جشن سال نو - شہلا خضر

چاند سے روشن چہرے ،ہیرے سی چمکتی آنکھیں ، سفید مخملی دبیز پروں کو سجاۓ سینکڑوں نورانی پیکر آسمانِ دنیا پر اپنے معمول کے جائزے میں مصروف تھے - بجلی کی کوند کی مانند زمین وآسمان کی وسعتوں میں ڈوبتی ابھر تی ربّ کائنات کی خوبصورت تخلیق یہ اللہ کے مقرب فرشتے ہیں جو دنیا میںُ اتاری گئ آدم٘ کی اولاد “انسان “ کی روزانہ کی کار گزاری کی رپورٹ بنانے میں منہمک تھے ۔

بیس لاکھ سے زائد نو عمر فرشتے ابھی کچھ ہی دن پہلے اس جماعت میں شامل ہوۓ تھے ۔ وہ ہر جانب تجسسّ اور دلچسپی سے لپکتے پھر رہے تھے ۔ یہ دسمبر کی ایک خنک رات تھی ، نصف شب ہونے کو آئ تھی ،فضا میں ایک گہرا سکوت طاری تھا ستاروں سے بھری ردا اوڑھے آسمان ایک سحر انگیز منظر پیش کر رہا تھا ، سب کچھ مکمل نظم و ضبط اور ترتیب کا مظہر نظر آ رہا تھا کہ اچانک .............تیز زور دار دھماکوں سے فضائیں گونج اٹھیں ۔...........ٹھاہ، .......ٹھاہ.....ٹھاہ.....ٹھاہ....کانوں کے پردے چیرتی دھماکوں کی آوازیں اور ساتھ ہی ساتھ ذبردست آتشبا زی کی مہک سے فضا بارود اور دھوئیں کے بادلوں سے بھر گئ۔ چند ہی لمحوں میں پرسکون ماحول ہیجان انگیزشور میں تبدیل ہو گیا ۔آسمان پر چمکتے ستارے بھی حیرت زدہ تھے کہ آن کی آن میں یہ کیا ماجرا ہو گیا،رات کے اس پہر یہ کون ہے جو مخلوق خدا کو بے آرامُ کر رہا ہے ۔ نو عمر فرشتے اس اچانک آئی افتاد سے کچھ سہم سے گۓ ان کی ہیرے کی طرح چمکتی آنکھوں میں خوف کے ساۓ لہرانے لگے، اور وہ ایک ہی جست میں کوسوں میل دور پچھلے آسمان پر چلے گۓ ۔بزرگ فرشتے بدستور پر سکون ہی تھے وہ اپنے فرائض منصبی میں مکمل طور پر منہمک تھے ۔

ان ہولناک دھماکوں نے انہیں قطعی متاثر نہ کیا ۔آخر کارجب بہت سا وقت گزر گیا اور اس ہنگامہ آرائ نے تھمنے کا نامُ نہ لیا تو ننھے فرشتوں نے بزرگ فرشتوں سے اس کا سبب پوچھنے کی ٹھان لی ،چنانچہ وہ پلک جھپکنے سے پہلے آسمان دنیا پر پہنچ گۓ اور سب نے یک زبان ہو کر منتظمین سے سوال کر ہی ڈالا ،”عزیز محترم کیا آپ ہماری رہنمائ کریں گے ،ہمٗ سب نۓ منتظمین ہیں ، ہم نے آج سے پہلے کبھی ایسی ہولناک آتشبازی اور دھماکے نہ دیکھے تھے ، ہم سب ساتھی بہت سہمُ گۓ ہیں ، یہ کیا ماجرا ہے ؟آپ زرا وضاحت فرمائیں تو ہمارے علم میں اضافہ ہو، ننھے نور کے پیکر وں کی بے چینی دیکھ کر ایک باریش بزرگ فرشتے نے انہیں اپنے قریب بلایا اور نہایت شفقت سے شیریں لہجے میں انہیں یوں مخاطب کیا “ میرے عزیز بچوں آپ کی یہُ تشویش بلا وجہ ہے ، یہ دھماکے اور ہنگامہ آرائ کسی خطرے کی وجہ سے نہی ہے بلکہ یہ تو انسانوں کے خود ساختہ” سالِ نو” کے جشن کا برسوں سے چلا آرہا طریقہ کار ہے ۔ حالانکہ اس کی وجہ سے تمام چرند پرند اور انسان خود اپنے ہم جنسوں کے لیۓ بھی پریشانی اوربے آرامی کا باعث بنتے ہیں مگر خوشیوں کے اظہار کے لیۓ شائید انہیں سب سے زیادہ یہی طریقہ پسند ہے،!

ننھے فرشتے اس وضاحت سے مطمئن نہ ہوۓ ،بلکہ اور بھی زیادہ پریشان ہو گۓ ۔کیا اولادِ آدمٌ کو نجات مل گئ ؟؟؟؟؟کیا پروردگارِ عالم کے امتحان میں وہ کامیاب ہو گۓ ہیں؟؟؟؟؟؟؟کیا وہ جنت کے مستحق ثابت ہو گۓ ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟یہ اچھوتے سوالات سن کر باریش فرشتے نے انُ کی جانب حیرت سے دیکھا ، اور بولے
“ نہیں پیارے بچوں نجات کیسی؟ اولادِ آدم توہر گزرتے لمحے کے ساتھ پستی اور گمراہیوں کے گڑھے میں گرتا ہی جا رہا ہے اور ہر گزرتا دن اسے اس کے انجامِ کار کے قریب دھکیل رہا ہے ۔ننھے فرشتے اس وضاہت سے مزید الجھن میں پڑ گۓ ، “ عزیز محترم !بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تبا ہی اور گمراہی کے باوجود انسان اسقدر بے فکری سے خوشیاں منانے مگن ہو- دنیا کی زمین پر بے گناہوں کا خون بہایا جا رہا ہے ،عورتوں کی عزتیں پامال کی جا رہی ہیں،یتیوں کا مال کھایاجا رہا ہے ،بےحیائ عام ہے ، قومُ نسل اور مز ہب کے نام پر لاکھوں کے سر کا ٹے جا رہے ہیں ،اور یہ سب دیکھ کر بھی انسان سالِ نو کا جشن منا رہے ہیں ؟؟؟ یہ کس بات کی خوشی منارہے ہیں ہمارے علم کے مطابق تو یہ نظامِ کائنات آہستہ آہستہ اپنے فطری انجام کی جانب رواں دواں ہے !

بزرگ فرشوں کی جماعت ان نوعمر فرشتوں کو پوری طرح سے مطمࣿعین کرنا اور ان کے تجسس کی مکمل تسکین کر دینا چاہ رہےتھے اسی لیۓ انہوں نے مکمل وضاحت فرمائ ، “ عزیز بچوں آپ کی حیرانی بجا ہے مگرانسان ہم جیسا نہی ہے “،ربّ کائنات نے اسے ایک منفرد ساخت عطاکی ہے ،وہ زندگی میں پیش آنے والی ہر پریشانی ہر دکھ کو بھلا کر آگے ہی آگے بڑھتا جا تاہے ، مصیبتوں اور دکھوں کے پہاڑ بھی اس کی راہ میں حائل نہی ہو سکتے وہ ایک نہ ایک دن انہیں پھلانگ کر اپنے سفر کی اگلی منزل کی جانب بڑھ جاتا ہے . انسان کے متعلق یہ تمام معلومات نوعمر فرشتوں کے لیۓ بلکل نئ تھی اسی لیۓ وہ اپنےبڑے بڑے رجسٹروں میں ایک ایک تفصیلات جلدی سے قلمبند کرنے لگے ۔آتش بازی کی آوازیں بد ستوراسی رفتار سے جاری تھیں -زمین کی اپنے مدار پر گردش سےدنیا کے مختلف خطوع میں نۓ دن کاآغاز الگ الگ اوقات میں ہو رہا تھا، اسی لیۓ ایک خطہ کاجشن ختم ہونے سے پہلے دوسرے پر شروع ہو جاتا ۔ایک ننھےفرشتے نے مزید معلومات حاصل کرنے کے لیۓ نیاسوالُ کر دیا ، “کیاانسان پروردگار عالمُ کی آسمانی کتاب کوبھی بھول گیا ہے ؟؟؟کیا وہ امامِ انبیاء اور رحمتِ عالمﷺ کی تعلیمات کو بھی بھول گیا ؟؟

“ہاں میرے عزیز ایسا ہی ہوا ہے بزرگ فرشتے نے افسوس سے کہا “ سب سے زیادہ دکھ کی بات ہی یہی ہے کہ انسان پروردگار عالم کی آسمانی کتاب کوصرف ثواب حاصل کرنے کازریعہ سمجھ بیٹھا ہے اور اس ہدایت نامے کی ہدایات کو سمجھنا اور عمل کرنا بھول گیا ہے اور اسی لیۓ وہ ابلیس اور اس کے چیلوں کاآسان شکار بن چکا ہے انسان نے تو سب بھلا دیا مگر ابلیس کچھ نہی بھولا اور ربّ کائنات سے کیۓ وعدے کے مطابق مکرّوفریب کے جال بچھاۓ اولاد آدمُ کو اس کی حتمی منزل ِمقصود یعنی جنت الفردوس سے دور کرنے کی سازشیں کرتا رہتاہے ۔میرے بچوں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ ان بدلتی تاریخوں اور ماہ و سال کی اپنی کوئ انفرادی حیثیت نہی جو ان کےآنے جانے کا جشنُ منا یا جاۓ ،جب سے اس کائنات کی تخلیق ہوئ ہے یہ اپنی مقررہ رفتار سے چلتی جا رہی ہے ، اور ایک دن مقررہ مدت پر پہنچ کر اختتام پزیر ہو اۓ گی۔ اس مدت گزر جانے کاجشن منانا تو بہت کم عقلی ہے ،اصل اہمیت توان اعمال کی ہے جو انسان اس مدت حیات کےدوران کرتا ہے ۔اس دنیا کی دلفریبیوں اوررعنائیوں میں مگن ہو کر انسان سب کچھ بھول جاتا ہے ۔ نہ اسےجوابدہی کا احساس رہتا ہے نہ ہی سزا و جزا کی فکراورنہ ہی لاکھوں سینکڑوں سالہ ابدی زندگی،۔ابھی یہ سب گفتگو جاری تھی کے زمین پر جائزے کے لیۓ گئ ایک ٹیم اپنی رپورٹ لے آئ ، اور ان کی جائزہ رپورٹ دیکھ کر تمام فرشتوں کو بے انتہا ما یوسی ہوئ کیونکہ آج سالِ نو کے جشن کے انسانوں کے گناہ تو باقی تمام دنوں سے کہیں زیادہ تھے ۔

سالِ نو کے اس عجیب وغریب نرالے جشن کی خوشی میں انسان پوری طرح بہک گیا تھا اورچونکہ انسانوں نے خوشیاں منانے کے اللہ تعالیٰ کے بتاۓ طریقوں کے بجاۓ ابلیس کے بناۓنت نۓ طریقے اپنا لیۓ ہیں اس لیۓجتنی بڑی خوشی ہوتی ہے اتنی ہی زیادہ نافرما نیاں ان سے سرزد ہو جاتی ہیں ۔تمام فرشتے انسان کی اس کار گزاری کو دیکھ کر بہت رنجیدہ تھے انہیں رب کائنات کی محبوب تخلیق کی دن بہ دن بڑھتی نا فر ما نیوں کابہت رنج تھا ۔انسان دنیا کی اس فانی مختصر زندگی کو اپنی آرزوئوں کی تکمیل کامحور بنا لیتا ہے اور یہ فراموش کر بیٹھتا ہے کہ حقیقی خوشیاں اور حقیقی کاُمیابیاں تو صرف اور صرف آخرت میں کامیا بی حاصل کرنے والوں کے مقدر میں لکھی جاچکی ہے .رات بھیگتی جارہی تھی دنیا کی زمین پر انسانوں کا جشن پورے جوش و خروش سے جاری تھا،رقص و سرور۔ شراب و شباب غرض سب غفلت کے اندھیروں میں مکمل ڈوبے ہوۓ تھے ۔آسمانِ دنیا پر سینکڑوں ملائکہ بدستوراپنےفراض ادا کرنے میں مشغول تھے، ایک ایک لمحے کی رپورٹ تیار کی جا رہی تھی۔ غول کےغول نورانی پیکر زمین و آسمان کے درمیان محو پرواز تھے۔ ۔سال نو کے جشن کے اختتام پزیر ہونے تک صبح کی سپیدی نمو دار ہو چکی تھی ۔

چاروں طرف سے فجر کی آزان کی دلکش صدائیں سنائ دینے لگیں ، اللّہُ اکبر، اللّہُ اکبر لا الہٰ الاّاللّہُ تمام عالم پر نور انی ہالہ چھا گیا ، کیا چرند پرند کیاشجر وہجر غرض کائنات کا زرہ زرہ اپنے خالق ِحقیقی کی تسبیح میں مگن ہو گیا ۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہر ملک ہر خطے سے اولاد آدمٌ اپنے گھروں سے نکل نکل کر مسجد کی جانب جاتے دکھائ دیۓ ،تمامُ ملائکہ خصوصاً ننھے فرشتے بہت خوش ہوۓ اور سجدۂ شکر بجا لاۓ ،بزرگ فرشتوں نے تمام ملائکہ کو بتایا کہ جب تک دنیا میں اللّہ کے نیک بندے موجود ہیں ابلیس اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہ ہو گا ،شر کے خاتمے کے لیۓ ہر دور میں خیر کے علمبردارمو جود رہیں گے . ایک نۓ دن کا آغاز ہوا چاہتا ہے ، تمام منتظمین اپنے کام کا مکمل اندراج کر چکے تو الوداعی دعا کروائ گئ اور تمام فرشتوں نے یہ عہد کیا کہ وہ دنیا میں موجود نیک لوگوں کی مدد سےاولاد آدمُ کو ابلیس کے شکنجے سے چھڑانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور کبھی مایوس نہ ہوںگے کیونکہ مایو سی کفر کے مترادف ہے ، اور اللہ پاک سے محبت کرنے والے کبھی مایوس۔ نہی ہوتے ! اس دعا کے بعدتمامُ ملائکہ حسب معمول اپنے فرائض اور زمہ داریاں ادا کرنے میں جت گۓ ۔ اور اللّہ کےچنیدہ بندے تلاوت کلامُ پاک اور ازکار میں مشغول ہو کر پروردگار عالم کی اطاعت و نیابت کا حق ادا کرنے لگے !