بن چکا ہے اور اس طرف ہمارا کوئی دھیان نہیں جیسے ہی وہ بڑا ہونے لگتا ہے والدین اس کو جوانی اور بڑھتی ہوئی خواہشات کو دیکھ کر پورا کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں لیکن کیا وہ آنے والے اپنے کل کے لیے اس کو تیار کرتے ہیں بالکل نہیں اور جب عمر جوانی سے نکل کر بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے تو ہم یہ کہتے ہوئے رونے لگتے ہیں۔

ہمارا بچہ ہم سے بیگانہ ہو گیا ہے وہ تو ہمیں بلانے کا روادار بھی نہیں آج کل کی جو نسل کالج یونیورسٹی تک پہنچ جاتی ہے وہ والدین سے بہت جلد آشنا ہو جاتی ہے۔میرے ایک عزیز جو کہ اب بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں ایک دن کہنے لگے بیٹےکو "میں بیمار ہوں مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ"بیٹا کہنے لگا "ابا جی ڈرامہ نہ کریں میرے پاس ٹائم نہیں ہے اب خود جا سکتے ہیں" یہ کہہ کے کمرے کا دروازہ بند کر دیانذیر صاحب کو دکھ سے چارپائی کے ساتھ لگ گئے ہے ابھی تک بیٹے کی یونیورسٹی کی فیس پوری کر رہے ہیں۔

اس کی ماں نے بیٹے سے پوچھا "کیا ہم مر گئے تو قبر پر فاتحہ پڑھنے آ جایا کرو گے" آگے سے بے رخی سے کہنے لگا "دیکھیں ماما آج کل فاسٹ دور ہے اگر ٹائم ملے گا تو آ جایا کریں گے" آپا کی آنکھوں کے آنسو تو خشک ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے ہچکیوں میں بولی اس سے اچھا تھا اس کو دین کی تعلیم ہی دلوا دیتے۔یہ بات ہمیں اس وقت سمجھ کیوں آتی ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے دین سے دوری اس نسل کو تباہ کر رہی ہے۔

ماؤں کو دنیاوی تعلیم کی دوڑ تو ہوتی ہے لیکن بچوں کی اصل درسگاہ جو ماں کی گود سے شروع ہوکر لحد تک جاتی ہے وہ کہاں ہے ہم اس بیسویں صدی کی دوڑ میں کیوں بھول گئے ہیں کہ اپنے مستقبل کو ہم اپنے ہاتھوں سے خود برباد کر رہے ہیں نوجوان نسل کو ہم خود دلدل میں ڈال رہے ہیں۔