گھاس پھونس کی بادشاہی - قادر خان یوسف زئی

حکومت اس وقت کسی سیاسی بحران میں مبتلا ہے یا نہیں، اس کے بجائے عوام کو اس سوال کا جواب نہیں مل پا رہا کہ ان کے مسائل کب حل ہوں گے۔ پاکستان جیسے حالت جنگ کا منظر پیش کررہا ہو، دشمن ملک کے ساتھ جنگ ہو رہی ہو اور عوام کو مختلف بحرانوں کا سامنا ہو۔

مہنگائی اور بے یقینی اپنے عروج پر پہنچی ہوئی ہے تو دوسری جانب ملک کے اصل دشمنوں نے عام عوام پر اشیا خورد نوش کی ذخیرہ اندوزی و اسمگلنگ سے بحران پیدا کردیا ہے۔ پاکستان سے مہنگے داموں افغانستان اسمگل کئے جانے والے مختلف اشیاء خوردنوش کی وجہ سے عوام کو ایک بار پھر آٹے کی شدید قلت کے بحران کا سامنا ہے۔ ذخیرہ اندوز کسی طور پر بھی مملکت کی غریب عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہیں، اس پر کرپٹ عناصر کے ساتھ ملی بھگت کی وجہ سے غریب عوام کی پہنچ سے آٹا بھی دور ہوتا جارہا ہے۔ ارباب اختیار کے خزانے بھرنے کا نام ہی نہیں لے رہے، کوئی بھی بڑا جرم سرکاری اہلکاروں و حکام کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا، اگر اسے دوسرے لفظوں میں کہا جائے کہ سرکاری حکام کی مرضی کے بغیر جرم پَر بھی نہیں مار سکتا تو غلط نہ ہوگا۔

بر خود آنرا کہ پادشاہی نیست

بر گیاہیش پادشاہ شمار

یعنی جس شخص کو اپنی ذات پر حکمرانی نہیں تو اسے صرف گھاس پر بادشاہ شمار کرو (وہ ایک ایسا بادشاہ ہے جسے ایک تنکے پر بھی اختیار نہیں۔)۔ بجلی آئے یا نہ آئے، لیکن بھاری بھرکم بل آنا کبھی تاخیر کا شکار نہیں ہوتا۔ گیس کا بحران تو ایسا لگتا ہے کہ جسے دشمنوں نے آئل فیلڈ پر (خدا نخواستہ) حملہ کرکے پورے ملک میں گیس کی فراہمی ہی روک دی ہو۔ گھروں کی چولہے ہوں، گاڑیا ں، اسمال بزنس یا تجارتی ادارے، ان سب کا پہیہ جیسے رک سا گیا ہو، کمزور ترین معیشت جہاں عوام کی کمر پر تابڑ توڑ نت نئے ٹیکس کے کوڑے برسا رہی ہو وہاں سخت سرد ی سے بھی یخ معاشی اداروں کی پیداواری صلاحیت نقطہ انجماد کی بدترین سطح پر گر چکی ہے۔ نہ جانے نوکر شاہی ہاتھی کے کس کان میں سو رہے ہیں کہ انہیں عوام کی چیخیں سنائی نہیں دی رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پڑھتا جا شرماتا جا - ریمنڈ ڈیویس

کانوں میں اگر روئی بھی ٹھونس لی جائے تو بھی بلکتی، سسکتی چیخوں کی آہ وزاری سے مُردہ دلوں میں احساس کی کوئی رگ پھڑک اٹھتی، لیکن لگتا یہی ہے کہ انسانیت بھی مَر گئی ہے اور ضمیر تو کئی عشروں سے تعفن دے رہا ہے۔ حکومت کی نا اہلی کہیں یا اداروں کی سازش، ان سب کا نشانہ صرف عوام بن رہے ہیں۔

علما اکرام نے بڑی صراحت کے ساتھ ذخیرہ اندوزی کے معمانعت سے آگاہ کیا ہے کہ ایسی ذخیرہ اندوزی جس سے معاشرہ کے افراد تکلیف میں آجاتے ہیں۔دام مصنوعی طور پر بڑھادئیے جاتے ہیں یا دام بڑھنے کی صور ت میں ان اشیاء کی فروخت بند کردی جاتی ہیں۔حالانکہ لوگ طلب میں لگے ہوئے ہوتے ہیں جیسا کہ آجکل، چینی،آٹا، پیٹرول وغیرہ سے متعلق کہا جارہاہے، اسلام میں ایسی ذخیرہ اندوزی ناجائز ہے،احادیث میں اس پر بہت سخت وعیدیں آئی ہیں چند وعیدات ملاحظہ ہوں۔ 1۔ حضرت معمرؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذخیرہ کرنے والا خطا کار ہے۔

2۔حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون ہے۔ 3۔حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے مسلمانوں کے خلاف غذائی اجناس کا ذخیرہ اندوزی کیا، اللہ تعالیٰ اس پر،غربت افلاس اور جذام کی بیماری مسلط کردینگے۔(مشکوٰۃ باب الاحتکار)4۔ ناپ تول میں کمی کرنا حرام ہے، سورہ مطففین اسی کے متعلق نازل ہوئی، حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم،شرک کے ساتھ ناپ تول میں کمی کی وجہ سے ہلاک ہوئی۔ عیب بتائے بغیر عیب دار مال فروخت کرنا،جھوٹی قسم کھا کر مال فروخت کرنا،عمدہ چیز بتاکر گھٹیا دینا، پرانی اشیاء کو نئے کے ساتھ بتائے بغیر فروخت کرنا، جن اشیا ء کی مدت ختم ہوچکی ہے، تاریخ ھٹا کر فروخت کرنا، یہ تمام امور دھوکہ اور فریب ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   خصائص وامتیازاتِ صدیق اکبر (حصہ چہارم)-مفتی منیب الرحمن

حکومت چاہے کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کی ہو، ان تمام حالات کی ذمے داری اُس پر عاید ہوتی ہے کہ عوام کو پہنچنے والی تکالیف کو دور کرے۔ کسی بھی ایک فرد کو پہنچنے والی تکلیف کی باز پرس بارگاہ الہی میں ریاست کے ذمے داروں سے ہوگی۔ کوئی لیل و حجت بارگاہ ایزدی میں قابل قبول نہیں ہوگی، کسی سیاسی مفاہمتوں کے جواز یا الزامات سے ریاست کے کرتا دھرتا مبرّا نہیں ہوسکتے، انہیں میزان الہی کے سامنے ذرّے ذرّے کا جواب دینا ہوگا، صرف ریاست ہی نہیں بلکہ عام آدمی بھی میزان سے نہیں بچ سکے گا، معاشرے میں پیدا شدہ ناہمواریوں میں کسی ایک غلط انتخاب کا جواب بھی دینا ہوگا۔ ماضی میں کسی بھی سیاسی جماعت یا حکومتی ارباب و اختیار یا اُن کے سہولت کاروں نے جو کچھ بھی کیا ہو، اس کا جواب اُنہیں دینا ہوگا۔

دنیا کی عدالت سے چاہے کسی طور بھی بچ جائیں لیکن ایک عدالت ایسی ہے جہاں کسی کی سفارش، رشوت، اقربا پروری یا کسی بھی مقدس ہستی سے نسبت کام نہیں آئی گی، کائنات کے چھوٹے سے چھوٹے ذرے کے برابر بھی حساب لیا جائے گا۔ رائی برابر نا انصافی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود کہ وہ یہ سب کچھ بھلا دیں اور اپنی زندگی کے چند روزہ مفاد کے لئے اپنی آخرت خراب کرلیں، تو اُنہیں تباہ و برباد ہونے سے کون روک سکتا ہے۔ عوام و ریاست اِس وقت قدرت کی بہت بڑی آزمائش سے گذر رہی ہیں، یہ خوف و بھوک کا وہ عذاب ہے جو ملک و قوم پر مسلط نا اہل حکمرانوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کی وجہ سے نازل ہوا ہے۔

سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ ایک بستی کی مثال بیان کرتا ہے کہ اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو،اللہ نے ان کے کرتوتوں کا مزا یہ چکھایا کہ ان پر بھوک اور خوف (کا عذاب) مسلط کردیا(112)۔ ایک لمحے کے لئے ضرور سوچیں کہ ہمیں ہمارے اعمال کے سبب اللہ تعالیٰ سزا تو نہیں دے رہا۔