حکومت اپنے اندر کالی بھیڑیں تلاش کرے - حبیب الرحمن

ویسے تو پاکستان کبھی "آسان" دور سے نہیں گزرا لیکن آج کل جن "مشکل" حالات کا شکار ہے وہ ماضی میں کبھی نہیں رہے لیکن سوال یہ ہے کہ حالات کی یہ مشکلات لائی ہوئی کس کی ہیں؟۔ یہ صورت حال نہ تو آسمان سے نازل ہوئی ہے اور نہ ہی زمین سے ابل پڑی ہے بلکہ یہ تباہی و بربادی موجودہ حکومت یا ان کے مشیروں کی لائی ہوئی ہے یا پھر معصوم عوام پراس حکومت کو مسلط کرنے والوں کا شاخسانہ ہے۔کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کیلئے ثبوت و شواہد یا بڑی بڑی دلیلوں کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔

کیا رات چھائی ہوئی ہو یا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ نکلا ہوا ہو تو رات کو رات اور دن کو دن ثابت کرنے کیلئے عدالتوں کے چکر لگانے اور وکیل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے؟۔ جس طرح رات رات ہی ہوتی ہے اور دن دن ہی ہوا کرتا ہے بالکل اسی طرح موجودہ حکومت نہ تو عوامی نمائدہ ہے اور نہ ہی کوئی اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ یہ عوام پر عذاب کی صورت مسلط کیا گیا ایک قہر ہے جس کی تباہی و ہلاکت سے اللہ ہی بچا سکتا ہے یا پھر ان شہید روحوں کی دعائیں جنھوں نے پاکستان بنانے کی جد و جہد میں صرف اور صرف اس لئے قربانیاں دی تھیں کہ یہاں اللہ اور اس کے رسول کا نظام نافذ کیا جائے گا۔

جو قیادتیں حقیقی جد و جہد اور عوامی طاقت و قوت سے اپنی منزل مراد پایا کرتی ہیں صرف ان ہی کو اپنی قربانیوں کی قدر ہوتی ہے۔ جن کو اقتدار کی منزل بغیر کسی قربانی دیئے حاصل ہوتی ہے انھیں کبھی اس بات کی پرواہ ہو ہی نہیں سکتی کہ منزل ہاتھ سے جاتی ہے یا رہتی ہے۔ جو عوامی تائید کے بغیر آئے ہوں ان کو عوام کی بھلا کیا فکر ہو سکتی ہے اسی لئے پاکستان میں موجودہ نام نہاد جمہوری حکومت کی نظروں میں عوام کی نہ تو فلاح کی کوئی فکر ہے اور نہ ہی اس کی بہبود کا خیال۔ اسے اگر کوئی فکر ہے تو ان بڑی اور مخالف جماعتوں کی جو کسی بھی وقت اس کے اقتدار کا سورج غروب کر سکتی ہیں یا پھر ان قوتوں کے ہاتھ پاؤں مضبوط کرنے کی جو اسے اقتدار کی کرسی تک لے کر آئی ہیں۔

ہوتا یہ ہے کہ ہم جو عمل یہ سوچ کر کررہے ہوں کہ اس سے ہمارے مخالفین کی شہرت مجروح ہوگی یا ان کے حوصلے پست سے پست تر ہوجائیں گے یا ہم جن کی مہربانیوں سے عزت و جاہ کے مالک بنے ہیں ان کی عزت و وقار میں ہمارے عمل سے اضافہ ہو جائے گا تو بعض اوقات ہمارے ہر عمل کا نتیجہ ہماری سوچ کے بر عکس ہمارے سامنے آتا ہے اور ہماری ساری تدابیر الٹ کر رہ جاتی ہیں۔ یہی کچھ موجودہ حکومت کے ساتھ پیش آ رہا ہے۔ ایک جانب تو موجودہ حکوت جن دعوں اور وعدوں کا سہارا لیکر میدان عمل میں اتری تھی، وہ سب تو ریت کی دیوار یا سوکھے ہوئے پتے ثابت ہوئے جو مشکلات کی ہوا کے ایک ہلکے سے جھونکے میں بکھر کے رہ گئے۔ ایک کروڑ نوکریاں، 50 لاکھ گھر، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی، بجلی، گیس اور پٹرول کا سستا ہونا اور ڈالر کی قدر گرجانا جیسے دعوے ہوا میں تحلیل ہوگئے اور اس کے برعکس عوام کی مشکلات میں اضافہ در اضافہ ہوتا گیا۔ آخر میں میں "میں نہیں چھوڑونگا" کا نعرہ بھی اب کافی عرصے سے اس لئے سنائی نہیں دے رہا کہ خود اب ان تمام "نہیں چھوڑوں گا" کی مدد اور اعانت کی ضررورت شدت کے ساتھ پڑتی محسوس ہو رہی ہے، اس لئے کہ بہت سارے قانونی معاملات ایسے درپیش ہیں جن کو "میں نہیں چھوڑوں گا" کی شراکت اور امداد کے بغیر حل کیا ہی نہیں جا سکتا۔

اس حکومت کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ اپوزیشن اور "محسنوں" کے درمیان شٹل کاک بن کر رہ گئی ہے۔ ایک جانب سے اپوزیشن اگر ایک شاٹ لگاتی ہے تو دوسری جانب "محسنین" اس کو اچھال کر دوبارہ اپوزیشن کے کورٹ میں پھینک دیتے ہیں۔ یہ جب جب عوامی انداز میں اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے اپوزیشن سے کسی سمجھوتے کی جانب بڑھتی ہے تو محسنین اس کو دوبارہ اپوزیشن کے مد مقابل کھڑا کر دیتے ہیں۔ این آر او نہیں دونگا کے نعرے لگانے والی حکومت جب ایک ایک کرکے اپنے مخالفین کو رہائی کے پروانے جاری کر رہی ہوتی ہے تو اچانک پھر کسی اور کی گرفتاری عمل میں آجاتی ہے اور یوں "سمجھوتا" ایکس پریس پٹڑی سے اتر جاتی ہے۔

ایک جانب ڈوبنے اور ابھرنے کا یہ کھیل اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے تو دوسری جانب حکومت کی طرف سے حماقتوں پر حماقتیں ہیں کہ ایک کے بعد ایک سامنے آتی چلی جارہی ہیں اور حکومت کی ہر وہ تدبیر جو اس کی مضبوطی کا سبب بن سکتی ہو، اس کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔حکومت کا خیال تھا کہ اگر وہ آرمی چیف جناب قمرجاوید باجوہ صاحب کی مدت ملازمت میں توسیع دیدیں گے تو ایک جانب "سمجھوتا ایکپریس" کی رفتار اور کارکردگی میں شاندار اضافہ ہو جائے گا تو دوسری جانب "حقِ نمک" بھی ادا ہو جائے گا لیکن معاملا اس کے بر عکس ثابت ہوا۔ حکومت کی قانونی ٹیم نے ناکامی کا اس سے بھی بد تر منھ دکھایا جس کا مظاہرہ حکومت ہی کی معاشی ٹیم اس سے قبل کر چکی تھی۔

قانونی ٹیم نے وہ گل کھلائے کہ نہ صرف حکومت کی بلکہ پاکستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سب سے مضبوط اور طاقتور ادارے کی بھی پوری دنیا میں بڑی رسوائی ہوئی۔ ابھی اس رسوائی کا زہر نکلا بھی نہیں تھا کہ حکومت اپنا مقدمہ "جیت" گئی اور سابق آرمی چیف اور سابق صدر پاکستان جنرل مشرف عدالتوں کے فیصلے کے مطابق سنگین غداری کیس میں 5 بار پھانسی پانے کے مجرم قرار دے دیئے گئے۔ یہ بھی عجب بات ہے کہ جس کی (حکومت کی) جیت ہوئی سب سے زیادہ دکھ اسی کو ہو رہا ہے اور وہ اپنی "جیت" کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کی تیاری میں مصروف ہے۔ اس "جیت" کا ایک اور پہلو بھی ہے جو ہر عام و خاص کی عقل و سمجھ سے باہر ہے اور وہ یہ کہ "جنرل" کا تعلق جس ادارے سے تھا وہ بھی عدالت اور عدالتی فیصلے پر تو برہم نظر آتا ہے لیکن جو فریق (حکومت) اس مقدمے کو جیتا ہے اس کی جانب سے اسے نہ تو گلہ ہے اور نہ ہی اس سے کوئی شکایت جبکہ جیتنے والا فریق اگر عدالت میں پیش کی ہوئی اپنی درخواست واپس لے لیتا تو معاملہ بالکل اسی طرح بآسانی حل ہو جاتا جیسے مکھن میں پڑا کوئی بال کھینچ لیا جاتا ہے۔

اگر غور کیا جائے تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اندرونِ خانہ یا تو "محسنین" اور "ممنون" ایک دوسرے کے خلاف کھیل کھیل رہے ہیں یا پھر ان کے درمیان کوئی ایسا ضرور ہے جو دونوں سے اپنے حقیقی "محسن" کے خلاف کی جانے والی سازشوں کا بدلہ لینے کے در پے ہے۔حکومت کی قانونی ٹیم کے روح رواں ایک ایسے "سرخیل" ہیں جن کی مسحور کن شخصیت نے نہ صرف حکومت کے سب سے بڑے عہدیدار کو اپنا اسیر بنایا ہوا ہے بلکہ "محسنین" بھی ان ہی پر اعتماد کرتے نظر آتے ہیں۔ سابق آرمی چیف جنرل مشرف ہو یا موجودہ "ایکس ٹینڈڈ" جنرل، ان کی خدمات دونوں ہی حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس ممبر کا اخلاص بھی دیکھیں کہ وہ بھی وزارت چھوڑ کر ایک وکیل بن جانے کو ترجیح دینا قبول کر لیتا ہے۔ دوسری جانب "ممنون" کا بھی یہ حال ہے کہ اس پر اس بری طرح مر مٹا ہے کہ "ایکسٹینشن" کا کیس حل ہوتے ہی دوبارہ اسے اپنے گلے سے لگاتے ہوئے امانت کے طور پر واپس لی گئی وزارت اسی کو بصد شکریہ واپس کر دیتا ہے۔

پیار محبت کی یہ لازوال داستان اپنی جگہ لیکن کبھی کسی نے اس بات پر بھی غور کیا کہ موجودہ آرمی چیف کو ایکسٹینشن دیئے جانے والے معاملات کو کس نے اس حد تک الجھاوے کا شکار کیا کہ پوری دنیا میں پاکستان، حکومت اور ادارے کی جگ ہنسائی ہوئی؟۔ پھر کیا کسی نے اس بات پر بھی غور کیا جنرل مشرف کا وہ کیس جو دو بول لکھ دینے سے واپس ہو سکتا تھا اور وہ سنگین غداری کیس سے باعزت طور پر بری ہو سکتا تھا تو قانونی ٹیم کی اسی مقبول ترین شخصیت نے حکومت کو درخواست واپس لینے کا مشورہ کیوں نہیں دیا۔

اس بات کو کسی صورت فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ موجودہ حکومت میں ایک بھاری تعداد ان افراد کی موجود ہے جو سابق جنرل مشرف کی بنائی ہوئی حکومت میں موجود تھی۔ قانونی ٹیم میں شامل اہم اور مقبول ترین قانون دان بھی وہ صاحب ہیں جو سابق جنرل مشرف کا مقدمہ لڑتے رہے ہیں اور جنرل مشرف کو پاکستان سے باہر بھیجنے کے تنہا ذمے دار بھی وہ ہی رہے ہیں۔ موجودہ حکومت میں مشرف کے اتنے ہمدرد موجود ہونے کے باوجود بھی اگر مشرف صاحب کو سنگین غداری کیس میں سزا سنادی جاتی ہے تو پھر مقتدرہ کو بھی چاہیے کہ وہ سارے معاملات کا از سر نو جائزہ لے اور اس بات پر سنجیدگی سے غور کرے کہ کہیں اس کے اپنے لائے ہوئے لوگ ہی ادارے کی جڑیں تو نہیں کاٹ رہے ہیں اور وہ اندرونِ خانہ خود اس سے کوئی کھیل تو نہیں کھیل رہے ہیں؟۔

یہاں اس پہلو کو بھی نظر میں رکھنا ضروری ہے کہ قانی ٹیم کے اس اہم ممبر کو متعارف کرانے والی کون سی شخصیت تھی اور پھر اسی شخصیت کے خلاف پاکستان میں 100 سے بھی کہیں زیادہ قائم ہونے والے "غداری" کے مقدمات کی وکالت کون کر رہا تھا؟۔ جس شخص کو پاکستان میں کوئی پہچانتا تک نہیں تھا وہ اچانک چکمتا دمکتا ستارہ کیسے بن گیا؟۔ کیا اس کے دل میں کوئی ہلکی سی رمق بھی اپنے "لانے" والے کیلئے ہونے کا امکان نہیں۔
یہ وہ ساری باتیں ہیں جن پر "محسنین" اور "ممنونوں" کو نہایت سنجید گی سے غور کرنا ہوگا اس لئے کہ دونوں "میزبان" اور "مہمان" کو آمنے سامنے کھڑا کرنے والی حکومت کی قانونی ٹیم کی سنگین غلطیاں ہیں جو ضروری نہیں کہ محض اتفاقاً ہوئی ہوں۔ ممکن ہے کہ ان پہلوؤں پر ضرور غور کیا جائے گا اور اپنے اندر کی کالی بھیڑوں کو تلاش کرکے اپنے آپ عوام کی نگاہوں میں معتبر بنایا جائے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */