قرآن پڑھنے کی ترغیب دلاتا لوک گیت

علاقائی ادب کی بات کی جائے تو اس میں مقامی بولیاں بہت اہمیت رکھتی ہیں اور ان میں مقامی ثقافت کا رنگ نمایاں‌ ہوتا ہے۔ خاص طور پر لوک گیتوں کی چاشنی اور مٹھاس کی وجہ ان میں شامل مقامی بولیوں کے الفاظ ہوتے ہیں۔

بھارت میں روہیل کھنڈ اور اس کے مضافات کی بولیاں وہاں کے لوک گیتوں کی روح ہیں۔ روہیل کھنڈ کی بولی کو روہیلی کہا جاتا ہے جہاں کے مقامی ادب میں بھوجپوری، راجستھانی اور اودھی وغیرہ کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔

روہیل کھنڈ میں مسلمان بھی آباد ہیں اور ان میں‌ بھی لوک گیت بہت پسند کیے جاتے ہیں۔ اس علاقے کے لوک ادب کو اگر صرف مسلم ثقافت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس میں مذہبی عقائد اور اسلامی تعلیمات کا ذکر بھی ملتا ہے۔

مسلمانوں‌ میں‌ جب بچہ کچھ بڑا ہوتا ہے تو والدین اسے قرآن پاک پڑھانا شروع کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک مقامی گیت ملاحظہ کیجیے جس میں ایک ماں اپنے بچے کو اس طرف راغب کرتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کرتی ہے۔

چندا میرے قرآن پڑھ لے

بھولے بھالے قرآن پڑھ لے

تیرے مکتم پہ پھول گلاب کا

ترے بکتم پہ پھول گلاب کا

تیرے نائی پہ نور برسے

تیرے بھائی پہ نور برسے

چندا، بنڑے، قرآن پڑھ لے

بھولے بھالے قرآن پڑھ لے