ہم پارلیمان کے خرچے کیوں اٹھائیں - آصف محمود

پارلیمان اگر اپنے اخلاقی وجود اور بنیادی ذمہ داریوں سے بے نیاز ہو چکی ہے تو معاشی بحران سے دوچار یہ غریب قوم اس مقدس ایوان کے اخراجات کیوں برداشت کرے؟2017 کے اسمبلی بجٹ کے مطابق پارلیمان کے ایک دن کے اجلاس کا اوسط خرچ 25 ملین سے زیادہ ہے۔

چار سال بعد افراط زر اور مہنگائی کی میزان پر اراکین پارلیمان کی بڑھتی ہوئی مراعات کا گواشوارہ رکھ کر حساب زیاں کیا جائے تو یومیہ خرچ یقینا چالیس ملین سے تجاوز کر چکا ہو گا۔ کیا معاشی بد حالی کے اس دور میں ایک دن کے اجلاس پر چار سو لاکھ روپے اس لیے خرچ کیے جاتے ہیں کہ اول مراد سعید کشتوں کے پشتے لگا دیں اور پھر عبد القادر پٹیل اس اسلوب میں غزل سرا ہوں جو بازار میں بھی متروک ہو چکا۔ اتنی سستی تفریح اتنے مہنگے داموں؟

پارلیمان کا احترام سر آنکھوں پر، سوال یہ ہے اس کی کارکردگی کیا ہے؟ معیشت سے امور خارجہ تک، کوئی ایک معاملہ بتا دیجیے جو اپنی پوری معنویت کے ساتھ یہاں زیر بحث آیا ہو۔

پارلیمان موجود ہے لیکن قانون سازی صدارتی آرڈی ننسوں کے ذریعے ہو رہی ہے۔سوشل میڈیا کے لیے قوانین بن رہے ہیں تو اتنی عجلت میں کہ پارلیمان میں بھی بحث تک گوارا نہیں۔کشمیر جیسے معاملے پر قرارداد آتی ہے تو کسی جماعت کے پارلیمانی رہنما سے مشاورت تک نہیں کی جاتی چنانچہ اس پر اعتراض اٹھتا ہے تو اسے واپس لینا پڑتا ہے اور شام ڈھلے بوڑھے سفارت کار حیران پائے جاتے ہیں کہ پہلی قرارداد زیادہ جامع تھی اسے واپس کیوں لیا گیا؟

پارلیمان میں لشکر اترے پڑے ہیں لیکن وزیراور مشیر بناتے وقت ان میں سے کوئی نگاہ یار میں جچتا ہی نہیں چنانچہ کابینہ کی مانگ غیر منتخب ستاروں سے منور ہے۔ کابینہ میں غیر منتخب حضرات کا تناسب تو دیکھیے، 34 فیصد۔

قانون سازوں نے اپنے لیے بڑی آسانی پیدا کر رکھی ہے۔قومی اسمبلی کے رولز آف بزنس کی دفعہ 5کے مطابق صرف ایک چوتھائی اراکین بھی موجود ہوں تو کورم پورا تصورکیا جاتا ہے۔اس کے باوجود ہم اکثر یہ خبر پڑھتے ہیں کہ کورم ٹوٹ گیا اور اجلاس ملتوی ہو گیا۔

سابقہ اسمبلی کے 74 فیصد اجلاس کا عالم یہ تھا کہ ان میں حاضری ایک چوتھائی سے بھی کم تھی۔نہ نواز شریف کو اسمبلی کی کارروائی میں کوئی دلچسپی تھی نہ عمران خان نے اپنے رویے سے ایسا کوئی تاثر قائم کیا ہے کہ وہ اسمبلی کی کارروائی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

پچھلی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈرز میں سب سے کم حاضریاں عمران خان کی تھیں تو اس کا جواز یہ پیش کیا جاتا تھا کہ وہ اس اسمبلی کو دھاندلی پیداوار سمجھتے ہیں لیکن اب جس اسمبلی نے انہیں وزیر اعظم بنایا ہے اس میں ان کی دل چسپی کا عالم یہ ہے کہ پہلے 34 اجلاسوں میں وہ صرف 6ا اجلاس میں موجود تھے۔

سمبلی کے رولز آف بزنس کے تحت ممبران کو باقاعدہ چھٹی کی درخواست دینا ہوتی ہے لیکن ریکارڈ گواہ ہے کہ اس تردد میں اراکین اسمبلی تو کیا،خود سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی نہیں پڑتے۔ہر محکمے کی چھٹیوں کا کوئی ضابطہ اور تادیب ہے لیکن اراکین پارلیمان سے کوئی سوال نہیں ہو سکتا کہ عالی جاہ آپ کو لوگوں نے منتخب کیا ہے تو اب ایوان میں آ کر اپنی ذمہ داری تو ادا کیجیے۔

یہ خود ہی قانون ساز ہیں اس لیے انہوں نے یہ عظیم الشان قانون بنا رکھا ہے کہ جو رکن اسمبلی مسلسل چالیس اجلاسوں میں نہیں آئے گا اس کی رکنیت ختم ہو جائے گی۔ غور فرمائیے، مسلسل چالیس اجلاس کی بات کی گئی ہے۔ قانون نہ ہوا تماشا ہو گیا۔

مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور پارلیمان کی بے نیازی تھمنے میں نہیں آ رہی۔ منتخب ایوان سے زیادہ یہ عوامی مسائل سے بے نیاز آسودہ حال لوگوں کا کلب محسوس ہونے لگا ہے جہاں اراکین پل بھر کو تفنن طبع کے لیے آتے ہیں اور ایک دوسرے کو گدگدا کر لوٹ جاتے ہیں۔

داخلی، خارجی، معاشی اور تزویراتی مسائل کا انبار لگا ہے لیکن معزز اراکین اسمبلی کے پاس ان معاملات میں ضائع کرنے کے لیے زیادہ وقت نہیں ہے۔پارلیمان کا اجتماعی شعور کم ہی بروئے کار آتا ہے۔ مختلف جماعتوں کے سربراہ ایک فیصلہ کر دیتے ہیں اور پارلیمان میں ان کے اراکین اپنے اپنے قائد کے حکم کی توثیق فرما کر فرائض منصبی ادا کر دیتے ہیں۔

حسرت ہی رہی کبھی پارلیمان میں ایسی سنجیدہ بحث ہو کہ ہم طالب علموں کو کچھ سیکھنے سمجھنے کا موقع ملے۔ اراکین اسمبلی کی افتاد طبع اور شعلہ بیانی قوم کے شعور اجتماعی کا مذاق اڑاتی رہتی ہیں اور ہم اسے پارلیمان کی کارروائی سمجھتے ہیں۔اگر فیصلے چند رہنماؤں نے ہی کرنے ہیں اور پارلیمان سے باہر کہیں بیٹھ کر کرنے ہیں، پارلیمان میں نہ بحث ہونی ہے نہ غوروفکر ہونا ہے بلکہ صرف ان فیصلوں کی تائید ہونی ہے تو اتنی بھاری بھرکم پارلیمان کس لیے؟

ان کے اخراجات دیکھیے جو غریب قوم برداشت کر رہی ہے۔مراعات کا ساون برس رہا ہے۔بنیادی تنخواہ کے علاوہ بارہ ہزار سات روپے کا اعزازیہ، سمپچوری الاؤنس کے پانچ ہزار، آفس مینٹیننس الاؤنس کے آٹھ ہزار روپے، ٹیلی فون الاؤنس کے دس ہزار روپے، ایڈ ہاک ریلیف کے پندرہ ہزار روپے، تین لاکھ روپے کے سفری واؤچرز یا بانوے ہزار روپے کیش، حلقہ انتخاب کے نزدیک ترین ائر پورٹ سے اسلام آباد کے لیے بزنس کلاس کے پچیس ریٹرن ٹکٹ، اس کے علاوہ الگ سے کنوینس الاؤنس کے دو ہزار، ڈیلی الاؤنس کے چار ہزار آٹھ سو ، اور ہاؤسنگ الاؤنس کے دو ہزار۔ذرا جمع تو کیجیے کتنے بنتے ہیں؟ موجودہ اور سابق تمام ممبران قومی اسمبلی اور ان کے اہل خانہ تاحیات 22 ویں گریڈ کے افسر کے برابر میڈیکل سہولت کے حقدار ہیں۔تمام موجودہ اور سابق اراکین قومی اسمبلی کی اہلیہ اور شوہر تاحیات بلیو پاسپورٹ رکھنے کے بھی مجاز ہیں۔

سینیٹ کو عملا عضو معطل بنا دیا گیا ہے۔سینٹر حضرات سوال اٹھاتے ہیں تو جواب دینے کوئی وزیر کم ہی وہاں جانے کی زحمت کرتے ہیں۔عالم یہ ہے کہ چار ماہ سینیٹ کا کوئی اجلاس ہی نہیں بلایا گیا اور پھر جب پارلیمانی سال ختم ہونے کو آیا تو معلوم ہوا ایک پارلیمانی سال میں کم از کم 110 اجلاس کی آئینی شرط پوری نہیں ہو پا رہی۔

گذشتہ سال 12 مارچ سے لے کر اس سال 17 جنوری تک سینیٹ کا اجلاس صرف 70 دن جاری رہ سکا۔ ان 70 دنوں کی حقیقت بھی بڑی دلچسپ ہے۔ اجلاس اگر جاری ہو اور بیچ میں ہفتہ وار یا کوئی اور چھٹی آ جائے تو اس چھٹی کو چھٹی نہیں سمجھا جاتا بلکہ یوں سمجھا جاتا ہے کہ اس دن بھی اجلاس ہو رہا تھا۔ چنانچہ چھٹیاں شامل کر کے یہ 70 دن بن رہے تھے ورنہ حقیقت میں سینیٹ کا اجلاس صرف 48 دن جاری رہ سکا تھا۔چنانچہ سب نے مل جل کر فیصلہ کیا کہ اب فروری کا سارا مہینہ اجلاس جاری رکھتے ہیں تا کہ 110 دن کی آئینی شرط پوری ہو جائے۔

مراعات کا البتہ وہاں بھی ساون برس رہا ہے۔کارکردگی کیا ہے؟ یہ کسی کو معلوم نہیں۔ایسی کوئی رسم یہاں پنپ ہی نہیں سکی کہ پارلیمانی سال کے اختتام پر پارلیمان سے کوئی دستاویز جاری ہو تا کہ عوام الناس کو معلوم ہو سکے اس کے منتخب اراکین کی کارکردگی کیا رہی۔

پارلیمان کی بالادستی کا تصور کا سر آنکھوں پر لیکن سوال وہی ہے پارلیمان اگر اپنے اخلاقی وجود اور بنیادی ذمہ داریوں سے بے نیاز ہو چکی ہے تو معاشی بحران سے دوچار یہ غریب قوم اس مقدس ایوان کے اخراجات کیوں برداشت کرے؟

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.