اسلامی معاشرہ - امم فرحان

اکثر سنا ہے کہ ہر کامیاب انسان کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ۔اور زیادہ تر ماں ہی کو یہ شرف حاصل رہا ہے چونکہ ماؤں کے زمے رب تعالی نے تربیت رکھی ہے۔مائیں ہی انسان کو اپنی تربیت سے سنوارتی ہیں۔اور مائیں ہی اپنی اولاد کو سچا مسلمان بنا سکتی ہیں ۔

اکثر سنا ہے کہ ہر کامیاب انسان کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ۔اور زیادہ تر ماں ہی کو یہ شرف حاصل رہا ہے چونکہ ماؤں کے زمے رب تعالی نے تربیت رکھی ہے۔مائیں ہی انسان کو اپنی تربیت سے سنوارتی ہیں۔اور مائیں ہی اپنی اولاد کو سچا مسلمان بنا سکتی ہیں ۔ دین سے لگن، دین کی سمجھ اور دین سے دلچسپی والدین ہی اپنی اولاد میں پیدا کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ خود اس رستے پر ہو- ہمیں اکثر بڑی دیر لگ جاتی ہے اس راستے پر آنے میں-ہم اپنی نوجوانی کو اکثر موج مستی اور عیاشی میں گنوا دیتے ہیں حالانکہ رب ذولجلال کو جوانی کی عبادت سب سے زیادہ محبوب ہے- اور ہم غافلوں کو ہوش یا تو ٹھوکر لگنے سے آتا ہے یہ پھر جن کہ ضمیر بیدار ہوتے ہیں تو وہ کسی کے ذریعے ملامت ہوجاتے ہیں ۔بےشک اللہ تعالی ہی ہدایت بخشنے والا ہے۔ ہر انسان کے دل میں ایک بار یہ سوال ضرور آتا ہےکہ آخر ہمیں کیوں پیدا کیا گیا ہے؟ کچھ تو اس کی کوجھ میں اللہ کی مدد سے اپنی دنیا اور آخرت سنوار لیتے ہیں تو کچھ شیطان کے بہکاوے میں آ کر ان فانی لذتوں کا لطف لینے میں مشغول رہتے ہیں ۔ اسلام کے پانچ ارکان ہیں ( عقیدہ توحید، نماز،زکوہ،روزہ، حج) اور بے شک پیارے آقا *حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم* آخری رسول ہیں۔ اسکول میں یاد کیے گئے یہ چند موٹے موٹے سوالات رٹ کر ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں .

کیا بس یہی ہمارا دین اسلام ہے؟ کیا یہ معلومات کافی ہے؟ یہ ہم کیسے مسلمان ہیں ؟ جب انسان اس پہلو سے سوچنا شروع کرتا ہے تو اللہ اسکو ان جوابات کی تلاش میں لگا دیتا ہے اور بےشک اللہ ہدایت عطافرماتاہے اسی کو جو اسکے طلبگار ہوتے ہیں ۔ لیکن کیا ہی خوب ہو کے ہمارا معاشرہ ہی اسلامی بنیادوں پر قائم ہوجائے۔ہمارے بچے ایک اسلامی ماحول میں پروان چڑھیں۔انہیں بچپن ہی سے وہ عادتیں اور باتیں سیکھائی جائیں جو ہمارا دین سیکھاتا ہے۔پیارے آقا کی سنتیں اپنائی جائیں انہی کی پیروکاری کی جائے۔بے شک پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی ہمارے لیے عملی نمونہ ہے اور یہی ہمارے لیے راہ نجات اور حکم خدا ہے۔اللہ تعالی والدین کو اولاد جیسی بہت بڑی نعمت سے نوازتا ہے۔ اور اولاد اللہ ہی کی امانت ہے والدین کا فرض بنتا ہے کہ اسکی پرورش اور تربیت میں کوئی کوتاہی نہ برتیں ۔ دین کی سمجھ دیں۔بچپن ہی سے ایسی عادتیں ڈالی جائیں کہ انکی روح میں رچ بس جائیں ۔ اور اس بارے میں والدین کو غوروفکر کرتے رہنا چاہیے کہ بچے کو کس طرح سیکھانا ہے۔اپنے لفظوں میں ترمیم کر لینے سے بڑا فرق پڑتا ہے ۔ اسکی ایک چھوٹی سی مثال ایسے کے اٹھو بیٹا ہاتھ منہ دھو لو کے بجائے وضو کرلو کہا جائے تو خود بخود باوضو رہنے کی عادت بن جائے گی ۔اور با وضو رہنے کے فوائد انسان کی شخصیت پر رونما ہوتے ہیں ۔

ایسے کئی پہلو ہیں جن پر ہم غور ہی نہیں کر پاتے۔ ہمیں اللہ تعالی سے مدد مانگتے رہنا چاہیے اور حبیب خدا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلائی ہوئی طرز زندگی اپنانی چاہیے اسی میں ہمارے لیے رہنمائی اور بھلائی ہے ہر وقت اپنا مواخذہ کرتے رہنا چاہئے دیکھیں کہ ہمارے ساتھ کوئی ایسا عمل اور ایسا رویہ تو نہیں جڑا جو حضور کے بتائے ہوئے طریقوں سے ہٹ کر ہے۔
اپنی زندگی کو حضور کے قدموں میں ڈال لیتے ہیں کہ ہمارا رویہ ہماری طرز زندگی ہمارا اندازحیات بتائے کے ہم حضور کے غلام ہیں۔غلامی رسول کو اپنی نس نس میں سمو لینے میں ہی عافیت اور کامیابی ہے۔ اللہ ہم سب کو زندگی میں سفیدپوشی، قبر میں کفن پوشی اور آخرت میں پردہ پوشی نصیب فرمائے۔آمین دین سے لگن، دین کی سمجھ اور دین سے دلچسپی والدین ہی اپنی اولاد میں پیدا کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ خود اس رستے پر ہو- ہمیں اکثر بڑی دیر لگ جاتی ہے اس راستے پر آنے میں-ہم اپنی نوجوانی کو اکثر موج مستی اور عیاشی میں گنوا دیتے ہیں حالانکہ رب ذولجلال کو جوانی کی عبادت سب سے زیادہ محبوب ہے- اور ہم غافلوں کو ہوش یا تو ٹھوکر لگنے سے آتا ہے یہ پھر جن کہ ضمیر بیدار ہوتے ہیں تو وہ کسی کے ذریعے ملامت ہوجاتے ہیں ۔بےشک اللہ تعالی ہی ہدایت بخشنے والا ہے۔ ہر انسان کے دل میں ایک بار یہ سوال ضرور آتا ہےکہ آخر ہمیں کیوں پیدا کیا گیا ہے؟

کچھ تو اس کی کھوج میں اللہ کی مدد سے اپنی دنیا اور آخرت سنوار لیتے ہیں تو کچھ شیطان کے بہکاوے میں آ کر ان فانی لذتوں کا لطف لینے میں مشغول رہتے ہیں ۔اسلام کے پانچ ارکان ہیں ( عقیدہ توحید، نماز،زکوہ،روزہ، حج) اور بے شک پیارے آقا *حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم* آخری رسول ہیں۔ اسکول میں یاد کیے گئے یہ چند موٹے موٹے سوالات رٹ کر ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں کیا بس یہی ہمارا دین اسلام ہے؟ کیا یہ معلومات کافی ہے؟ یہ ہم کیسے مسلمان ہیں ؟ جب انسان اس پہلو سے سوچنا شروع کرتا ہے تو اللہ اسکو ان جوابات کی تلاش میں لگا دیتا ہے اور بےشک اللہ ہدایت عطافرماتاہے اسی کو جو اسکے طلبگار ہوتے ہیں ۔لیکن کیا ہی خوب ہو کے ہمارا معاشرہ ہی اسلامی بنیادوں پر قائم ہوجائے۔ہمارے بچے ایک اسلامی ماحول میں پروان چڑھیں۔انہیں بچپن ہی سے وہ عادتیں اور باتیں سیکھائی جائیں جو ہمارا دین سیکھاتا ہے۔ پیارے آقا کی سنتیں اپنائی جائیں انہی کی پیروکاری کی جائے۔بے شک پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی ہمارے لیے عملی نمونہ ہے اور یہی ہمارے لیے راہ نجات اور حکم خدا ہے۔ اللہ تعالی والدین کو اولاد جیسی بہت بڑی نعمت سے نوازتا ہے۔ اور اولاد اللہ ہی کی امانت ہے والدین کا فرض بنتا ہے کہ اسکی پرورش اور تربیت میں کوئی کوتاہی نہ برتیں ۔

دین کی سمجھ دیں۔بچپن ہی سے ایسی عادتیں ڈالی جائیں کہ انکی روح میں رچ بس جائیں ۔ اور اس بارے میں والدین کو غوروفکر کرتے رہنا چاہیے کہ بچے کو کس طرح سیکھانا ہے۔اپنے لفظوں میں ترمیم کر لینے سے بڑا فرق پڑتا ہے ۔ اسکی ایک چھوٹی سی مثال ایسے کے اٹھو بیٹا ہاتھ منہ دھو لو کے بجائے وضو کرلو کہا جائے تو خود بخود باوضو رہنے کی عادت بن جائے گی ۔اور با وضو رہنے کے فوائد انسان کی شخصیت پر رونما ہوتے ہیں ۔ ایسے کئی پہلو ہیں جن پر ہم غور ہی نہیں کر پاتے۔ہمیں اللہ تعالی سے مدد مانگتے رہنا چاہیے اور حبیب خدا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلائی ہوئی طرز زندگی اپنانی چاہیے اسی میں ہمارے لیے رہنمائی اور بھلائی ہے ہر وقت اپنا مواخذہ کرتے رہنا چاہئے دیکھیں کہ ہمارے ساتھ کوئی ایسا عمل اور ایسا رویہ تو نہیں جڑا جو حضور کے بتائے ہوئے طریقوں سے ہٹ کر ہے۔اپنی زندگی کو حضور کے قدموں میں ڈال لیتے ہیں کہ ہمارا رویہ ہماری طرز زندگی ہمارا اندازحیات بتائے کے ہم حضور کے غلام ہیں۔غلامی رسول کو اپنی نس نس میں سمو لینے میں ہی عافیت اور کامیابی ہے۔ اللہ ہم سب کو زندگی میں سفیدپوشی، قبر میں کفن پوشی اور آخرت میں پردہ پوشی نصیب فرمائے۔آمین