سکون کی نیندیں سلانے کا عزم - حبیب الرحمن

فیس بک میں ایک چھوٹی سی تحریر لگی تھی اور وہ کچھ یوں تھی کہ 'عمران خان 2038 میں ایک بار پھر سے انتخابات میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ اِس وقت پاکستان کی آبادی کل 2 لاکھ رہ گئی ہے"۔ بات بہت غلط بھی نہیں لگ رہی اس لئے کہ مہنگائی کا گراف جس تیزی کے ساتھ بلند ہوتا جارہا ہے۔

اس سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ لوگ اب یا تو بہت جلد اپنی آخری آرام گاہ کی جانب روانہ ہوجائیں گے جہاں بقول وزیرِ اعظم پاکستان، قبر ہی ایسی جگہ ہے جہاں انسان کو سکون نصیب ہو سکتا ہے یا پھر (ہزار بار خدا نخواستہ) پاکستان ہی مختصر ہوتے ہوتے اتنا رہ جائے گا کہ کسی قصبے سے بھی کم میں سمیٹا جاسکے گا۔

گزشتہ اٹھارہ ماہ سے پاکستان کی معیشت جس بری طرح تباہی و بربادی کی جانب بڑھتی جا رہی ہے اس سے تو کچھ ایسا ہی معلوم ہو رہا ہے کہ فیس بک میں طنزاً لکھی گئی چھوٹی سی تحریر اپنے اندر حقیقت کی بڑی گہرائی لئے ہوئے ہے۔ ہر قسم کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، آمدنیوں پر ٹیکسوں پر ٹیکس لگائے جانا، بے روزگاری کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور ملک میں جرائم کا مسلسل بڑھتے جانا اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ اگر موجودہ حکومت کا تسلسل اسی طرح برقرار رہا تو 2038 تو بہت دور کی بات ہے 2030 سے بھی پہلے پاکستان کی آبادی شاید 2 لاکھ بھی نہ رہ پائے۔

مہنگائی کس دور میں نہیں بڑھی؟، پاکستان میں ایک دورِ حکومت بھی ایسا نہیں آیا جس کے متعلق یہ نہ کہا جا سکے کہ یہ وہ سنہری دور تھا جب مہنگائی کے آگے بند باندھ دیئے گئے تھے۔ بہت پہلے ایسا ہوا کرتا تھاکہ ملک میں جو بھی مہنگائی کی لہر آیا کرتی تھی وہ بجٹ پیش کئے جانے کے بعد ہی آیا کرتی تھی۔ پھر ایسا ہونے لگا کہ ہر سال بجٹ کے بعد درمیان درمیان میں ایک منی بجٹ اور آنے لگا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ بجٹ تو بس ایک ایسا مسودہ بن کر رہ گیا جو وزیر مالیات کو مصروف رکھنے کیلئے بس ایک بہانہ تھا جس کو پیش کرنے کے بعد پارلیمنٹ کے طاقوں میں سجا کر رکھ دیا جاتا تھا اور پھر پورے سال اس کی دھجیاں بکھیر بکھیر کر عوام کی وہ خاطر مدارات کی جانے لگی کہ عوام کو دن میں تارے نظر آنے لگتے تھے۔ اس سب کے باوجود عوام گزشتہ حکومتوں کے اس لئے ممنون و مشکور نظر آتے کہ چلو ہمیں جو کچھ بھی بھگتنا ہے وہ ایک سال ہی کیلئے بھگتنا ہو گا مملکن ہے کہ آئندہ برس بہتری کی کوئی صورت نظر آ جائے۔ لیکن اب تو معاملہ اس حد تک ابتر ہو چکا ہے کہ گھنٹوں اور منٹوں کے حساب سے بازار میں قیمتوں کے نرخ بدل رہے ہیں اور انتظامیہ بے بسی کی تصویر بنی تماشہ دیکھ رہی ہے۔

ویسے تو ہمارے وزیر اعظم کے منھ سے نکلا ہر وعدہ و دعویٰ حقیقت کے بر عکس ہی ثابت ہوتا نظر آیا ہے لیکن لگتا ہے کہ ایک بات ایسی بھی ہے جس کے نہ تو دائیں اور نہ ہی بائیں کوئی ایسا کٹ نظر آرہا ہے جہاں سے عمران خان صاحب "یوٹرن" لے کر اپنے یوٹرن لینے کی روایات کو قائم رکھ سکیں۔ وہ بات "میں ان کو تکلیف دونگا، میں ان کو رلاؤنگا" والی بات ہے۔ اُس وقت تو ایسا ہی لگ رہا تھا کہ یہ بات وہ نواز شریف اور ان کے سہولت کاروں اور زرداری اور ان کے جیالوں کیلئے کہہ رہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ اس قسم کا کوئی بھی تاثر خود عوام نے از اخذ کر لیا ہوگا کیونکہ وہ سارے کے سارے تو سرکاری خرچے پر اپنا ہر دکھ اور غم اٹھانے کے بعد جیل کی سلاخوں کے باہر نہایت عیش و عشرت کے ساتھ ہنستے مسکراتے نظر آ رہے ہیں اور وہ عوام جو اس فریب میں مبتلا ہوگئے تھے کہ ملک کے خزانوں کو چاروں ہاتھو پیروں سے لوٹنے والے احتساب کے انگاروں پر لوٹتے، چیختے چلاتے اور کراہتے نظر آئیں گے ۔

یہ بھی پڑھیں:   ہوش میں توآگئے پر لانے والا کون ہے- حبیب الرحمن

وہ تو سب عیش و طرب کی زندگی گزار رہے ہیں اور چیخیں خود خوش فہمی میں مبتلا ہوجانے والے عوام کی آسمانوں کی بلندی کو چھو رہی ہیں۔بے ایمان حکومتوں کے دور میں روزگار کے مواقع بھی بڑھتے جا رہے تھے، مہنگائی بھی قابو سے باہر نہیں تھی، عوام پر ٹیکس کا بوجھ بھی کم تھا، بجلی گیس اور پٹرول بھی کہیں سستا تھا، سرکاری ہسپتالوں میں نہ جانے کتنے مہنگے مہنگے ٹسٹ ایسے تھے جو مفت ہوا کرتے تھے، علاج کی سہولیات بھی میسر تھیں، ملک میں ترقیاتی کام بھی دیکھنے میں آ رہے تھے، گیس اور بجلی کا بحران بھی ختم ہو گیا تھا، ملک میں امن و امان کی صورت حال بھی بہت بہتر تھی۔

حکمران تو حکمران، ان کی اولادوں کو بھی وائٹ ہاؤس میں پزیرائی حاصل تھی، سرحدی صورت حال بھی اتنی کشیدہ نہ تھی اور کشمیر پر بھارت کے قبضے کے خواب، خواب ہی نظر آتے تھے لیکن جب سے ایماندار سیاسی پارٹی کی حکومت آئی ہے ہر جانب ہاہاکار مچی ہوئی ہے اور ہر وہ شکایت جو اقتدار میں آنے سے پہلی پی ٹی آئی اور اس کے سربراہ کو اپنی سابقہ حکومتوں سے تھی اور ان کے جو اقدامات انھیں عوام دشمن لگتے تھے، اقتدار ملتے ہی وہ ان سے کئی گناہ بڑھ کر انجام پر انجام دیتے چلے جارہے ہیں اور اپنے تمام عوام دشمن اقدامات کے جواز میں سابقین ہی کو قصور وار گردان نے کی گردان بھی جپتے جا رہے ہیں۔

عمران خان پاکستان ہی میں "پھر جانے" میں مشہور نہیں، اب تو دنیا بھر کا میڈیا ان کی اس صفت کا گرویدہ نظر آتا ہے جس کی سب سے بڑی مثال ملائیشیا کے دورے سے عین موقع پر اپنے ارادوں کو پھیر لینا تھا جس نے پاکستان کی حمایت میں بولنے والے ممالک کو سخت مایوس کر کے رکھ دیا تھا۔عمران خان کے ارادوں میں لاکھ نا پختگی ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ "میں ان کو تکلیف دونگا، میں ان کو رلاؤنگا" والی بات ایک ایسی اٹل بات ہے جو ان کے ساری وعدہ خلافیوں کا کفارہ ثابت ہوگی اور اس پر ثابت قدم رہنے کے وجہ سے بروزِ حشر وہ اپنے حشر نشر سے بچ رہنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

کسی کو اذیت دینا اور رلانا کوئی بے مقصد نہیں ہوا کرتا۔ اس میں بھی نیکی اور بھلائی کے کئی پہلو ہوا کرتے ہیں۔ ایک پہلو تو کسی کو یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ تمہارے (عوام کے) کچھ اقدامات تو تھے ہی ایسے جس کی تمہیں سزا ملنی ہی چاہیے تھی۔ اسکول یا گھر میں میں بھی اکثر بچوں کو جو سزا دی جاتی ہے، ان کی کان کھنچائی ہوتی ہے یا ان کو اذیت دی جاتی ہے وہ بھی برائے اصلاح ہی ہوتی ہے تاکہ انھیں اپنی کی ہوئی غلطیوں کا احساس ہو سکے۔ یہی وہ نیک پہلو ہے جو عمران خان کے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد ان کے دل و دماغ میں اجاگر ہوا۔ کیا لوگوں کا ایک ایسے فرد کو اقتدار تک لانا جو سیاست کی الف ب تک سے واقف نہ تھا، عقل اور ہوشمندی کی نشانی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیر اعظم کامہنگائی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے 10ارب کا امدادی پیکج - شہزاد حسین بھٹی

کیا وہ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے تھے وہ جس ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں وہ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم نہیں بلکہ ورلڈ الیون ہے جس کا مقابلہ خود پاکستان کی قومی ٹیم سے ہے۔ کیا وہ بھان متی کے کنبے کی جوڑا جاڑی کرتے نظر نہیں آ رہے تھے۔ کیا ان کے پشت پر انھیں بوٹوں کی دھمک نہیں سنائی دے رہی تھی اور کیا انھیں معلوم نہیں تھا کہ ان کی پیشانی پر پڑ جانے والی ایک شکن بھی اوراقِ حکومت کی پوری کتاب کو پُر شکن کر کے رکھ دیا کرتی ہے۔ ساری سیاسی پارٹیوں کے کرپٹ ترین افراد کی فوجِ ظفر موج کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا دیکھنے کے باوجود بھی عوام کا یہ کہنا کہ کپتان اگر نیک، پارسا، بدعنوانی اور کرپشن سے پاک ہو تو ٹیم کامیابیوں کے جھنڈے گاڑدیا کرتی ہے، کیا جرم عظیم نہیں تھا۔

شورِ قیامت بلند ہے کہ "ایک سال میں آٹے کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ ہوگیا ہے۔ کراچی، حیدرآباد اورلاہور سمیت کئی شہروں میں آٹے کی فی کلوقیمت 64 روپے سے بڑھا کر 70 روپے کردی گئی ہے۔ اس طرح 10 کلو آٹا 700 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے جب کہ اس سے قبل 10 کلو آٹے کی قیمت 450 روپے تھی یعنی 5 مہینوں میں 10 کلو آٹا 250 روپے تک مہنگا ہوگیا ہے"۔ یہ تو صرف آٹے کا حال ہے۔ پاکستان میں وہ ساری اشیا جس سے کسی غریب کا پیٹ بڑی مشکل سے بھرتا تھا، ان سب کا اب کوئی حال ہے ہی نہیں۔ ملک میں مہنگائی کا وہ طوفان برپا ہے جس کو اقتدار میں آنے سے پہلے "سونامی" کا نام دیدیا گیا تھا۔ عوام کو اب پتا چل رہا ہے کہ میں انھیں اذیت دونگا، انھیں رلاؤنگا اور سونامی کا مطلب اصل میں کیا تھا۔

جیسا کہ عرض کر چکا ہوں کہ نادانوں کو اذیت پہنچانا، ان کو رلانا ہمیشہ ظلم ہی نہیں ہوا کرتا بلکہ کسی کی خوش فہمیوں کی سزا دے کر ان کی اصلاح بھی مقصود ہوا کرتی ہے۔ سزا کا ایک نیک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ سزا کے بعد ان کے چین اور آرام کو یقینی بنایا جائے۔ فیس بک میں مذاقاً لکھی گئی بات اتنی غلط بھی نہیں کہ 2038 میں جب ہمارے وزیر اعظم دوبارہ منتخب ہو کر آئیں گے تو اس وقت پاکستان کی آبادی صرف 2 لاکھ ہوگی۔ 2038 تک پاکستان کے سارے عوام کو مہنگائی کے ہاتھوں سکون کی نیند سلادیا جا چکا ہوگا اور 2 لاکھ بچ جانے والے سرمایہ دار، جاگیر دار، ملک، سردار، چوہدری، وڈیرے، زمیندار اور بڑے بڑے مل اونر مجاور بنے 22 کروڑ قبروں میں سکون کی نیند سوئے ہوئے عوام پر دورد و فاتحہ پڑھ پڑھ کر پھونک رہے ہونگے۔