فوٹو کھنچوانے کی وبا - ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

کہاں تو تصویر کی حرمت کے بارے میں صریح احادیث ہیں _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی سخت تنبیہات ہیں کہ قیامت میں سب سے سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو دیا جائے گا _ متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ص نے کسی کپڑے پر جان دار کی تصویر دیکھی تو اسے پھاڑ دیا _

ان احادیث کی وجہ سے ہر دور میں تصویر سازی کو ناپسندیدہ سمجھا گیا _ اسلامی تمدّن میں اسے کبھی فروغ نہ مل سکا _ علماء نے اس کی حرمت کے فتوے دیے اور عوام بھی حتیٰ الامکان اس سے دور رہے _ لیکن کیمرہ کی ایجاد کے بعد رفتہ رفتہ اس کی حُرمت میں کمی آتی گئی _ کہا جانے لگا کہ تصویر کی حرمت کا تعلق مجسّمہ سازی، جان داروں کی پینٹنگ اور ہاتھ سے تصویر بنانے سے ہے ، کیمرہ کے ذریعے تو عکس کو روک لیا جاتا ہے _ اس میں کوئی مضائقہ نہیں _

آخر میں ملٹی میڈیا موبائل نے رہی سہی کسر پوری کردی _ ہر موبائل میں کیمرہ ہے _ پھر تو ہر شخص کو تصویر کھینچنے اور کھنچوانے کا شوق پیدا ہوگیا _ اس میں وہ لوگ تو پیش پیش ہیں ہی جو کبھی جائز و ناجائز کے چکر میں نہیں پڑے، اب وہ لوگ بھی اس میں شامل ہوگئے ہیں جو کبھی اسے حرام سمجھتے تھے اور وہ لوگ بھی جو اب بھی اس کی حرمت کے فتوے دیتے ہیں ، لیکن عملاً اسے جائز سمجھتے ہیں _

یہ مانتے ہوئے کہ موبائل سے کھینچی ہوئی تصویر جائز ہے ، اب بھی تصویر سازی کی بعض ایسی صورتیں نظر آتی ہیں جو قبیح ، ناشائستہ اور غیر اخلاقی معلوم ہوتی ہیں _ ایک شریف آدمی کو ان سے بچنا چاہیے _

* لوگوں میں خدمتِ خلق کا جذبہ پایا جاتا ہے ، یہ بڑی اچھی بات ہے _ افراد کے ساتھ بعض سماجی ادارے ، دینی جماعتیں اور رفاہی تنظیمیں بھی یہ خدمت انجام دیتی ہیں _ چنانچہ ماہ رمضان المبارک میں راشن ، موسمِ سرما میں کمبل اور لحاف ، آتش زدگی ، سیلاب اور بعض دیگر آفات کے موقع پر ضرورت کی چیزیں بڑے پیمانے پر تقسیم کی جاتی ہیں ، لیکن دیکھا گیا ہے کہ انفاق کا جذبہ جوش مارتا ہے تو ساتھ ہی فوٹو کھنچوانے کا جذبہ بھی ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے _

یہ بھی پڑھیں:   وبا کے دنوں میں عہد - محمد عامر خاکوانی

راشن کی ایک بوری یا ایک لحاف لینے والی تو کوئی نحیف و لاغر عورت ہوتی ہے ، لیکن دینے والے چار پانچ آدمی بھی اس پر اپنا ہاتھ کر فوٹو کھنچوانا ضروری سمجھتے ہیں _ کسی کی غربت کا اس سے بڑا مذاق میں نے آج تک نہیں دیکھا _

* مختلف پروگراموں میں اپنے فوٹو کھینچنا یا کھنچوانا اب عام سی بات ہو گئی ہے _ ان پروگراموں کا ریکارڈ رکھنا یا ان کی تشہیر کرنا مقصد ہو تب تو بات سمجھ میں آتی ہے ، لیکن بلا ضرورت محض شوقیہ طور پر مختلف زاویوں سے فوٹوز کی جھڑی لگادینا کہاں کی عقل مندی ہے _ آج کل پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں _ ان میں شرکت کرنے والے اپنا فوٹو کھینچ کر ان میں اپنی شرکت کا ثبوت پیش کرتے ہیں _ چنانچہ آج کل تصویر سازی کا سیلاب آیا ہوا ہے _

* آج کل سیلفی کا چلن بہت عام ہوگیا ہے _ یہ شوق نوجوانوں میں کچھ ضرورت سے زیادہ ہی ہے _ اس معاملے میں وہ بڑا ایڈوانچر بھی مول لے لیتے ہیں ، جس کی بنا پر حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں _ اس معاملے میں احتیاط کرنے اور حد میں رہنے کی ضرورت ہے _

* فوٹو کا فطری انداز تو کسی حد تک قابلِ قبول معلوم ہوتا ہے ، یعنی کوئی پروگرام ہو رہا ہو ، کوئی مظاہرہ ہو رہا ہو ، کوئی جلوس نکالا جا رہا ہو ، یا اور کوئی موقع ہو ، جس کا فوٹو کھینچا جا رہا ہے اسے خبر کیے بغیر اس کا فوٹو کھینچ لیا جائے ، لیکن یہ بالکل مناسب نہیں معلوم ہوتا کہ کوئی شخص پوری تیاری کے ساتھ خود اپنا فوٹو کھنچوائے _

* اپنا فوٹو کھینچنا یا کھنچوانا اور اسے سوشل میڈیا کی زینت بنانا ، اس میں بہت سے اندیشے ہیں ، مثلاً خود نمائی ، خود ستائی ، شہرت طلبی وغیرہ _ یہ سب دیکھتے ہوئے تصویر سازی موجودہ دور کا فتنہ معلوم ہوتا ہے _ کوشش کرنی چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہو ، خود کو اس سے محفوظ رکھا جائے _