عملی اقدامات ورنہ قصہ پارینہ- عا رف نظا می

تحریک انصاف کی حکومت کرپشن کے حوالے سے رپورٹ پر ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پر خاصی برہم ہے ۔اس رپورٹ کے مطابق 2019 ء میں کرپشن کے تاثر میں تین پوائنٹس اضافہ ہوا۔ اس لحاظ سے غصہ بجا ہے کہ خان صاحب کی حکومت کا تو بنیادی نکتہ ہی یہ ہے کہ ہم کرپشن کا خاتمہ کرنے آئے ہیں۔ وہ قریباً بلا ناغہ اپنی تقاریر میں دہراتے رہتے ہیں کہ وہ کرپٹ سیاستدانوں جن سے ان کی مراد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت ہوتی ہے کو نہیں چھوڑونگا ۔ابھی ڈیووس میں بھی انھوں نے فرمایا ہے کہ کرپشن ایسا ناسور ہے جس کی سرجری بہت ضروری ہے، کرپٹ لو گ جان بوجھ کر ناامیدی کی باتیں پھیلا رہے ہیں ۔دوسری طرف معاون خصوصی برائے اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان حق نمک ادا کرتے ہوئے اس حد تک چلی گئیں ،ان کے مطابق یہ رپورٹ تعصب پرمبنی ہے اور اسے باقاعدہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پلانٹ کیا گیا ۔ اس ضمن میں انھوں نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے پاکستان چیپڑ کے سابق سربراہ عادل گیلانی کا حوالہ دیا کہ ان کا شمار میاں نواز شریف کے حواریوں میں ہوتا ہے کیونکہ سابق دور میں انھیں سفیر بھی بنایا گیا جبکہ موجودہ حکومت نے ان کی سفارت ختم کردی تھی ۔یہ ستم ظریفی ہے کہ خان صاحب اپنے دور اپوزیشن میں متعدد بار حکومتی کرپشن کے حوالے سے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس کا حوالہ دیتے تھے اب جبکہ ان کی حکومت پر آنچ آئی ہے تو حکومتی حلقوں میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے حالانکہ دیکھا جائے تو متذکرہ رپورٹ کرپشن کے تاثر کے بارے میںہے۔

اگر اس تاثر میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے تو یہ یقینا حکومت کا قصور ہی تصور کیا جائے گا۔لیکن حکومتی ترجمانوں نے اس خرابی کے لیے مسلم لیگ (ن) کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔ محترمہ فردوس عاشق اعوان نے موجودہ حکومت کی راست بازی کے حوالے سے بھی کہا ہے کہ موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کی ہے حالانکہ متذکرہ رپورٹ اور موڈیز کی ریٹنگ ایک دوسرے سے منسلک نہیں بلکہ الگ معاملات ہیں۔ ٹرانسپرنسی کی رپورٹ میں کچھ سفارشات بھی کی گئی ہیں جن میں بڑے بڑے متمول اور دولت مند لابیوں کا سیاست میں اثرونفوذکم کرنے اور مفادات کا ٹکراؤ ختم کرنا قابل ذکر ہے ،مزید برآں میڈیا اور سول سوسائٹی کی آزادی کی بھی بات کی گئی ہے۔جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے خان صاحب تو ہر وقت ناراض ہی رہتے ہیں ۔ابھی انھوں نے ڈیووس میں عجیب بات کی ہے عوام اخبار پڑھیں نہ ٹی وی ٹاک شوز دیکھیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کیا ایسا کرنے سے پاکستان کے سارے مسائل حل ہو جائیںگے۔ جہاں تک پیسے والوں کے اثر ورسوخ کا تعلق ہے تو ایسے لوگوں کی تو حکومت کے اندرونی حلقوں میں خاصی بہتات ہے ۔مفادات کے ٹکراؤ کا قانون کرپشن کی بیخ کنی کے لیے لازم ہے لیکن اس بات پر تو اپوزیشن بھی نہیں مانے گی کیونکہ اکثر عوامی نمائندے حکومت میں آ کر اپنے کاروباری مفادات کی آبیاری کرنے کو قطعاً معیوب نہیں سمجھتے ،اسی بنا پر وہ سیاستدان بھی جو پہلے جاگیردار اور زمیندار تھے اب صنعت کار بھی بن گئے ہیں ۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی یہ رپورٹ واقعی ناقابل یقین ہے اور بجائے جوش اور جذباتی انداز سے اس پر ردعمل ظاہر کرنے کے اس کا تجزیہ کرنا ضروری ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کیونکر اس نتیجے پر پہنچی کہ کرپشن کے تاثر میں اضافہ ہو اہے ۔ خان صا حب کے لیے یہ رپورٹ اس لیے دکھ بھری ہے کہ وہ تو تبدیلی کے پیامبر بن کر آئے تھے لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے ان سے ان کے حواریوں کی بہت سی امیدیں وابستہ تھیں جو تاحال نقش برآب ثابت ہوئی ہیں۔ یقینا خان صا حب ایک انتہائی زیرک اور کامیاب سیاستدان کے طور پر ابھرے ہیںیہ کوئی معمولی بات نہیںتھی کہ انھوں نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی جیسے برگد کے نیچے تحریک انصاف کا پودا لگایا جو تن آور درخت بن گیا ۔ یہ انہی کی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ تحریک انصا ف ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے ۔انھوں نے اپنی طلسماتی شخصیت کے ذریعے ان نوجوان خواتین وحضرات کو گرمایا جو اس سے پہلے ووٹ ڈالنا تو کجا سیاست میں بھی دلچسپی نہیں لیتے تھے ۔ وزیراعظم ایک حقیقت پسند شخصیت بھی ہیں انھوں نے اس کا مکمل ادراک کر لیا تھا کہ مقتدر قوتوں کی حمایت اور آشیرباد کے بغیر نہ تو اقتدار میں آیا جا سکتا ہے اور نہ ہی حکومت کی جا سکتی ہے ۔

وہ درست ہی تو کہتے ہیں کہ جس طرح ان کا تال میل فوجی قیادت سے ہے ان کے پیشروئوں کا اس کا عشر عشیر بھی نہیں تھا ۔ان کی حقیقت پسندی کا ایک اور مظہر مقتدر قوتوں کی مدد سے 2018 ء کے الیکشن سے پہلے الیکٹ ایبل امیدواروں کو اپنے ساتھ ملانا تھا۔ ایسا کرنے سے وہ حکومت بنانے میں توکامیاب ہو گئے لیکن موثر ٹیم نہیں بنا سکے ،بہت سے پی ٹی آئی کے کارکن جو واقعی تبدیلی کا خواب دیکھ رہے تھے کچھ بددل سے ہو گئے ہیں کہ یہ تو وہی مخصوص مفادات کے حامل لوگ ہیںجو پہلے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں پائے جاتے ہیں۔ مخلوط حکومت بنانے کے حوالے سے جیسا کہ آج کل عیاں ہو رہا ہے انھیں اپنے حواریوں کی بلیک میلنگ کا بھی شکار ہونا پڑتا ہے ۔اس تناظر میں گزشتہ ڈیڑھ برس کی حکمرانی کے دوران گورننس کے معاملات چوپٹ ہیں اور اکانومی بھی بحال نہیں کی جا سکی ۔مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل کی بنا پر عوام کا جینا دوبھر ہو گیا ہے لیکن خان صاحب یہ کہتے نہیں تھکتے کہ اکانومی ٹھیک ہوگئی ہے اور اب خوشحالی کا دور شروع ہونے والا ہے لیکن جب عوام لاکھوں گھروں ، کروڑوں نوکریوں کے وعد ے یاد دلاتے ہیں تو پی ٹی آئی کی قیادت آئیں بائیںشائیں کر دیتی ہے ۔ اس پس منظر میں وقت آ گیا ہے کہ خان صاحب کچھ بنیادی فیصلے کریں کیونکہ اب محض یہ کہہ کر کہ مخصوص مافیاز اور میڈیا ہمارے خلاف ہے ،بات نہیں بنے گی ۔ انھیں اپنی ٹیم سے نالائقوں کو فارغ کرنا چاہیے ۔سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کی کتاب ’’ لیڈرز‘‘ میں پڑھ رہا تھا کہ یہ لیڈر شپ کا امتحان ہوتا ہے کیونکہ کرپٹ لوگوں کی نشاندہی آسان ہوتی ہے لیکن نااہل لوگوں کی بیخ کنی زیادہ مشکل ہوتا ہے ۔

امریکہ میں مقیم ماہر اقتصادیات ڈاکٹر عاطف میاں نے ٹویٹر پر ایک حالیہ سروے کیا جس کے مطابق نااہلی اور کرپشن دونوں ناسور ہیں لیکن ان کی اپنی رائے میں نااہلی کرپشن سے بھی بڑا ناسور ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ٹرانسپرنسی کی رپورٹ کے مندرجات اور معروضی حالات کا جائزہ لے کر طرز حکمرانی میں تبدیلی لائیں۔ اس ضمن میں ایک بنیادی مسئلہ اپوزیشن کے ساتھ پارلیمنٹ میں بقائے باہمی کے ساتھ قانون سازی کرنا ہے جس سے حقیقی احتساب اور قانون کی حکمرانی کو فروغ حاصل ہو۔ صرف اسی صورت ہی پی ٹی آئی کی حکومت کو دوام حاصل ہوسکتا ہے ،بصورت دیگر جیسا کہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ یہ حکومت بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح تاریخ کے اوراق میں گم ہو جائے گی ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */