تو تم واپس چلے جاو گے - زبیر منصوری

تو تم واپس چلے جاو گے؟ہمیں چھوڑ کر؟چلو ٹھیک ہے ۔ مگر اردوان ڈئیر آتے رہا کرو!تمہارے آنے سے نہ جانے کیوں کچھ اچھا اچھا سا لگتا ہے۔کبھی میری اس بد قسمت قوم کے بڑوں نے تمہارے پُرکھوں کو امید حوصلہ جذبہ اور محبت کے سندیسے بھیجے تھے وہ خلافت تحریک ،وہ جان خلافت پر دینے کی ولولہ انگیز باتیں وہ زرد سا رومال وہ ہمارا عبدالرحمن پشاوری۔

بھلے وقتوں کی بات ہے!جب ابھی غیرت و حمیت کا آتش جوان تھا اور تمہارے بڑوں کو ڈھارس اور حوصلے کی ضرورت تھی تب نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کے گلشن کے ان ہندی پھولوں نے اپنے ترک بھائیوں کے پاؤں میں چبھنے والے کانٹوں پر سوگ منایا تھا ان کے گھروں کے چولہے نہیں جلےتھے۔

آج تم حوصلہ مند ہو تم نے اپنے ہجوم کو قوم بنایا ہے تم ارتغل کی زبانی آج کے صلیبیوں کو کھلے پیغام دے رہے ہو تمہاری خدمت کی سیاست دیانت محبت اور امت کی بات نے ٹوٹی پھوٹی بکھری امت کو امید کی کرن دکھائی ہے۔

اچھے اردوان آتے رہا کرو ڈئیر!شاید تمہارے قدموں سےسلمان فارسی رض کے مزار کی مٹی ،سلطان محمد فاتح کے نعروں کی گونجارتغل یا عثمان بے کے گھوڑوں کےسموں سے اڑتی چنگاریوں کی گرمیمیری قوم کے مردہ وجود میں کوئی حرارت پیدا کر دےشاید یہاں بھی کوئی تمہاری قبا چوم کر عہد کرے کہ زہانت علم دانائی کو قوت میں ڈھال کر آج چلنے والے سکے تیار کرے گا۔
آتے رہا کرو اردوان ،آتے رہا کرو

تمہارے آنے سے لگتا ہے آج کی دنیا میں ہمارا بھی کوئی والی وارث ہےاپنوں پرایوں کے ہاتھوں اتنے دھوکے اتنے دکھ اتنے زخم کھا چکے ہیں کہ اب تو قوم کے وجود کا کوئی حصہ بھی کسی تیر کسی بھالے کسی تلوار کے زخم سے خالی نہیں بچا

آتے رہا کرو

اپنے لفظوں کی مرہم ہی رکھ دیا کرو

ایک مسکراہٹ ہی دے جایا کرو

آؤ گے ناں؟

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com