الفاظ کا مذاق- مجیب الرحمان شامی

وزیر اعظم عمران خان ورلڈ اکنامک فورم کے اندر اور باہر اپنی قادرالکلامی کی دھوم مچا کر واپس اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ یہاں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ ان کا استقبال کرنے کے لیے موجود تھی جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اِس رپورٹ پر پہلے دن تو وزیروں اور مشیروں نے محتاط انداز میں اظہارِ خیال کیا۔ لگی لپٹی رکھے بغیر گفتگو کرنے والے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے اسے نچلی سطح کی کرپشن کا شاخسانہ قرار دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بالائی سطح پر پاکستان میں کرپشن نام کی کوئی شے موجود نہیں؛ تاہم نچلی سطح پر اس کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن ایک ہی روز بعد ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سمیت کئی حکومتی عہدے دار ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پر حملہ آور ہو گئے۔ یہ رپورٹ نہ تو کوئی مقدس صحیفہ ہے، اور نہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا۔ اس پر ایمان لانا ضروری ہے نہ اس کا مذاق اڑانا، یہ تو مختلف ممالک کے بارے میں ہر سال جاری ہونے والا ایک پرسیپشن انڈیکس ہے۔ اپوزیشن لیڈر کے طور پر وزیر اعظم عمران خان اس رپورٹ کو بڑی اہمیت دیتے رہے ہیں، اس حوالے سے ان کی گفتگوئیں ویڈیوز میں محفوظ ہیں، اور مختلف ٹی وی چینلز پر بار بار دکھائی اور سنائی جا رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی ان کو دہرایا اور پھیلایا جا رہا ہے۔ خان صاحب ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹوں کی بنیاد پر ماضی کے منصب داروں کو جس طرح نشانہ بناتے رہے، اور جس طرح ان کو کرپشن کا منبع قرار دیتے رہے، اس کی روشنی میں ایک مضحکہ خیز صورتِ حال پیدا ہو چکی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل جو بھی ہے، اور اس کا تحریک انصاف کی طرف سے جو بھی جواب دیا جائے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو گورننس کے مسائل کا سامنا ہے۔ صوبوں میں اطمینان کی لہر ہے نہ مرکز میں۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی براہِ راست حکومت ہے۔ پنجاب میں اس کی اکثریت مسلم لیگ (ق) کی مرہون منت ہے۔ اگر وہ مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرے تو حالات مختلف ہو جائیں، لیکن خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو صوبائی اسمبلی میں بھاری اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ وہاں اپوزیشن میں یہ سکت نہیں کہ اُسے چیلنج کر سکے یا اس کے لیے خطرہ بن سکے۔ وہاں اس کی اپنی صفوں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں، وہاں گھر کے چراغ ہی گھر کو جلا سکتے ہیں، یہ چراغ کب اور کس طرح بھڑکیں گے یہ کہنا مشکل ہے۔ بلوچستان میں تحریک انصاف کی حکومت نہیں، لیکن اس کے اتحادی وزیر اعلیٰ موجود ہیں، صرف سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ایسی ہے کہ جس پر مرکز کا بس نہیں چل رہا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور وفاق میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے براہِ راست اثرات وزیر اعظم پر پڑ رہے ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران، اور اس سے بھی پہلے پاکستان میں جو کچھ ہوتا رہا، وہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ اس دوران ہماری سیاست میں کئی نئے ابواب کا اضافہ ہوا۔ بہت کچھ ایسا ہوا جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا، اور جس کا تذکرہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ ستر سال کے دوران پاکستانی قوم کو خرگوش سمجھ کر اس پر کئی تجربات کیے گئے ہیں، ہر تجربہ کرنے سے پہلے نتائج کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کیے گئے یا یہ کہیے کہ تجربہ سازوں نے بڑے بڑے سبز باغ دکھائے، اکثر تجربوں کے نتیجے میں کا لاباغ دیکھنے کو ملے۔ گزشتہ عام انتخابات جس ماحول اور جس انداز میں ہوئے، اس کے اپنے اثرات ہیں۔ نتیجتاً تحریک انصاف کو اقتدار مل گیا، اور اس کی حریف اول مسلم لیگ (ن) اپوزیشن کی بھول بھلیوں میں کھو گئی۔ عمران خان صاحب نے کرپشن کے حوالے سے جو مہم چلائی، اور اپنے مخالفین کو جس جس طرح کرپٹ ''ثابت‘‘ کیا، وہ خان صاحب کی قادرالکلامی پر تو دلیل بن گئے، لیکن توقعات کے جو انبار لگائے گئے، اب لوگ اس حوالے سے سوال کرتے ہیں تو ان کو جواب نہیں مل پاتا۔ خان صاحب اور ان کے رفقا کو کبھی میڈیا پر غصہ آتا ہے تو کبھی اپنے حریفوں پر، اس کا حل یہ تلاش کیا گیا ہے کہ نہ شام کے ٹی وی پروگرام دیکھے جائیں، اور نہ اخبارات میں چھپنے والی خبروں کا مطالعہ کیا جائے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عمران خان ایک طاقتور شخصیت کے مالک ہیں۔ انہوں نے کم و بیش اکیس سال اپوزیشن لیڈر کے طور پر جدوجہد کی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو 1965ء کی جنگ کے بعد فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت سے الگ ہوئے تھے (یا کر دیے گئے تھے) 1967ء میں انہوں نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی، اور 1970ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف پُرجوش مہم چلائی، لیکن یہ عرصہ صرف دو سال پر محیط تھا۔ ایوب خان کو 1969ء میں دستبردار ہونا پڑا۔ انہوں نے یحییٰ خان کے مارشل لاء کی پناہ لے کر اقتدار چھوڑ دیا۔ یحییٰ خان کے ساتھ بھٹو صاحب کا ''رومانس‘‘ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ کم و بیش دو سال کی اپوزیشن نے انہیں اپنی منزل سے ہم کنار کر دیا۔ نواز شریف جنرل ضیاء الحق کے دور میں صوبائی وزیر بنے، پھر پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ ان کے حصے میں آئی۔ جنرل ضیا حادثۂ بہاولپور کی نذر ہوئے تو ان کی باقیات کی قیادت نواز شریف کے حصے میں آ گئی۔ وہ پہلے اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) اور بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کے ذریعے آگے بڑھتے گئے۔ وزارتِ عظمیٰ نے ان کے قدم چوم لیے۔ نواز شریف کی سیاست جنرل ضیاء الحق کی وراثت کو سنبھال کر جوان ہوئی۔ بعد ازاں دوسرے عوامل شامل ہوتے گئے، اُنہیں اپوزیشن کا مزہ بھی چکھنا پڑا، ان کی سیاست نے اس کھٹالی میں بہت کچھ بدل ڈالا۔ اب وہ جس صورتِ حال سے دوچار ہیں، ان کے اپنے اقتدار کے دوران ہی اس نے اُنہیں لپیٹ میں لے لیا تھا۔ وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی اپنی حفاظت نہ کر سکے، اور انوکھے انداز میں ایوانِ اقتدار کو چھوڑنے پر مجبور کر دیے گئے۔ ان کے خلاف قائم مقدمات ابھی تک عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، وہ بیرون ملک علاج کرا رہے ہیں، لیکن ان کی سیاست ابھی تک اپنے وجود کا احساس دِلا رہی ہے۔

عمران خان نے اپوزیشن لیڈر کے طور پر جو طویل اننگ کھیلی، وہ نہ ذوالفقار علی بھٹو کے حصے میں آئی، نہ نواز شریف کو اس تجربے سے دوچار ہونا پڑا، لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ خان صاحب خود کو اپوزیشن کے خول سے باہر نہیں نکال پا رہے۔ اپنے مخالفین پر پلٹنے اور جھپٹنے سے ان کا خون گرم رہتا ہے۔ انتخابی مہم کے لہجے سے ان کو نجات نہیں مل پا رہی۔ قومی اور بین الاقوامی فورمز پر ان کا اظہارِ خیال پُرزور ہوتا ہے، وہ بے تکان بولنے کا اپنا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ تاریخ، سیاست، معیشت ہر موضوع پر یکساں بے تکلفی سے اظہارِ خیال کر سکتے ہیں، مختلف واقعات سے اخذ کیے جانے والے نتائج بھی ان کے اپنے ہوتے ہیں، فی البدیہہ اظہارِ خیال پر ان کو داد بھی ملتی ہے۔ ان کے مداح جھوم جھوم بھی جاتے ہیں، لیکن نتائج وہ برآمد نہیں ہو پاتے، جن کی امیدیں بندھوائی گئی تھیں۔ لوگ تجزیے یا فلسفے کے بجائے عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔ الفاظ کا جادو بڑی اہمیت رکھتا ہے، سیاست میں اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن آہستہ آہستہ اس کے اثرات کم ہوتے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے اپنے اتحادی، ان کی اپنی جماعت کے ارکان جو آوازیں بلند کرنے لگے ہیں، اختلاف کا اظہار کرنے لگے ہیں، بے اطمینانی کو زبان دینے لگے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ لفظوں کا جادو ٹوٹ رہا ہے۔ الفاظ میں عمل کا بارود نہ بھرا جائے، تو یہ چاروں شانے چت گرتے ہیں، اور یاد رکھیے، الفاظ اکیلے نہیں گرتے، ان کو بھی ساتھ لے کر گرتے ہیں، جو ان کا پاس نہیں کرتے۔ اپنے ہی الفاظ کا مذاق اڑانے والے بالآخر مذاق بن جاتے ہیں۔