پاکستانی ڈرامے معاشرے کو کہاں لے جارہے ہیں؟ - عابد محمود عزام

پاکستانی ڈراموں میں جس ثقافت اور کلچر کو باقاعدہ فروغ دیا جا رہا ہے، معاشرے کے لیے وہ بہت ہی خطرناک ہے۔ پاکستانی ڈراموں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ صرف اور صرف عشق و محبت ہے۔ تقریبا ہر ڈرامے میں عشق و محبت کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ڈراموں میں شادی شدہ مرد عورت کے معاشقے دکھانا تو معمول کی بات ہے۔

کبھی لڑکی کی لڑکوں سے دوستی کی ترغیب دی جاتی ہے تو کبھی مرد کا دوستی کے نام پر کئی عورتوں سے تعلقات کو جائز ثابت کیا جاتا ہے۔ بے راہ روی اور برائی کو فروغ دیتے، غیر اخلاقی اور غیر شرعی موضوعات، نامناسب لباس اور بے ہودہ الفاظ و حرکات آج کل کے ڈراموں کا خاصہ بن چکے ہیں۔ ایسا لگتا ہے یہ سب باقاعدہ کسی گھناؤنی مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد معاشرتی اقدار کو ختم کرکے آزاد خیالی اور بے ہودگی کو فروغ دینا ہے۔ چند سال میں چینلز پر سب کچھ دکھانے کی آزادی دے دی گئی ہے، اب تو ڈراموں اور فلموں میں صرف نیم عریاں ڈانس کا فرق رہ گیا ہے، چند سال میں شاید یہ بے ہودگی بھی ڈراموں میں در آئے۔
پیمرا کو ٹی وی چینلز کو اس بات کا پابند کرنا چاہیے کہ وہ ایسے موضوعات پر ڈرامے نشر کریں جو پاکستانی معاشرے کی حقیقی عکاسی کریں اور اسلامی، سماجی اور معاشرتی اصولوں کے ہم آہنگ ہوں اور معاشرے کی بہتری میں کردار ادا کریں۔ ڈرامے ملک میں لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں اور وہ جو کچھ دیکھتے ہیں، وہ کچھ اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ملک میں بے راہ روی میں اضافے میں ڈراموں کا بھی بڑا کردار ہے، ان کی روک تھام کے لیے مصلح قوتوں اور مذہبی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وہ ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے ڈراموں سے لاتعلق نہیں رہ سکتے اور نہ ہی اس سب سے صرف نظر کرکے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔ انہیں معاشرے کو بے راہ روی کی جانب دھکیلنے والے اسباب کا ادراک ہونا ضروری ہے اور بے راہ روی کے اسباب کے سدباب کے لیے کوشش کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے، مگر یہ ایسے تمام معاملات سے ناواقف اور لاتعلق ہیں۔استاذ محترم بابائے صحافت پروفیسر متین الرحمن مرتضٰی صاحب کہا کرتے تھے کہ چینلز پر جو کچھ نامناسب اور بے ہودہ مواد دکھایا جاتا ہے، اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ مذہبی لوگ اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انہیں اس کا علم نہیں کہ ٹی وی پر کیا دکھایا جارہا ہے۔ جو لوگ ٹی وی چینلز پر نامناسب مواد کو پسند نہیں کرتے، انہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ چینلز پر کیا غلط دکھایا جارہا ہے۔ میڈیا پر وہی کچھ دکھایا جاتا ہے، جو لوگ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر اس کے خلاف بڑی تعداد میں آوازیں اٹھنا شروع ہوجائیں اور اس کے خلاف شکایات اور ناپسندیدگی کا پیغام متعلقہ ذمہ داران اور پیمرا تک پہنچایا جائے تو اس میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */