ہمدمِ دیرینہ تمہارے نام - عالیہ زاہد بھٹی

سنو مجھے اچھا لگتا ہے تمہارے لئے سجنا، سنورنا، سنگھار کرنا تمہاری پسند کا رنگ پہننا، تمہاری مرضی کا لباس پہننا، تمہیں اللہ کے رستے پر چلا کر خود سر جھکا کر تمہاری تقلید میں پیچھے چلنا،

تمہیں درد ہو تو تمہارا درد سمیٹ لینا، تم رکو تو میں رک جاؤں، تم چلو تو سنگ تمہارے چل پڑنا، تم جب اپنے ہر خواب اور خواہش کو میری خاطر تج دیتے ہو ہر صبح میری چھوٹی سے چھوٹی ضرورت پوری کرنے کو جو نکلتے ہو تو شام کردیتے ہو ایسے میں تمہارے لئے تمہارے گھر کو سجانا سنوارنا، تمہارے بچوں اور والدین کی دلبستگی کا سامان کرنا، انہیں تمہاری خاطر اہمیت دینا مجھے بہت اچھا لگتا ہے کھانے پر تمہارا انتظار کرنا اور تمہیں اپنے سامنے کھاتے دیکھنا ، میری ہر تکلیف پر تمہارا پوچھنا اور تمہیں پریشان نہ کروں یہ سوچ کر اپنی تکلیف کو تم سے چھپانا بھی اچھا لگتا ہے،تمہارے لئے سالن کا سب سے اچھا حصہ چکن کا سب سے اچھا پیس،میٹھے کا باداموں والا حصہ رکھنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے ، سنو میری سکھیاں کہتی ہیں مرد کو اتنا سر پر نہیں چڑھانا چاہیے. میں ان کو کیسے سمجھاؤں کہ جو چیز بنی ہی سر پرپہننے کے لئے ہے اسے ہاتھوں یا پاؤں میں کیسے پہن سکتے ہیں، تم نے بے چاری مس ورلڈ کو دیکھا ہے کبھی تن تنہا اکیلی کھڑی مجھے تو بڑی مسکین اور" نمانی" سی لگتی ہے بغیر کسی مرد کے بیچاری کے ساتھ نہ باپ نہ بھائی نہ شوہر نہ بیٹا،سر پر ہیروں بھرا تاج پھر بھی کتنی محتاج ......

اور دیکھو اس کو بھی پتہ ہے کہ تاج کو سر پر سجانا ہے وہ اسے نیکلس بنا کر نہ تو گلے میں پہنتی ہے اور ناں پائل بناکر پاؤں میں کیونکہ اسے پتہ ہے کہ تاج سر پر سجتا ہے تاکہ سب کی نظروں کو پتہ چل جائے کہ اس کے پاس"تاج "ہے اور میرے پاس بھی تو میرے ہمدم تم مانند تاج ہی تو ہو جسے میرے رب نے میرے سر پر سجایا ہے میں کیسے اسے سر پر نہ سجاؤں کہ جس کا منصب ہی میری زندگی کی ریاست میں شاہی ہے. ہاں مجھے بہت اچھا لگتا ہے کہ ہر طرف میں تمہارے نام سے جانی جاؤں میں جو اپنے بابا کے گھر میں تھی تو ان کے نام کو اوڑھ کر رکھا کرتی کوئی پوچھے تو کہتی مس ارشد،(بنتِ ارشد)اور اب اپنے رب اور بابا کی اپنے لئے چنیدہ ہستی کا نام اوڑھ لینا مجھے بہت زیادہ اچھا لگتا ہے کہ میں،میں نہیں رہنا چاہتی مجھے تم ہوجانا اچھا لگتا ہے، اپنے حصے کا دودھ کا گلاس،اپنے بادام،یہاں تک کہ اپنی بیماری کے دنوں میں بننے والی یخنی بھی تمہارے لئے چھوڑ دینا اچھا لگتا ہےتمہاری چھٹی ہو تو اس دن فجر کے بعد سونے پر کبھی نہ جگانا اور تمہارے آرام کی خاطر بچوں کو خود اسکول چھوڑ کر آجانا بھی اچھا لگتا ہے . تمہیں ضرورت پڑے تو تمہارے لئے اپنے علم سے موتی کمانا بھی اچھا لگتا ہے کہ یہ تمہارے لئے ہے ناں اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی یہ نہ جتانا تو سب سے اچھا لگتا ہے.

ان سب باتوں کے جواز میں کبھی نہ کہنا کہ تمہارے لئے ہے، بلکہ ہمیشہ یہ کہنا کہ میرا دل چاہ رہا تھا، یا میری مرضی نہیں تھی اس لئے آپ کھا لیں، لے لیں کیوں کہ میرا دین میری مرضی کے مطابق ہے اور میری مرضی رب کے بندے یعنی اپنے شوہر کو راضی کرکے جنت کا حصول ہے. آئیں آج سے ہم بھی اپنے دین کو اپنی مرضی بنا کر کہہ دیں کہ "جاؤ بی بی لبرل مجھے نصیحت کرکے میری جنت کے آڑے نہ آؤ تم جو مرد کے شانہ بشانہ چلنےکی بات کرتی ہو تو آؤ میرامقابلہ کر کے دیکھو اسے کہتے ہیں مرد کے شانہ بشانہ چلنا تم میرے دین کی خدیجہ بنکر چہار اطراف سے کام کرنےکے بعد دل جیت کر بتاؤ میں سب کام کرنےکے بعد اپنے ایثار سے محل تعمیر کرتی ہوں ،میں گھرکی ملکہ بھی ہوں بزنس کی دنیا میں خدیجہ بھی ہوں اور جنت کی حوروں کی سردار بھی آؤ ناں میرے مقابل کرو نہ میرا مقابلہ جو تم نہیں کر سکوگی کہ یہ ہمت تومحبت عطا کرتی ہے اورتمہیں تو اپنے آپ سے ہی محبت ہے. اور تمہارا جسم تمہاری مرضی ہے تو ہوا کرے میرا دین میری مرضی ہے مجھے اس پر چلنے دو اپنے بینر اور اپنی قبروں کے کتبے اپنے پاس رکھو یہ ملک میرے دین کے نفاذ کے لئے بنا تھا سو اسے نافذ کرنے کو میں اپنے ہمدم و ہم سفر کے ساتھ مل کر کہتی ہوں کہ "ہمارا دین ہماری مرضی" اور یہی میرے رب کی مرضی بھی ہے اور مجھے یہ سب ایسے اور اسی طرح بہت زیادہ اچھا لگتا ہے کہ میں تمہاری چھوٹی سی "ورلڈ" کی مس ورلڈ ہوں نا....

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */