بسنت کی حقیقت قسط نمبر۲- محمدبرھان الحق جلالی

(1):۔ مشہور و معروف عوامی شاعر نظیر اکبر آبادی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ''کلیاتِ نظیر آکبر آبادی''کے صفحہ نمبر 413میں تقریباتِ اہل ہنود کے عنوان سے بسنت کے موضوع پر لکھتے ہوئے اس کو ہندوانہ تہوار قرار دیا ہے۔

(2):۔ اسی طرح ایک ہندو منشی رام پر شاد ماتھر ہیڈ ما سٹر آف گورنمنٹ ہائی سکول پنشز اپنی کتاب ''ہندو تیو ہاروں کی دلچسب اصلیت ''میں رقم کرتا ہے۔کہ

بسنت پنچمی :
اب فصل کے بارآور ہو نیکا اطمینان ہو چلا کچھ عرصہ میں کلیاں کھل کر تمام کھیت کی سبزی زردی میں تبدیل ہونے لگی۔ اسلئے کا شتکار کے دل میں قدرتی امنگ اور خوشی پید ا ہوتی ہے اور وہ ماگھ کے آخر ہفتہ میں بسنت پنچمی کے روز زرد پھولوں کو خوش خوش گھر لا کر بیوی بچوں کو دکھاتا ہے اور پھر سب ملکر بسنت کا تہوار مناتے ہیں۔ پھر زرد پھول اپنے کانوں میں بطور زیور لگا کر خدا سے دعا کرتے ہیں کہ اے پرماتما ہماری محنت کا پھل عطا کر اور پھولے ہوئے درختوں میں پھل پیدا کر۔ پھر لکھتا ہے کہ بسنت پنچمی کو وشنو بھگوان کا پوجن ہوتا ہے۔

(ہندو تیوہاروں کی دلچسپ اصلیت ، منشی رام پرشاد ،مطبوعہ دی فائن پریس لکھنؤ۱۹۴۲؁ء)

میرے مسلمان بھائیوں :۔
اس ہندو کی تحریر سے بھی ثابت ہو گیا کہ بسنت اہل ہنود کا تہوار ہے لہٰذا میرے بھائی یہ دیکھ کہ مسلمان مصنفین نے تو اسے اہل ہنود کا تہوار قرار دیا ہے مگر دیکھ اس ہندو مصنف نے بھی یہ ظاہر کر دیا ہے کہ بسنت اہل ہنود کا تہوار ہے۔ میرے بھائی ذرا سوچ تو ان کا تہوار مناتا ہے۔ جو کہ مسلمانوں پر حملہ کرتے ہیں۔ تو ان کا تہوار مناتا ہے جو کہ تیرے معاشی دشمن ، مذہبی دشمن، معاشرتی دشمن ، ثقافتی دشمن ہیں۔ کیا کبھی انہوں نے مسلمانوں کے تہوار بھی منائے ہیں۔

(3):۔ ایک سکھ مؤرخ ڈاکٹر بی۔ ایس نجار نے اپنی کتاب ''پنجاب آخری فعل دورحکومت میں '' کے صفحہ نمبر 279میں لکھتا ہے کہ' 'پنجاب کا بسنت میلہ اس گستاخ ِرسول اور گستاخ اہل بیت (حقیقت رائے) ہندو کی یاد میں منایا جاتا ہے ''۔اب سکھ مؤرخ کی کتاب سے بھی یہ ثابت ہو گیا ہے کہ بسنت کا تہوار مسلمانوں کا نہیں بلکہ اہل ہنود کا تہوار ہے جو وہ اس گستاخ رسول کی یاد میں مناتے ہیں۔ اب عاشقانِ رسول۔ نبی کے نام لیوا۔ نبی کا کلمہ پڑھنے والوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ان اہل ہنود کے تہوار کو منا کر اپنی عاقبت خراب کریں۔ انہیں زیب نہیں دیتا کہ وہ ایک گستاخ کی یاد منا کر اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائیں۔

(4):۔اسلامی تاریخ کے نامور مشہور و معروف و محقق ، قابل فخر سائنسدان علامہ ابوریحان البیرونی نے اپنی شہرہ آفاق و مستند کتاب ''کتاب ہند'' کے باب نمبر76میں رقم فرمایا (عیدیں اور خوشی کے دن کے عنوان سے) کہ بسنت ہندوؤں کا دن ہے۔ '' آپ مزید رقم فرماتے ہیں کہ '' اس دن عید منائی جاتی ہے۔ برہمنوں کو کھلاتے ہیں۔ دیوتاؤں کی نذر چڑھاتے ہیں ''۔اس سے بھی ظاہر ہو کیا کہ بسنت خالص اہل ہنود کا تہوار ہے

(5):۔ انڈیا کی ایک انتہا پسند ہندو تحریک شیو سینا کے سر براہ بال ٹھاکرے نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ ''لاہور میں بسنت ہندو مذہب کی عظیم کامیابی ہے '' میرے مسلمان بھائیوں:۔اب ذرا ہوش کرو کہ بال ٹھاکرے کیا بیان دے رہا ہے۔ ان کی عظیم کا میابی تو ہے ہی کیونکہ اس سے مسلمان بے دین ہو رہے ہیں۔ شیطان خوش ہو رہاہے رحمان ناراض ہو رہا ہے۔ مسلمانوں میں حیاء و شرم ختم ہو رہی ہے۔ میرے بھائیوں ابھی بھی وقت ہے کہ تم اپنے آپ کو ان تہواروں سے بچاؤ۔

یہ بھی پڑھیں:   بسنت کی حقیقت (قسط نمبر ۱) محمد برھان الحق جلالی

(6):۔ ''تاریخ لاہور'' کے مشہور مصنف ''سید محمد لطیف'' اپنی کتاب میں بسنت کو ہندوؤں کا تہوار قرار دیتا ہے اور مزید کہتا ہے کہ یہ حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتاہے۔ انہوں نے لکھا

سمادھ حقیقت رائے :۔
یہ لاہور سے دو میل کے فاصلے پر مشرقی جانب موضع کوٹ خواجہ سعید کے مشرق میں واقع ہے۔ حقیقت رائے سترہ سال کا ایک ہندو لڑکا تھا۔ اس کا جھگڑا مسلمان لڑکوں سے ہو گیا۔ اس نے ان لڑکوں کی طرف سے دیوتاؤں کو نا شائستہ الفاظ کہنے کے رد عمل میں اسی قسم کے کلمے کہہ ڈالے۔ اس کو قاضی کے پاس لے جایا گیا۔ قاضی نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف ناشائستہ زبان استعمال کرنے پر سزائے مو ت سنا دی۔ حاکم لاہور نے قاضی کے فیصلے کو توثیق کرتے ہوئے اعلان کیا۔ اگر یہ لڑکا اسلام قبول کر لے تو اسکی سزا معاف ہے۔

وہ اپنے آباؤ اجداد کے دین پر خلوص دل سے کار بند تھا۔ لہٰذا اس کو پھانسی دے دی گئی۔ہندو اس کے مقبرے کی بڑی تعظیم کرتے ہیں کثیر تعداد میں جا کر اس کے آگے سر جھکاتے ہیں۔ اس سمادھ پر بسنت کا سالانہ میلا ہوتا ہے۔اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ بسنت ایسا میلہ ہے جو کہ ہندووؤں کا تہوار ہے اور اس گستاخ رسول کی یادمیں منایا جاتا ہے۔ا ب یہ ہماری غیرت کا سوال ہے کہ ہم ایسے گستاخ کی یاد منائیں۔

ذرا سوچئے کہ بسنت ہندو مذہب کا ایک مذہبی تہوار ہے اور اس کی اصل غرض و غایت گستاخی رسول و فاطمہ ہے۔ ہم ناصرف اس میں دلچسپی لیتے ہیں بلکہ جان و مال کی بازی لگادیتے ہیں ہمیں ڈرنا چاہئے کہ کہیں قیامت والے دن ہم گستاخان رسول میں نہ شمار ہو جائیں۔ قیامت والے ہم آقا کریم علیہ الصلوٰۃوالسلام کو کیا منہ دکھائیں گے؟ ذرا سو چئے کہ ہم ان کی رسومات منا رہے ہیں کہ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: ''یہ کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے ''۔ کیا ہم کتاب اللہ کو بھی نہیں مانیں گے۔

اور ہندو یہود کی رسومات منا کر ہم اپنا شمار کن میں کر رہے ہیں جبکہ آقا علیہ الصلوٰۃوالسلام نے فرمایا کہ ''مَن تشبہ بقومٍ فَھْوَ مِنہم '' اپنا انجام سوچ لیجئے۔علمائے کرام نے بھی پتنگ بازی کو ناجائز قرار دیا ہے۔ پتنگ بازی کا موجد چین کو کہا جاتا ہے اور چین میں پتنگ بازی کا آغاز کچھ مؤرخین کے مطابق 3000(تین ہزار) سال قبل ہوا۔ اس وقت یہ رواج تھا کہ بانس لے کر اس کے فریم میں سلک کے کپڑے جوڑ کر اس کواڑایا جاتا تھا۔ چین کے بعد پتنگ بازی ایشیا میں آئی۔ اس کے بعد امریکہ ، افریقہ اور آسٹریلیا وغیرہ میں جا پہنچی بہر حال اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ بسنت ہندو انہ رسم ہے۔ جو کہ گستاخ رسول و فاطمہ کو بے قصور سمجھنے والوں کی رسم ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک گستاخ رسول واجب القتل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بسنت کی حقیقت (قسط نمبر ۳) - محمدبرھان الحق جلالی

آج ایک طرف عالم کفر اسلام کے خلاف، ناموس رسول ، ناموس اہل بیت کے خلاف نبرد آزما ہے۔ تو دوسری طرف ہم ہیں کہ ہم خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہم ہنود و یہود کی رسوم منانے میں مشغول ہیں ہم تو نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔

اسی کی عکاسی قلندرِ لاہوری نے یوں کی۔

وضع میں تم نصارٰی تو تمدن میں تم ہنود

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

ہندو بھی سوچتے ہوں گے کہ ہم نے اتنا اہتمام بسنت منانے کا نہیں کیا جتنا مسلمان کر رہے ہیں۔ یہ عاشقانِ رسول ہیں۔ افسوس۔ مسلمان رات بھر پتنگ بازی میں مصروف ہیں ڈیک لگے ہوئے ہیں سپیکر آن ہیں۔ لائٹنگ ہوئی ہے۔ پیلے کلر کے کپڑے پہنے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہوٹلوں کی چھتیں بک ہیں ہر طرف مرد و عورت کا اختلاط عام ہوتا ہے۔ اسراف ہی اسراف۔ فضول خرچی ہی فضول خرچی۔ اسلامی حدوود کو پائمال کیا جاتا ہے۔ آہ یہ مسلمانوں کا حال ہے۔ڈیک، ساؤنڈ سپیکر لگا کر شرفاء کو اذیت دی جاتی ہے۔ آس پاس کے لوگوں کو تنگ کیا جاتا ہے۔ ان کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے۔

شرح الصدور میں ہے کہ بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ برے خاتمہ کے چار اسباب ہیں۔

۱۔نماز میں سستی ، ۲۔ شراب نوشی ۳۔والدین کی نافرمانی ۴۔ مسلمانوں کو تکلیف دینا۔

(شرح الصدور ص 27مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

اور اس خبیث ہندوانہ رسم میں مسلمانوں کو تکلیف بھی دی جاتی ہے۔ شراب نوشی عام ہوتی ہے۔ شراب پی کر اچھا برا سب کو بھول جاتے ہیں۔ اس خبیث رسم کی وجہ سے نماز رہ جاتی ہے۔ کئی گھروں میں والدین اگر اپنے بچوں کو منع کریں تو یہ فیشن ایبل جنریشن والدین کو گالی گلوچ اور برا بھلا کہتی ہے اس خبیث رسم میں اپنے آرام کا خیال نہیں ہوتا تو ساتھ ساتھ دوسروں کے آرام میں خلل ڈالا جاتا ہے۔ اگر شرح الصدور کی مندرجہ بالا عبارت کو دیکھا جائے تو سوچنا چاہئے کہ ہم اپنے برے خاتمہ کا سامان تیار کر رہے ہیں۔ میں اپنے بھائیوں کو تکلیف دے کر صرف لفظ Sorryکہہ دیتے ہیں۔ اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ کیاہر معاملہ میں یہ کہہ دینا کافی ہیں۔

نفس یہ کیا ظلم ہے ہر وقت تازہ جرم ہے

ناتواں کے سر پہ اتنا بوجھ بھاری واہ واہ

بہر حال رسم پاکستان میں بڑھتی جارہی ہے۔ ہمارا الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا اس کو بہت کوریج دے رہا ہے۔ ہمارے کچھ بچوں کے والدین ایسے بھی ہیں جو خود بھی اس گناہ میں شامل ہو تے ہیں۔بسنت ایک کھیل تماشا ہے۔ لہو واجب میں شامل ہے اور قرآن کو رو سے لہو واجب حرام ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد خداوندی ہے کہ

ترجمہ: اور کچھ لوگ کھیل کی بات خرید تے ہیں۔ کہ اللہ کی راہ سے بہکائیں بے سمجھے اور اسے بنا لیں ان کیلئے ذلت کا عذاب ہیں۔
جاری ہے۔