شیخ فردوس رشید اعوان۔عبدالخالق بٹ

میر تقی میؔر بڑے شاعر تھے۔مستقبل میں جھا نکتا اُن کا ایک شعر ہے:
فردوس کو بھی آنکھ اٹھا دیکھتے نہیں
کس درجہ سیر چشم ہیں کوے بتاں کے لوگ
میؔر پر فقط ’نام‘ منکشف ہوا شخصیت نہیں۔تب ہی تو انہیں شکوہ ہے کہ لوگ ’فردوس‘ کو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔ یقیناً انہوں نے ’فردوس عاشق‘ کو نہیں دیکھا تھا۔ دیکھ لیتے تو ’ فردوس ‘ پر سے ان کا ایمان اٹھ جاتا اور وہ غالبؔ کی طرح پکار اٹھتے:
’دوزخ میں لیکر ڈال تو کوئی بہشت کو‘
باکمال خاتون فردوس’عاشقِ ایوان‘ کسی بھی پارٹی میں یوں سما جاتی ہیں جیسے شاہ کلید (master key) ہر طرح کے قفل میں راہ یاب ہوتی ہے۔یوں تو ایسی چابی چوروں کے پاس ہوتی ہے مگر فی الحال چوکیدار کے پاس ہے۔ ہماری ممدوحہ سیل فون کی طرح ’ Auto Rotate ‘ آپشن کی حامل ہیں۔پارٹی بدلتی ہیں تو مؤقف خود بخود بدل جاتا ہے۔
اکثر در گزر سے کام لیتی اور گاہے بڑے بڑے سانحات کو بھی معمولی جانتی ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب وزیراعظم نے انہیں کہا تھا:
’ میرے متعلق کوئی بات کہتے ہوئے عقل اور سوچ سے کام لیا کریں‘۔
چونکہ بات ’عقل اور سوچ ‘ سے مشروط تھی اس لیے محترمہ نے وزیر اعظم کی بات کو سیریس نہیں لیا کہ کابینہ میں بھی کوئی نہیں لے رہا۔
چند روز قبل ہی محترمہ کو ’سیکیورٹی خدشے‘ کے پیش نظر برطانوی شاہی جوڑے کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں شرکت سے روک دیا گیا تھا۔ ہمارے نزدیک مسئلہ سیکیورٹی کا نہیں پاکستان کے soft image کا تھا۔ بہرحال اس شدید بے عزتی کو بھی انہوں نے خندہ پیشانی سے جھیلا اور غالبؔ کے اس مصرع کی مجسم تصویر بن گئیں:
’ گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا ‘
محترمہ بے مزا ہوئیں یا نہیں مگر ہم ان کی پریس کا نفرنس سن کر بدمزا ہوگئے۔ کنٹرول لائن اور کشمیر کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا :
’27 اکتوبر یوم سیاہ کا دن ہے‘
وزیر اعظم کی نفسِ ناطقۂ کو یہ بھی علم نہیں کہ ’یوم ‘ کا مطلب ہی ’دن ‘ ہے۔ایسے میں ’یومِ سیاہ کا دن‘ نری جہالت ہے کہ جہل کے معنوں میں تاریکی داخل ہے۔ یہ اہل دانش کا وہ قبیلہ ہے جس کے طفیل ’ آبِ زم زم کا پانی‘ اور ’پیچھے کا background ‘ جیسی تراکیب ظہور میں آئی ہیں۔
چند مشترکہ خوبیوں کے سبب کچھ لوگ انہیں ’عورتوں کی شیخ رشید‘ کہتے ہیں۔ تو کیا ہم شیخ رشید کو ’مردوں کا فرودس عاشق اعوان ‘ کَہ سکتے ہیں؟۔۔۔ یہ سوچ کر جھرجھری آجاتی ہے کہ شیخ صاحب شدید میک اَپ میں ا ٹے، سر پر دوپٹہ جمائے اپنی خضابی موچھوں سمیت تیزابی گفتگو کر رہے ہیں اور دیکھنے والا بے ساختہ پکار اٹھتا ہے ’ شیخ فردوس رشید اعوان ‘۔
شیخ صاحب وزیر ریلوے ہیں اور اس مدت میں انہوں نے ریلوے کو جتنےحادثات اور مسافروں کو جس قدر صدمات پہنچائے ہیں وہ ایک ریکارڈ ہے۔ یوں تو وہ سویلین ہیں مگر من ان کا بانکا سپاہی ہے۔ گاہے بہ گاہے آئی ایس پی آر کی ذمہ داریاں اپنے پُرگوشت کاندھوں پر اٹھا لیتے ہیں۔ابھی کل ہی کی بات ہے فرما رہے تھے:
’غیراعلانیہ جنگ شروع ہو چکی ہے۔ میں جنگ دیکھ رہا ہوں۔ ہمارے پاس پاؤ اور آدھا کلو کا بم بھی ہے‘۔
گمان ہے پاؤ اور آدھا کلو کے بم تولنے کے لیے ’وٹے‘ لال حویلی سے گئے تھے۔
شیخ صاحب کو سرحدوں کے ساتھ ساتھ داخلی تفکرات بھی لاحق ہیں۔جن میں’مولانا فضل الرحمان‘ کا آزادی مارچ پلس دھرنا سرِ فہرست ہے۔شیخ صاحب نے مطلع کیا ہے کہ :
’مولانا کاغبارہ پھٹنےجا رہا ہے‘
بیان سے تو یہی ظاہر ہورہا ہے کہ شیخ صاحب غبارے بھی سپلائی بھی کرتے رہے ہیں۔
ان لایعنی باتوں میں خاصا وقت صرف ہوگیا ہے اس لیے ہم اب ڈائریکٹ کام کی بات پر آتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست نے پوچھا ہے کہ ’ شیدا ٹلی‘ کس بلا کا نام ہے نیز ’ٹلی‘ کا کیا مطلب ہے؟
عرض ہے کہ ’شیدا ٹلی‘ والی بات خود ’شیدے‘ سے پوچھیں تو بہتر ہے۔ رہی بات ’ٹلی‘ کی تو وہ بتائے دیتے ہیں۔
پنجابی زبان میں’ گھنٹی‘ کو ’ٹلی‘ کہتے ہیں۔یہ عام طور پر مویشیوں کے گلے میں باندھی جاتی ہے کہ اگر جانور نظروں سے اوجھل بھی ہوجائیں تو گھنٹی کی آواز سے ان تک پہنچا جاسکتا ہے۔ گلے میں بندھی یہ گھنٹی اِدہر اُدہر مسلسل جھولتی رہتی ہے لہٰذا اس رعایت سے نشہ باز اور دیوانے کو بھی ’ٹلی‘ کہہ دیتے ہیں کہ ایک نشے میں اور دوسرا دیوانگی میں مست ’ٹلی‘ کی طرح ادہر اُدہر ڈولتا پھرتا ہے۔
اگلا سوال ہے کہ کیا موقع کی مناسبت سے پارٹی بدلنے والے سیاست دان کو ’گرگِ بارانِ دیدہ‘ کہا جاسکتا ہے؟
عرض ہے کہ ’ گرگِ بارانِ دیدہ ‘ کے لفظی معنی ’وہ بھیڑیا ہے جس نے بہت سی برساتیں دیکھی ہوں‘۔ تاہم اصطلاح میں تجربہ کار اورجہاں دیدہ آدمی کو ’ گرگِ بارانِ دیدہ ‘ کہتے ہیں۔ایسے میں پارٹی بدلتے رہنے والے سیاست دان کے لیے پورا محاورہ برتنے کے بجائے محض ’گُرگ‘ سے بھی کام چلایا جاسکتا ہے۔
اس محاورے کے حوالے سے روایت ہے کہ جب برسات کی جھڑی لگتی ہے اور کئی کئی دنوں تک نہیں رُکتی تو ایسے میں جانور اپنے بلوں اور بِھٹوں میں دبک جاتے ہیں اور شکار ناپید ہوجاتا ہے۔اس صورتحال میں بھوک اور تھکن سے دوچار بھیڑیے ایک جگہ دائرے کی شکل میں بیٹھ جاتے ہیں اور جیسے ہی ان میں سے کسی بھیڑیے کی آنکھ لگتی ہے سب اُس پر پِل پڑتے ہیں اور وہ لمحوں میں اپنے ساتھیوں کی خوارک بن جاتا ہے۔بھوک اور موت کا یہ کھیل برسات رُکنے تک جاری رہتا ہے۔ایسے میں جو بھیڑیا کئی برساتیں گزار لے اسے’ گرگِ بارانِ دیدہ ‘ کہتے ہیں۔
سچ تو یہ ہےکہ دلچسپ ہونے کے باجود یہ روایت حقیقت سے بہت دور ہے۔جنگل میں بھیڑیوں کے علاوہ اور بھی درندے ہوتے ہیں وہ اتنے دن کیا کرتے ہیں؟ اس بارے میں روایت خاموش ہے۔ اس روایت کے برخلاف فارسی اور اس کی رعایت سے اردو لغت نویسوں نے ’ گرگ بارانِ دیدہ‘ کے ضمن میں لکھا ہے کہ بھیڑیے کا بچہ برسات سے بہت خوف کھاتا ہے اور جب وہ ایک بار کسی بھی وجہ سے برسات کا سامنا کرلیتا ہے تو اُس کا سارا ڈر جاتا رہتا ہے اور یوں وہ ’ گرگِ بارانِ دیدہ ‘ کہلاتا ہے۔
ہمارے ایک دوست روز افزوں گرانی کا رونا رو رہے تھے انہیں ہم نے اجمؔل سراج کا درج ذیل شعر سنایا تو انہیں کچھ قرار آیا :
سُن یہ رونا نہیں گرانی کا
یہ تو نے قیمتی کا رونا ہے
رونے سے حکومتی ’نو رتنوں‘ میں شامل فواد چوہدری یاد آگئے ہیں جن سے متعلق خبر نظر سے گزری :
’فواد چوہدری مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے،آنکھیں آبدیدہ‘ ہوگئیں‘۔
وہ تاریخی لمحہ ہوگا جب ’آنکھیں آبدیدہ‘ ہوئی ہوں گی۔سچ پوچھیں تو یہ وہی ’چَوَل‘ ہے جو ’یوم سیاہ کا دن‘ میں ماری گئی ہے۔بات یہ ہے کہ ’دید‘ کے معنی ’نگاہ اور نظر ‘ کے ہیں۔اسی ’دید‘ سے ’دیدبان‘ اور ’دیدشنید‘ جیسی تراکیب بھی ہیں۔اور ’ آبدیدہ‘ کی ترکیب میں ’دیدہ‘ مجازاً آنکھوں کو کہا جاتا ہے اور اس ترکیب کا مطلب ہے آنکھیں بھیگ جانا۔
ہماری اس گفتگو کا حاصل یہ سمجھنا کہ اپوزیشن میں سارے گوہر نایاب شامل ہیں درست نہیں۔ ان شائ اللہ آئندہ نسشت میں ان کے محاسن پر بھی بات ہوگی۔فی الحال اجازت دیں۔

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.