دورِ حاضر کے ’’پیرسپاہی‘‘ نصرت جاوید

گزشتہ ہفتے پیر سے جمعہ تک قومی اسمبلی اور سینٹ میں لگے تماشوں نے بہت مصروف رکھا۔ تھک گیا۔ ہفتے کی صبح دیرسے اُٹھا۔ بہت دنوں کے بعد ’’تعطیل‘‘ کا واقعتا احساس ہوا۔ ’’چھٹی‘‘ اس قوت سے آئی کہ تمام دن ذہن میں کوئی اچھا یا بُرا خیال تک نہیں آیا۔یہ خالی سلیٹ کی مانند رہا۔ ذہنی فراغت کے بارے میں فکر مند ہونے کے بجائے یہ سوچ کر خود کو تسلی دی کہ یوگیوں کو اپنے ذہن خیالات سے آزاد رکھنے کے لئے تاحیات بے تحاشہ ریاضت کرنا ہوتی ہے۔ جسم کو ساکت کئے آنکھیں موند کر ’’تصور جاناں‘‘ کے بجائے ’’خلا‘‘ کی تمنا کرتے ہیں۔صفر (زیرو) کی تلاش۔ مجھے بستر میں لیٹے ہی ویسا ’’نروان‘‘ حاصل ہوگیا۔اس سے لطف اندوز ہوا جائے۔اس کیفیت کو برقرار رکھنے کے لئے بستر کے قریب رکھی کتابوں میں سے کسی ایک کو بھی اٹھانے کی خواہش نہ اُبھری۔

سکون کے ان لمحات کی بدولت نیند بھی عمومی وقت سے قبل آتی محسوس ہوئی۔بتی بجھانے سے قبل مگرفون اٹھاکر سوشل میڈیا پر نگاہ ڈالنے کی حماقت سرزد ہوگئی۔ ایک کلپ پر نگاہ پڑی تو ایک صاحب پولیس کے اعلیٰ افسر کی وردی میںملبوس انگریزی زبان میں ’’مثبت سوچ‘‘ پر خطاب فرماتے نظر آئے۔ جنرل ضیاء کے دور میں ایک ’’پیرسپاہی‘‘ نمودار ہوئے تھے۔فرض کرلیا کہ یہ صاحب بھی دورِ حاضر کی ویسی ہی پیش کنی ہوں گے۔میرے ایک بہت ہی سنجیدہ ساتھی-سید طلعت حسین- نے مگر تبصرے کے ساتھ ان کی وڈیو کو ری ٹویٹ کیاتھا۔اس میں دعویٰ تھا کہ انگریزی زبان میں ’’مثبت سوچ‘‘ کو دل ودماغ میں بسانے کی ترکیبیں بتانے والے اس پولیس افسرکو عمران خان صاحب نے خیبرپختونخواہ کی ’’غیر سیاسی‘‘ پولیس کا سربراہ مقرر کیا ہے۔طلعت حسین کی فراہم کردہ اطلاع نے موصوف کی گفتگو سننے کو مجبور کردیا۔فوری گلہ یہ ہوا کہ حضرت اپنا ’’روحانی پیغام‘‘ انگریزی زبان میں نشر کررہے تھے۔ آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ عمران خان صاحب ان دنوںانگریزی زبان کے استعمال سے بہت چڑتے ہیں۔ ’’کاٹھے انگریزوں‘‘ سے ان کی نفرت بہت پرانی ہے۔’’مغرب زدہ‘‘ دیسی لبرلز سے ہمیشہ خار کھاتے رہے۔ ان کے چہیتے افسر مگر انگریزی زبان کو ’’روحانی پیغام‘‘ پہنچانے کے لئے استعمال کررہے تھے۔ذاتی طورپر میں اس بات کو اہمیت نہیں دیتا کہ کوئی شخص اپنے خیالات کے اظہار کے لئے کونسی زبان کا انتخاب کرتا ہے۔ اس کے دئیے ’’پیغام‘‘پر غور کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ہفتے کی شب جو وڈیو کلب دیکھی اسے دیکھتے ہی لیکن ایک لفظ مگر ذہن میں اٹک گیا جو دورِ حاضر کے ’’پیر سپاہی‘‘ معصومانہ ڈھٹائی سے استعمال کررہے تھے۔

فصاحت وبلاغت میرے بس سے باہر ہیں۔اُردو لکھتے ہوئے بھی روانی نصیب نہیں ہوتی۔لاہور کی گلیوں میں گھومتے پھرتے جو زبان سنی اسے اُردو میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہوں۔قواعد وضوابط کا لحاظ کئے بغیر۔انگریزی تو ویسے بھی ’’سامراج‘‘ کی زبان ہے۔اس کا احترام مجھ پر واجب نہیں۔جس انگریزی کی مجھے تھوڑی شدھ بدھ ہے اس کے مطابق مگر ’’میڈیم(Medium)‘‘واحد ہے اور میڈیا (Media)اس کی جمع۔ہمارے دل ودماغ میں ’’مثبت سوچ‘‘ کو بسانے کے لئے مگر دورِ حاضر کے ’’پیرسپاہی‘‘ سوشل ’’میڈیاز‘‘کہہ رہے تھے ۔ Mediaکے ساتھ "S"کا اضافہ مجھے بہت کھلا۔’’مثبت سوچ‘‘ کو اپنے دل ودماغ میں بسانے کے طریقے جاننے کی سعادت سے لہذا محروم رہ گیا۔اپنے ٹویٹر اکائونٹ پرکچھ اور ڈھونڈنے کو آگے بڑھ گیا۔سوشل میڈیا پر ’’اب تک دل خوش فہم…‘‘ والے افراد بھی ہیں۔ انہیں نواز شریف صاحب کے نام سے منسوب ہوئی پاکستان مسلم لیگ سے چند ’’امیدیں‘‘ ہیں۔ ایسے افراد بہت اشتیاق سے دوکلپس ٹویٹ وری ٹویٹ کررہے تھے۔پہلی کلپ یہ دکھارہی تھی کہ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی لندن کے اس محلے پہنچے جہاں کے ایک فلیٹ میں ان دنوں نواز شریف صاحب قیام پذیر ہیں۔سابق افغان صدر نے وہاں پاکستان کے سپریم کورٹ کے ہاتھوں ’’تاحیات نااہل‘‘ قرار پائے وزیر اعظم کی عیادت کی۔ ’’اب تک دل خوش فہم…‘‘ والے امید پرستوں نے مزاج پرسی کی خاطر ہوئی اس ملاقات کے بارے میں یہ فرض کرلیا کہ سابق افغان صدر کوئی ’’اہم پیغام‘‘ لے کر آئے تھے۔

بہت کوشش کے باوجود میںیہ دریافت نہ کرپایا کہ مبینہ پیغام’’ کس‘‘ کا تھا۔ ’’پیغام‘‘ کے بجائے لہذا ’’پیامبر‘‘کی موجودہ حیثیت یاد کرنے کو مجبور ہوگیا۔خیال یہ بھی آیا کہ ’’اہم پیغام‘‘پہنچانے کے لئے ملاقاتیں عموماََ خفیہ ہوا کرتی ہیں۔ حامد کرزئی کا کیمروں کے روبرو آنا ہی یہ طے کرنے کو کافی تصور کرنا چاہیے کہ ان کی نواز شریف صاحب سے ملاقات رسمی مزاج پرسی کے سواکوئی اہمیت نہیں رکھتی۔سوشل میڈیا پر مگر ایک اور وڈیو کلپ بھی موجود تھی۔ اس کلپ میں شہباز شریف صاحب بہت دنوں کے بعد کافی ہشاش بشاش دِکھائی رہے تھے۔ ربّ کریم انہیں دائمی خوشیاں عطا فرمائے۔وہ اپنی جیپ میں بیٹھنے لگے تو ’’بریکنگ نیوز‘‘ کے خواہاں چند نوجوان ساتھیوں نے ان سے سال 2020کا ذکر کردیا۔ شہبا زصاحب نے اسے کرکٹ کے 20/20سے جوڑ دیا۔ بالآخر ایک رپورٹر بول اُٹھے کہ شنید ہے کہ اس برس وہ پاکستان کے وزیر اعظم بن رہے ہیں۔ شہباز صاحب سے رہا نہ گیا۔بہت حسرت سے یاد دلایا کہ گزشتہ 20برسوں سے وہ ایسی ہی باتیں سن رہے ہیں۔ان کا دعویٰ برحق۔1993کے آغاز میں بھی اسلام آباد میں یہ افواہیں گردش کررہی تھیں کہ ان دنوں کے صدر غلام اسحاق خان چاہ رہے ہیںکہ شہباز صاحب اپنے بڑے بھائی کی جگہ پاکستان کے وزیر اعظم کا منصب سنبھال لیں۔اس برس کے بعد سے ابھی تک ایسی افواہ وقتاََ فوقتاََ مارکیٹ میں آجاتی ہے۔ بیل مگر منڈھے نہیں چڑھتی۔ ’’گوٹ‘‘ کہیں نہ کہیں پھنس جاتی ہے۔شہباز صاحب کا حسرت بھرے دل کے ساتھ20برس کا ذکر مگر ’’اب تک دل خوش فہم…‘‘والوں نے نظرانداز کردیا۔ان کی ’’پُراعتماد‘‘ باڈی لینگوئج ،جس کا ترجمہ شاید ’’بدن بولی‘‘ کے نام سے مشہور ہوچکا ہے،کاتجزیہ شروع ہوگیا۔2020’’تبدیلی کا سال‘ ‘قرار دیا جانے لگا۔ ’’مائنس ون‘‘ کی اُمیدیں۔داستانوں کے اسیر ہمارے اذہان استعاروں کے بے دریغ استعمال سے معاملات کو خوامخواہ پُراسرار بنانے کی علت میں مبتلا رہتے ہیں۔’’مائنس ون‘‘ کا واحد مطلب ان دنوں فقط یہ ہے کہ عمران خان صاحب شاید اس برس استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کی ’’رخصت‘‘ شہباز صاحب کو وزیر اعظم کے دفتر تک پہنچانے کی راہ ہموار کردے گی۔

عملی صحافت میں ساری عمر گنوانے کے بعد میں انتہائی ایمان داری سے یہ اعتراف کرنے کو مجبور ہوں کہ ملکی سیاست کے اُتارچڑھائوکو سمجھنے کے لئے میں اپنی عقل کو ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے کی حماقت میں گرفتار رہا ہوں۔وطنِ عزیز میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہوجاتا ہے۔سیاسی ’’گیم‘‘ کے پھربھی مگر چند تقاضے ہوتے ہیں۔انہیں ذہن میں رکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ان تقاضوں پر غور کرتا ہوں تو عمران حکومت کے لئے ’’ستے خیراں‘‘ کے علاوہ فی الوقت کوئی اور صورت نظر نہیںآرہی۔ حال ہی میں مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی نے یکسوہوکر آئینی اور قانونی اعتبار سے ایک اہم ترین قانون کو سرعت سے منظور کرتے ہوئے نظربظاہر وزیر اعظم کے منصب کو ’’مضبوط ترین‘‘ بنایا ہے۔ عمران خان صاحب نے اگرچہ ان کے منصب کو ’’تواناتر‘‘ بناتے اپوزیشن اراکین کا قومی اسمبلی کے اجلاس میں کھڑے ہوکر شکر یہ تک ادا کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ سینٹ کے اجلاس میں تو اس وقت تشریف بھی نہ لائے جب ان کو ’’تواناتر‘‘ بنانے کے لئے تاریخی عجلت سے ’’منظورہے‘‘ کی آوازیں بلند ہورہی تھیں۔مذکورہ قانون کی منظوری کے بعد وزیر اعظم نوشہرہ میں ڈرائی پورٹ کی افتتاحی تقریب میں گئے۔

وہاں راولپنڈی کی لال حویلی سے ابھرے بقراط عصر نے تماشائیوں کو یہ یاد دلاتے ہوئے بے پناہ دادسمیٹی کہ ’’میں نے کہا تھا ناں کہ اپوزیشن لیٹ کر اس قانون‘‘ کی حمایت میں ووٹ دے گی۔ تماشائیوں کی دادوتحسین نے وزیر اعظم صاحب کو مسکرانے پر مجبور کردیا۔ عمران خان کے ’’اختیارات‘‘کو مضبوط تر بنانے کو بے چین ہوئی اپوزیشن کے ہوتے ہوئے میں ان کے استعفیٰ کا انتظار کرنے کو لہذا تیار نہیں۔’’انہونی‘‘ مگر ’’معجزوں کے دیس‘‘ میں ہوبھی گئی تو 342کے ایوان میں 84نشستوں کے ساتھ شہباز صاحب موجودہ قومی اسمبلی میں ’’اکثریت‘‘ کیسے دکھاپائیں گے؟ اس سوال کا جواب میرا پھوہڑ ذہن تلاش نہیں کرسکتا۔ ’’پیر سپاہی‘‘جیسے لوگوں کا ’’کشف‘‘ اس ضمن میں رہ نمائی عطا فرمائے تو عمر ساری عقل پرستی کی نذر کرنے کے بعد آخری وقت میں صاحبان کشف کا معتقدہوجائوں گا۔