حکمرانوں کے نام - خضر خان مھمند

آج دل خون کے آنسوں رو رہا ہے کہ میں ایک صحافی لکھائی کے علاوہ کچھ کر نہیں سکتا اپ کو یاد ہوگا جب قصور کا سانخہ پیش ایا تو ملک بر میں غم وغصہ پایا گیا اس دوران ایک وزیر جس کا نام علی محمد خان ھے اس نے جذباتی طور پر عوام کی ترجمانی کی اور پارلیمان میں ایک جذباتی تقریر کی جس کے الفاظ کیوں یوں تھے کہ کہ جب ننھے زینب نے آسمان کے طرف دیکھا ہوگا تو اللہ تعالیٰ کی عرش بھی لرز اٹھا ہوگا۔

آج کے دن ہم نے اکھٹے ہوکر قانون سازی کرنی ہوگی دس بندوں کو سرعام چوک پر لٹکا دیں پھر میں دیکھتا ہوں کہ کون یہ حرکت کرتا ہے جس سے علی محمد خان نے لوگوں کے دل جیت لیا پر وقت گزرتا گیا اور ملک بر میں بچوں کے ساتھ ذیاتی کے بعد قتل کے واقعات بڑھتے گے اور ایک ایسا وقت آگیا کہ علی محمد خان جس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس میں بھی ایک بچے جس کا نام فرخان ھے اس بچے کے ساتھ ذیاتی اور پر قتل پر جناب علی محمد خان نے کوئی تبدیلی والے ایک بھی اقدام نہیں اٹھایا اور حسبِ روایت شدید الفاظ میں مذمت کیاا ور پھر وقت گزرتا گیا اور پھر نہ کوئی قانون بنا اور نہ کوئی انصاف اور پھر وقت گزرتا گیا اور اب نوشہرہ میں ایک بچی حوض نور کو تشدد کے بعد قتل کر دیا اور یوں یہ پھر مذمت کرتے رہے اور میرا کالم ادھورا رہ جائے گا ۔ کیونکہ یہ لوگ تو مذمت کے سوا کچھ کر نہیں سکتے کاش کہ ہمارے معاشرے اور تمام دنیا میں کوئی ایسا واقع پیش نہ آئےاللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ میرا یہ کالم ادھورا رھے تاکہ اس میں مذید کو شہزادیں اور شہزادیاں شامل نہ ہو اللہ تعالیٰ ان حکمرانوں کو توفیق دے کہ کہ تقریر سے عملی طور پر اقدامات کریں