غداری کے لیبل؟ عا رف نظا می

چونکہ مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے ذریعے میری حکومت گرانے کی کوشش کی تھی لہٰذا ان کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت سنگین غداری کے الزام میں مقدمہ چلنا چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ تازہ واکھیان سمجھ سے بالاتر ہے کہ کوئی جمہوری حکمران اپنے سیاسی مخالف کومحض اس لیے غدار قرار دے کہ اس نے حکومت گرانے کے لیے پرامن تحریک چلائی۔ ادھر مولانا کے مطابق چونکہ خان صاحب دھاندلی کی پیداوار ہیں لہٰذا نئے عام انتخابات کرائے جائیں، چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ ان کی کیا انڈرسٹینڈنگ تھی، یہ مولانا خود یا پرویز الٰہی ہی بتا سکتے ہیں لیکن مخالفانہ مہم کی پاداش میں سیاستدانوں کو غدار قرار دیا جانے لگا تو ایسی ناپسندیدہ روایت سے کوئی بھی نہیں بچ پائے گا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت اپوزیشن میں اپنی مہم جوئی کے دوران کیا کچھ نہیں کہتی اور کرتی رہی۔ تحریک انصاف کے سربراہ نے دھرنے کے دوران کنٹینر پر چڑھ کریہاں تک کہا کہ امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے، عوام اس حکومت کو ٹیکس اور بجلی کے بل نہ دیں۔اوورسیز پاکستانی بینکوں کے بجائے ہنڈی کے ذریعے پیسے بھیجیں۔ تو کیا اس وقت ان کے خلاف بھی غداری کا مقدمہ قائم ہونا چاہیے تھا۔

عدالت کی طرف سے قراردیئے گئے اصل غدار جنہوںنے ایک نہیں بلکہ دومرتبہ اپنے بوٹوں تلے آئین کو روندا ان کے بیرون ملک سے واپس آنے سے انکار پر بھی استغاثہ جو کہ اب موجودہ حکومت ہے بوجوہ قانونی چارہ جوئی کرنے سے ہی انکاری ہے۔ وہ وقت کب آئے گا کہ غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کی یہ فیکٹریاں ہمیشہ کے لیے بند کر دی جائیں۔ ایوب خان کے دور میں شیخ مجیب الرحمن کے خلاف اگرتلہ سازش کیس بنا کر اسے ہیرو بنا دیا گیا اور بعد ازاں مجیب الرحمن کے چھ نکات کو غداری کے مترادف قرار دے کر مشرقی پاکستان میں بغاوت کو کچلنے کے لیے فوج کشی کرنا پڑی اور یہ معاملہ اس حد تک مس ہینڈل ہوا کہ پاکستان کاآدھا حصہ بھارت کی عملی مدد سے ہم سے بھی الگ ہو گیا لیکن سقوط ڈھاکہ سے بھی ہم نے چنداں کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ما بعد سانحہ مشرقی پاکستان ذوالفقار علی بھٹو باقی ماندہ پاکستان کے وزیراعظم بنے انہوں نے بلوچ سرداروں کو غدار قرار دے کر وہاں کی جمہوری حکومت برطرف کردی۔ بلوچ سرداروں پر عراق کے ذریعے روسی اسلحہ حاصل کرکے وہاں خانہ جنگی کرانے کا الزام لگایا گیا۔ اس حوالے سے ولی خان اور کئی رہنما گرفتار ہوئے اور ان کے خلاف غداری کیس کے ٹرائل کے لیے حیدرآباد ٹربیونل تشکیل دیا گیا۔ پھر وقت نے کروٹ لی اور ایک فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالتے ہی حیدر آباد ٹربیونل ختم کرکے نیشنلسٹ رہنماؤں کو رہا کر دیا لیکن اس حوالے سے ہمارے مجموعی قومی رویوں میں قطعا ً کوئی فرق نہیں آیا۔11ستمبر 1989ء کو موچی دروازہ لاہور میں آئی جے آئی کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے میاں نوازشریف اور شیخ رشید نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو سکیورٹی رسک اور پاکستان کا دشمن قرار دیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بے نظیر بھارت کی بالادستی کیلئے کام کررہی ہیں۔ ان کا احتساب کیا جائیگا اور ’’بھٹوز‘‘کو بحیرہ عرب میں پھینک دیا جائیگا۔ ایک زمانے میں تومیاںنو ازشریف جو نہ صرف اسٹیبلشمنٹ کی ہی پیداوار بلکہ آنکھ کا تاراتھے۔ وہ بھی اپوزیشن میں ہوتے ہوئے وکیل کی وردی پہن کر میموگیٹ میں آصف زرداری کے خلاف خود پیروی کرنے کے لیے سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ آصف زرداری پر بھی الزام تھا کہ انہوں نے امریکہ میں سفیر حسین حقانی کے ساتھ مل کر اس وقت کے امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف مائیک مولن کو ایک میمو بھیجا کہ اس وقت کی فوجی قیادت کی ہماری حکومت کے خلاف سازشوں سے ہمیں بچائیں۔ستم ظریفی دیکھئے کہ جو اپنے دور وزارت عظمیٰ میں بڑے انقلابی اور فوج کی اجارہ داری اور غلبے کے خلاف ہو گئے وہ بھی غدار ٹھہرائے گئے۔ پہلے توان پرالزام لگایا گیا کہ وہ نریندر مودی کے پہلی بار وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد ان کے ساتھ دوستی کی پینگیں اپنے کاروباری مفادات کے لیے بڑھا رہے ہیں حالانکہ میاں صا حب کو غلط فہمی تھی کہ اٹل بہاری واجپائی کی طرح مودی بھی ہارڈ لائینر ہونے کے باوجود پاکستان سے دوستی کر لے گا۔ واضح رہے کہ واجپائی سے دوستی کرنے کے عمل کو پرویزمشرف نے ہی سبوتا ژ کرکے میاں صاحب کی حکومت کو 12اکتوبر 1999ء کو برطرف کیا تھا۔ تب بڑی شدت سے یہ نعرہ لگایا گیا کہ’’مودی کا جو یار ہے غدار ہے‘‘۔ کہا جاتا ہے اس نعرے کو عام کرنے میںکچھ خفیہ ہاتھ بھی شامل تھے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو جب رنگے ہاتھوں ان کے دور میں گرفتار ہوا تو اس وقت بھی الزام لگایا گیا کہ میاں صاحب نے بھارت کی مذمت نہیں کی۔

میاں نوازشریف کے بھارت کے سا تھ پینگیں بڑھانے کے طریقہ کار سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ان کی نیت پر شبہ کرنا قرین انصا ف نہیں۔ لیکن اس لحاظ سے میاں صاحب یقیناً غدار تھے کہ ان کی سیاست نے جس ادارے کی کوکھ سے جنم لیا تھا وہ اسی کو آنکھیں دکھا رہے تھے۔ ’ڈان لیکس‘ بھی کچھ اسی قسم کا معاملہ تھا۔ آج بھی یہ کھیل جاری ہے کہ جو بھی اپنے حقوق کی بات کرنے اور ان کے حصول کے لیے پرامن احتجاج بھی کرے اس پر غداری کا لیبل چسپاں کر دیا جا ئے۔ اس حوالے سے چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی عناصر کو پنجاب سے یہ شکایت رہتی ہے کہ اس کے ہاں سے ان کو اپنے حقوق کی آواز اٹھانے کی پاداش میں غدار قرار دینے کا رویہ جاری وسا ری ہے۔ لیکن یہ بھی بدقسمتی ہے کہ جب پنجاب سے حکمران بھی سرکاری سچ کو تسلیم کرنے کو انکارکر دیں تو وہ بھی غدار قرار دیئے جا تے ہیں۔ عمران خان تو ماشاء اللہ پٹھان ہیں، خیبر پختونخوا میں ان کی حکومت بھی ہے۔ انہیں اس قسم کی تنگ نظری سے بالا ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نے اپنے اس بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ میں کرپٹ نہیںاس لیے فوج میرے ساتھ ہے یقیناً خان صاحب ذاتی طور پر کرپٹ نہیں لیکن کیاجن مافیازکا وہ دن رات ذکر کرتے رہتے ہیں اور کرپٹ عناصر سے ان کی حکومت یکسر پاک ہے؟۔

اس بحث کے باوصف کرپشن کا قلع قمع کرنا سویلین حکومتوں کی ذمہ داری ہے یہ فوج کے فرائض منصبی میں شامل نہیں ہے۔ ویسے تو ماضی میں پاکستان کے قریباً ہر طالع آزما نے کرپٹ سیاستدانوں کی بیخ کنی کانعرہ لگا کر اقتدار پر شب خون مارا اور بعدازاں انہی سیاستدانوں کے ساتھ مل کر اپنے اقتدار کو دوام بخشا۔ اب میوزیکل چیئر کا یہ کھیل ختم ہونا چاہیے اور سیاستدانوں کو صاف شفاف احتساب کے لیے ادارے کی بنیاد رکھنی چاہیے۔ لیکن ابھی تک نیب کے قانون میں ترمیم کے حوالے سے ترمیمی ایکٹ پراتفاق رائے نہیں ہو پایا لیکن یہ بھی طرفہ تماشا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے نام پر جہاں پہلے حکومتیں گرائی جاتی تھیں اب کرپشن کے خاتمے کے نام پر ایک سیاستدان مخالف سیاستدانوں کو ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔