آنکھوں دیکھا حال - عصمت اسامہ

کیا آپ نے کبھی قربانی کا ایسا جانور دیکھا ہے جس کی شہ رگ کو کاٹا جارہا ہو ؟کچھ ایسی ہی حالت مملکت_خداداد پاکستان کی ہے جس کی شہ رگ یعنی "کشمیر"لہولہان ہے ۔زندگی اور موت کی فیصلہ کن کشمکش میں ایک نظریاتی جماعت ، جماعت اسلامی پاکستان پچھلے پانچ ماہ سے اسے بچانے کی کوشش میں نقارہء حق بلند کررہی ہے۔بھارت نے کشمیر میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
~ زلزلے یونہی زمینوں پہ نہیں آتے ہیں - کوئی بےتاب تہہ_خاک تڑپتا ہوگا!
انسانی حقوق کو پامال کیا جارہا ہے ۔یہ تشویشناک صورتحال عملی اقدامات کی متقاضی ہے۔ایسے دور میں جب بڑی سیاسی پارٹیاں اپنے اختلافات اور اپنے قیدی قائدین کی خاطر آپس میں الجھی ہوئ ہیں ،امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق صاحب نے اپنے عزم و ہمت سے کشمیر کا پرچم اٹھایا ہے۔قائداعظم محمد علی جناح کے فرمان "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے"کے مطابق قوم کی شہ رگ کے تحفظ کے لئے جماعت اسلامی کوشاں ہے۔

مسافر شب کو چلتے ہیں جو جانا دور ہوتا ہے ،کے مصداق ہم لوگ فیملی کے ساتھ شب کو ہی جانے کے لئے تیار ہوگئے تھے ۔میں جب اسلام آباد جانے کے لئے گاڑی میں سامان رکھ رہی تھی تو یوں محسوس ہورہا تھا کہ قدرت مجھے یہ الفاظ لکھوانے کے لئے ہی وہاں لے جارہی ہے کہ کشمیر جو میرے آباؤ اجداد کی سرزمین ہے اسکی خاطر جہاد بالقلم میں کچھ حصہ ڈال سکوں۔میری چھوٹی بیٹی جو تقریبا"چارسال کی ہے ،بڑی معصومیت سے پوچھنے لگی ۔۔ماما ہم نے کب جانا ہے کشمیر کی جنگ میں ؟؟اور میں بس یہی کہہ سکی کہ جب اللہ چاہے!مجھے حیرت ہے کہ 22 دسمبر کے بارے میں بار بار موبائل میسج آرہے تھے کہ سائبیریا کی برفیلی ہوائیں پاکستان میں داخل ہورہی ہیں لیکن ہم لوگ جب ڈی چوک اسلام آباد پہنچے تو کشمیر کی جلسہ گاہ میں گرم چمکیلی دھوپ چھائ ہوئ تھی ۔رب کریم کی خصوصی مہربانی کہ اس ذات نے اپنے مخلص بندوں کی یوں میزبانی فرمائ۔جماعت اسلامی کے کارکنان کے قافلے بسیں اور کوچز کی قطاریں جوق در جوق جلسہ گاہ میں داخل ہورہے تھے۔سبز آسمانی پرچموں کی بہار نے عجب سماں باندھ رکھا تھا۔تاحد_نگاہ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا جس کی وسعت کو ڈرون کیمرے سے بھی کیپچر نہیں کیا جاسکا۔

سینیٹر مشتاق احمد صاحب نے کھرے لہجے میں آئی ایس پی آر کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا کہ کشمیر آئٹم سونگ سے نہیں بلکہ جہاد سے آزاد ہوگا ۔یہ غوری ،یہ شاہین یہ حتف اسلئے ہیں کہ ہندوستان کی عقل ٹھکانے لائ جاۓ۔یہ نمائش کے لئے نہیں ہیں۔جہاد کی تیاری اور جہاد کا اعلان ہی سری نگر کی آزادی کا راستہ ہوگا۔145 دن ہوگئے ہیں ۔بھارت نے 35-A کو ختم کردیا۔370 ختم کردیا ۔کشمیر کے جھنڈے کو ختم کردیا۔بدترین قسم کی ریاستی دہشتگردی ہے۔انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔13 ہزار بچے ہندوستان کی جیلوں کے اندر ہیں۔لائین آف کنٹرول کے اوپر گولہ باری ہے۔براہموس میزائل نصب کردیا اور یہ کہتے ہیں کہ ٹرمپ ثالثی کرے گا۔وہ ٹرمپ جس کے ساتھ مودی نے جلسہ کیا اور دونوں نے مل کے کہا کہ اسلامک ملیٹینسی کے خلاف ہمارا اتحاد ہے۔وہ ٹرمپ جس نے فرانس میں مودی کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کے قہقہہ لگا کے دوستی کا مظاہرہ کیا ۔اس ٹرمپ سے یہ ثالثی کی امید رکھتے ہیں۔
~ بتوں سے تجھ کو امیدیں ،خدا سے نومیدی - مجھے بتاتو سہی اور کافری کیا ہے!
ایک طرف ظلم و بر بریت اور ریاستی دہشتگردی ہے دوسری طرف ہماری حکومت صرف تقریر اور ٹویٹ کر رہی ہے۔وزیراعظم صاحب! ٹیپو سلطان ہتھیار سے محبت کرتا تھا ،جہاد کے راستے پہ چل رہا تھا اور شہادت کا جام نوش کیا ۔۔۔تم ٹیپو سلطان نہیں ہو! امریکہ کے سامنے سجدہ ریز ہوکر اللہ کی عبادت اور اللہ سے مدد کے دعوے کرنے والے حکمرانوں کی عملی کارکردگی صفر ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   خزاں رسیدہ چنار - قرأةالعين

جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود خان صاحب نے متنبہ کرتے ہوۓ کہا کہ ریاست کشمیر 200 سال سے وقت کے ہر سامراج سے لڑ رہی ہے لیکن جب اسلام آباد سے بے اعتنائ کا خنجر گھونپا جاتا ہے تو مجاہدین جس طرح تڑپتے ہیں شاید اسکے لئے الفاظ نہ مل سکیں۔"ریاست جموں و کشمیر کا سودا ،انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ سے لے کر جنوبی ایشیا تک اگر کہیں زیر غور ہے تو ایسا کوئ فارمولا کشمیریوں کی لاشوں سے گزر کر بھی بروۓ کار نہیں آسکے گا "۔پاکستان کے حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ کشمیریوں کے جہاد اور انکے خون سے بے وفائ نہ پہلے کسی کو راس آئ ہے نہ اب راس آۓ گی۔مودی کی سٹریٹجی کے خلاف آپ کاؤنٹر سٹریٹجی دیں۔سقوط سری نگر کے بعد اکھنڈ بھارت کا ایجنڈا مودی کا روڈ میپ ہے ۔عمران خان صاحب کونسا روڈ میپ آپکے پاس ہے ؟ اسلام آباد کی خیر منائیے ۔اگر تقسیم کشمیر کی بات کو آگے بڑھایا گیا تو لاکھوں لوگ دوبارہ ڈی چوک آئیں گے اور لاک ڈاؤن کریں گے۔ہم آزاد کشمیر کے بیس کیمپ میں 47ء کا کردار ادا کرنے کے لئے بے چین ہیں ۔کوئ بین الاقوامی قانون ہمارے پاؤں کی بیڑی نہیں ہے۔ پھر ہم روڈمیپ دیں گے ۔پھرکوئ گلہ شکوہ نہ کیجئے گا۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے جلسہ گاہ میں آنے والے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ اپنے خطاب میں حقائق کی ترجمانی کی۔آپ نے کہا کہ کشمیریوں نے آزادی کی خاطر پاکستان کی خاطر 5 لاکھ شہداء کو قربان کیا ہے۔

میں جناب گیلانی صاحب کو ،شبیر شاہ کو،آسیہ اندرابی کو ،تمام قیادت کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کشمیریو! آپ نعرہ لگاتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے ۔آج لاکھوں کے مجمع میں تمام پاکستانیوں کی طرف سے میں یہ پیغام دیتا ہوں کہ کشمیریو! آپ ہمارے ہیں اور ہم تمہارے ہیں۔دنیا کی کوئ طاقت ہمیں جدا نہیں کرسکتی۔200 سال سے قائم ریاست کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کردی گئ ہے۔ہم نے ایوانوں میں تمہارا پیغام پہنچایا لیکن ایوانوں میں بیٹھے لوگ اندھے بہرے گونگے ہیں یا مفاد پرست ۔کوئ بات نہیں سنتے۔مودی نے سری نگر کو گوانتاناموبے میں تبدیل کیا ہے۔گینیز بک ورلڈ ریکارڈ میں کشمیر میں دنیا کا طویل ترین محاصرہ جاری ہے۔کشمیر ، تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے ۔کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔اللہ اپنے کلام میں فرماتا ہے کہ "تمہیں کیا ہوگیا ہے جو ان بے بس مردوں ،عورتوں اور بچوں کی خاطر لڑتے نہیں ہو جو کمزور پاکر دبا لئے گئے ہیں ۔ مودی کہتا ہے کہ میں نے 3 وعدے کئے تھے ۔بابری مسجد کی جگہ مندر کاوعدہ ،مقبوضہ کشمیر کو انڈین یونین میں شامل کرنے کا وعدہ ۔تیسرا وعدہ اپنے نقشے میں گلگت بلتستان کو شامل کر کے کہتا ہے کہ بہت جلد آپکو اکھنڈ بھارت کا تحفہ بھی دوں گا۔اتنے بڑے اعلان جنگ کے بعد ہماری حکومت کیا کر رہی ہے ؟؟ہمارے وزیر اعظم نے کہا کہ میرا آئیڈیل ٹیپو سلطان ہے ۔میں میر جعفر نہیں بننا چاہتا لیکن انھوں نے اعلان کیا کہ جو کشمیریوں کی حمایت میں لائین آف کنٹرول کی طرف جاۓ گا وہ پاکستان کا غدار ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   تمہیں یاد ہو کہ ناں یاد ہو - رقیہ اکبر چودھری

سراج الحق صاحب نے کہا کہ اگر آپ پاکستان کو لیڈ نہیں کرسکتے تو پھر آپ کرسی چھوڑ دیں۔اس ملک میں ایسے لوگ موجود ہیں جو پاکستان کی حفاظت بھی کرسکتے ہیں اور کشمیر کو بھارت سے آزاد بھی کرواسکتے ہیں! آج امریکہ بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ہے ۔ انڈیا گریٹر انڈیا چاہتا ہے جس میں انڈونیشیا تک کا علاقہ شامل ہو۔اسرائیل گریٹر اسرائیل چاہتا ہے جس میں خیبر کے علاوہ مدینہ منورہ بھی شامل ہو۔عوام سوال کرتے ہیں کہ آپ نے کہا تھا کہ ہم آخری گولی آخری سپاہی تک لڑیں گے لیکن پانچ مہینوں میں آپ نے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا ہے۔میرے بھائیو اور بہنو! میں نے آپکو بلایا ہے کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں ۔ملک کو خطرہ ہے۔خدا کی قسم اگر آپ کشمیر ہار گئے تو جہلم میں ،چناب میں ،راوی میں ،ستلج میں ایک قطرہ پانی کا آپ کو نہیں ملے گا۔یہ ملک صحرا بن جاۓ گا۔آج میں سر بکف اس میدان میں آپ کے لئے ،پاکستان کے لئے اور آپکی نسلوں کے لئے کھڑا ہوں۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب نے کہا کہ مشرف کی پھانسی سے بڑا مسئلہ کشمیر اور مہنگائی ہیں۔آپ نے درج ذیل مطالبات پیش کئے : ہندوستان کے ساتھ تمام معاہدات بشمول شملہ ،تاشقند ،لاہور ختم کئے جائیں۔او آئ سی کا اجلاس بلایا جاۓ۔ کشمیر کی خاطر حکومت سب سیاسی پارٹیوں کی کانفرنس بلاۓ۔ہندوستان کے لئے پاکستان کا فضائ راستہ بند کیا جاۓ۔کشمیر کے عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے انسانی بنیادوں پر فنڈ قائم کیا جاۓ۔

پرویز مشرف کے زمانے میں لائین آف کنٹرول پہ 450 میٹر لمبی باڑ لگوائ گئ تھی اسے ہٹانے کا انتظام کیا جاۓ۔اس ملک کے بڑے عہدوں پر قادیانی موجود ہیں انھیں ہٹایا جاۓ۔جہاد کا اعلان کرنا حکومت کا فرض ہے۔حکومت پاکستان جہاد کشمیر کا اعلان کرے۔ یہ عقل کا تقاضا نہیں ہے کہ سکول کالج یونیورسٹی کا طالبعلم جہاد کرے اور جنہیں جہاد کے لئے تیار کیا گیا ہے (یعنی افواج) وہ اسلام آباد میں بیٹھیں۔ کشمیر مارچ سے آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان صاحب اور ممبر اسمبلی نسیمہ وانی نے بھی خطاب کیا۔ جناب لیاقت بلوچ ،امیر العظیم صاحب اوردیگر قائدین جماعت اسلامی نے بھی اپنی تقاریر میں کشمیری مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ ڈپٹی سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی خواتین آزاد کشمیر طلعت حمیدہ ،صدر اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹر سیدہ فرزانہ ،نائب ناظمہ شمالی پنجاب کوثر پروین نے خصوصی شرکت کی۔دعا سے اختتام کے بعد شرکاء پرامن اور منظم انداز سے رخصت ہوۓ۔اور ہم بھی اپنے ضمیر کی سرشاری کی کیفیت میں واپسی کو روانہ ہوگئے۔