یوٹیلیٹی اسٹورز کا مطلب مزید مہنگائی - حبیب الرحمن

یوٹیلیٹی اسٹورز پر ایسی اشیا جس کے بغیر زندگی کی سانسوں کو رواں رکھنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے، عام بازار کی نسبت کم قیمت پر دستیاب ہونے کا آسان اور نہایت سلیس اردو میں مطلب ہے کہ مہنگائی کا مزید طوفان آنے والا ہے۔

میرے کالم کی یہ سطور پڑھنے والا یقیناً اس بات کو اتنی آسانی کے ساتھ نہیں سمجھ رہا ہوگا جتنی آسانی کے ساتھ میں نے یہ جملہ ادا کردیا ہے۔ پہلے تو اس بات پر غور کیا جائے کہ ملک کے طول و عرض میں کتنے یوٹیلیٹی اسٹورز ہیں۔ پھر ان کو پاکستان کے چھوٹے بڑے ملا کر لگ بھگ 100 شہروں پر تقسیم کر دیا جائے تو ہر شہر میں اوسطاً چار یا پانچ اسٹورز ہی آ پائیں گے۔ یہ اسٹور ہر فرد و بشر کے گھر سے سے جڑے ہوئے تو نہ ہونگے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ سارے کے سارے غریبوں اور ناداروں کی بستیوں کے قریب ہی ہوں۔

عام طور پر یہ ایسے مقام پر ہوتے ہیں جہاں غریب غربا کا گزر بہت مشکل سے ہی ہو پاتا ہے اس لئے ان اسٹوروں سے فائدہ اٹھانے والے غریب غربا کم اور متوسط یا اس سے اونچے طبقے والے زیادہ ہوتے ہیں۔ ان اسٹوروں کی لائینوں میں کھڑے جتنے بھی غریب نظر آ رہے ہوتے ہیں ان میں اکثریت متوسط یا متوول گھرانوں کے نوکروں ہی کی ہوا کرتی ہے جو صاحب لوگوں کے لئے سستی اشیا لے جا کر دس پانچ روپے کما لیتے ہیں اور اپنے لئے مہنگے بازار سے کھانے پینے کی چند اشیا اپنے گھر لیجانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

صبح سے نکلے شام کو گھر آنے والے ایک غریب آدمی کے پاس اتنا وقت ہی کب ہوتا ہے کہ وہ کئی کئی میل دور کسی یوٹیلیٹی اسٹور کا کھوج لگائے، وہاں پہنچے اور سستی اشیا خرید کر اپنے گھر لے جائے۔ نیز یہ کہ اس کے پاس روز اتنا پیسا ہی کب ہوتا ہے کہ وہ کلو یا دو اور پانچ کلو کے بند پیکٹ نقد خرید سکے۔ وہ تو گھر جاتے ہوئے محلے میں قائم ایک چھوٹی سی دکان سے پاؤ آدھا پاؤ دالیں، چینی، گھی یا کلو دو کلو آٹا بھی دکاندار سے ادھار خرید کر گھر لیجا تا ہے اور پھر کہیں نہ کہیں سے کچھ پیسوں کا انتظام کر کے اپنا ادھار اتارنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ یوٹیلیٹی اسٹورز بھی کسی غریب کیلئے بہت سود مند نہیں ہوا کرتے۔ پھر بھی ایسے افراد جن کو ہم متوسط طبقے میں شمار کرتے ہیں، انھیں ان اسٹوروں سے کسی حد تک فائدہ ضرور ہوجاتا ہے۔

قوم اس بات کو ابھی بھولی تو نہ ہوگی کہ موجودہ حکومت کو ملک کے طول و عرض میں پھیلے یہی یوٹیلیٹی اسٹورز آنکھوں میں کانٹوں کی طرح کھٹکا کرتے تھے۔ اسی موجودہ حکومت نے ان کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرتے ہوئے ان کی نہ صرف بیخ کنی کردی تھی بلکہ دہائیاں دینے کے باوجود ہزاروں ملازمین کو فارغ کردیا تھا۔ اسی حکومت کے نزدیک یوٹیلیٹی اسٹورز نہ صرف قوم پر بوجھ تھے بلکہ ان کے ملازمین اور عملہ کرپشن کی دلدل میں گردن تک دھنسا ہوا نظر آتا تھا۔

ڈیڑھ سال سے بھی زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد اچانک یہی یوٹیلیٹی اسٹورز نہ صرف امریکا و یورپ کے حسینوں سے بھی زیادہ خوب صورت نظر آنے لگے بلکہ اتنے قابلِ بھروسہ ہو گئے کہ حکومت ان تمام اسٹوروں میں مہنگی اشیا خرید کر سستے داموں فرخت کرنے کا حکم نامہ بھی جاری کر رہی ہے بلکہ ان سارے حرامخوروں سے یہ توقعات بھی باندھ لی گئی ہیں کہ یہ "کارپوریشن" فرشتوں سے بھی کہیں بڑھ کر دیانتداری سے کام لیتے ہوئے اپنے ذاتی کاروبار نہیں چمکائے گی۔ بات یہی ہے کہ ہر وہ فیصلہ جو انتقام میں اندھا بن جانے کے بعد کیا جاتا ہے اسے لاکھ تھوکا جائے، انسان چاٹنے پر مجبور ہو کر رہتا ہے اور وہی کچھ اپنے اب تک کے دورِ حکومت میں خان کی حکومت کرتی چلی آ رہی ہے۔

جیسا کہ آغاز میں کہا گیا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کا آسان اور سہل اردو میں مطلب مزید مہنگائی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔ بات بہت سادی اور سہل ہے کہ یوٹیلیٹی پر جو اشیا عام مارکیٹ سے کم قیمتوں پر مہیا کی جائیں گی وہ حکومت اپنے کھیتوں یا ملوں میں تو تیار نہیں کرتی ہو گی۔ اب یا تو ان اشیا کو مارکیٹ سے مہنگے داموں خرید کر حکومت سستے داموں بیچے گی یا پھر ان ہی ملوں، کارخانے داروں اور زمینداروں کو اس بات پر مجبور کریگی گی کہ وہ ان اسٹوروں میں اپنی پیداوار اصل لاگت سے بھی کم قیمت پر فراہم کریں۔ ہر دو صورتوں میں ہونے والے نقصان کو کہیں نہ کہیں سے برابر کیا جائے گا۔

اگر حکومت ایسا کرتی ہے کہ وہ مہنگے داموں خرید کر سستے داموں بیچتی ہے تو اس رقم کو مزید ٹیکس لگا کر اس دیئے گئے "رزِ تلافی" کی تلافی کریگی اور اگر مہیا کی گئی اشیا مل مالکان اور زمینداروں سے لی گئی ہونگی تو پھر وہ اس مہربانی کے صلے میں عام بازاروں میں اپنے پروڈکس اور اجناس کو پہلے سے بھی مہنگے داموں فروخت کرکے عوام کا لہو نچوڑیں گے۔ لہٰذا عوام کو یہ بات خوب اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ مہربانیاں حکومت کی جانب سے کی جائیں یا "مہربانوں" کی جانب سے، اس کی سزائیں غریب عوام ہی کو بھگتنا پڑتی ہیں۔

پاکستان میں پہلی بار ایسا نہیں ہو رہا کہ کسی بھی شے کی قیمت آسمان کی بلندی تک لیجانے سے پہلے یوٹیلیٹی اسٹورز کا شوشہ نہ چھوڑا گیا ہو۔ طریقہ واردات کچھ یوں رہا ہے کہ پہلے بازار میں اچانک ہر زرعی اور صنعتی پیداوار کی قیمت میں زبر دست اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ اس اضافے سے عوام پریشان ہو کر جب ہتھے سے اکھڑنے لگتے ہیں تو پھر تمام کی تمام اشیا کو ذخیرہ کرکے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کر دی جاتی ہے۔ ٹھیک ان ہی ایام میں حکومتی سطح پر عوام دوستی کے مروڑوں کا شور بلند ہوتا ہے۔

ذخیرہ اندوزوں کو گالیاں پٹخاری جاتی ہیں اور پھر بازار میں دستیاب اس وقت کی بڑھی ہوئی قیمت سے کچھ فیصد کم داموں میں وہی مہنگی چیزیں یوٹیلیٹی اسٹوروں پر مہیا کرکے ایک جانب عوام کو خوش کردیا جاتا ہے تو دوسری جانب پہلے بڑھی ہوئی قیمت میں مزید دس بیس فیصد کا اضافہ کرکے پورے پاکستان میں ساری کی ساری اشیا کے ڈھیر لگادیئے جاتے ہیں۔ اس طرح غریب عوام میں ساکھ بھی برقرار رہتی ہے اور مل مالکان و زمینداروں کے چہروں کی سرخی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

کس کو یاد نہیں کہ ٹماٹر سو روپے میں 6 سے 7 کلو تک مل رہا تھا۔ اچانک 400 روپے سے بھی تجاوز کر گیا۔ آج کل 50 روپے فی کلو بآسانی مل جاتا ہے۔ 4 سو روپے کے مقابلے میں 50 روپے فی کلو سستا گنا جائے گا یا نہیں؟۔ اسی طرح عام مارکیٹ میں چینی کی زیادہ سے زیادہ قیمت 48 اور 53 کے درمیان تھی۔ اچانک وہ 70 اور 75 روپے فی کلو تک جا پہنچی تو مارکیٹ سے غائب کر دی گئی۔ یہی صورت حال آٹے، دال، گھی اور دیگر اشیا کے ساتھ تھی جس سے عوام پریشان ہو گئے اور حکومت کے خلاف شدید رد عمل سامنے آنا شروع ہو گیا تو اچانک وہی یوٹیلیٹی اسٹورز جو موجودہ حکومت کو پاکستان کی معیشت پر بوجھ لگ رہے تھے اور جن کے ملازمین کو گھر بھیج دیا گیا تھا، رحمت کا فرشتہ لگنے لگے اور ان میں دوبارہ ہوا بھر کے عوام کیلئے کھول دیا گیا۔

عوام کو ہونے والے گیم پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے اور وہ گیم یہ ہے کہ مہنگائی کے بم پر بم گرائے جائیں گے۔ وہی چینی، آٹا، گھی جو عام مارکیٹ میں علی الترتیب 50، 43 اور 140 روپے فی کلو مل رہے تھے وہی سب کچھ علی الترتیب 70، 55 اور 175 روپے فی کلو یوٹیلیٹی اسٹورز پر ملے گا۔ گویا مارکیٹ میں جو اشیائے صرف اس وقت کم و بیش اسی قیمت میں مل رہی ہیں، اب اس قیمت پر یوٹیلیٹی اسٹوروں میں دستیاب ہونگی۔ کیا اس کا صاف صاف مطلب یہ نہیں کہ کھلی مارکیٹ میں اب جو اشیائے بھی فروخت ہونگی وہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر ملنے والی اشیا کے مقابلے میں 25 سے 40 فیصد زائد نرخ پر بآسانی مل سکیں گی۔ اسی بات کی ترجمانی آج کے جسارت اخبار کی "شہ سرخی" کر تی نظر آ رہی ہے۔ آج (12 فروری 2020) کے اخبار کی سب سے بڑی سرخی ہی کچھ یوں ہے کہ "حکومت نے مہنگائی کو قانونی شکل دیدی"۔

اس سے پہلے بھی یوٹیلیٹی اسٹورز پر سستی اشیا ملا کرتی تھیں اور وہ عام مارکیٹ کی نسبت نہایت کم قیمت ہوا کرتی تھیں جس کا سب سے بڑا ثبوت ان اسٹوروں پر لگنے والی لمبی لمبی لائینوں سے لگایا جاسکتا تھا لیکن اس مرتبہ عالی مرتبت حکمرانِ اعلیٰ نے اس فرق کو اس لئے کم رکھا ہے کہ لوگوں کو یوٹیلیٹی اسٹورز پر زیادہ ذلیل نہ ہونا پڑے۔

اس خبر کی مزید تفصیل کچھ یوں ہے کہ "وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں معاشی صورتحال پر غور کیا گیا، جس کے بعد چینی کی سرکاری قیمت 68روپے سے بڑھا کر70روپے اور گھی 170 روپے سے بڑھا کر 175روپے فی کلو کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ کابینہ نے 15ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جس کا اطلاق صرف یوٹیلیٹی اسٹورز پر ہوگا، آٹا، چاول اور دالوں کی قیمت میں 15سے 20روپے کمی کا فیصلہ بھی کیا گیاہے"۔

خبر میں درج تفصیل سے اس بات کا اندازہ لگانا اب کوئی مشکل نہیں رہا ہے کہ جب یوٹیلیٹی اسٹوروں پر مہیا ہونے والی ہر شے کے نرخ اگر چند دن قبل تک مارکیٹ میں فروخت ہونے والی اشیا کے مساوی ہیں تو پھر عام مارکیٹ میں وہی اشیا کن بلند و بانگ نرخوں میں دستیاب ہونگی۔ قوم کو چاہیے کہ کہ وہ اپنی کھال اتروانے کیلئے پوری طرح ذہنی طور پر تیار رہے تاکہ مزید مہنگائی کا اچانک صدمہ اس کی جان ہی نہ لے بیٹھے۔