خوشی کے آنسو - مفتی سیف اللہ

ہر انسان خوشی کا متلاشی ہے۔اسی کیلئے ہر لمحہ کوشاں ہے۔دن بھر خاک چھانتا ہے۔اس کی جدوجہد میں تھک کر چُور ہوجاتا ہے۔مگر پھر بھی اسے حاصل نہیں کرپاتا۔کیوں؟وہ خوشی کو وہاں نہیں تلاش کرتا جہاں خوشی پائی جاتی ہے۔ایسے ہی خوشی کی تلاش میں سرگرداں ایک نوجوان نے سارا جہان چھان مارا۔ہر جگہ سے منہ کی کھائی۔اس کی ہمت و حوصلہ جواب دے گیا۔تھک ہار کے بیٹھ گیا۔وہ زندگی سے مایوس ہو کر تنہا ایک پارک میں بیٹھا تھا۔ ایک بابا جی وہاں سے گزرے تو انہوں نے پریشانی کی وجہ دریافت کی۔نوجوان نے اپنی ساری روداد سنادی۔میں نے زندگی میں کوئی خوشی نہیں دیکھی۔ہر کسی نے مجھے غم اور دکھ دئیے ہیں ۔ بچپن ، لڑکپن اور جوانی کی ساری محرومیوں کو وہ بتاۓ جارہا تھا۔پڑھائی میں ناکامی سے لےکر حصول ملازمت کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے تک ہر پریشانی کے متعلق خوب کھل کر بولا۔حتٰی کہ وہ یہاں تک کہہ گیا کہ اب وہ اس دنیا میں مزید نہیں رہ سکتا۔اس کی باتوں میں حالات سے مایوسی،اپنوں سے شکوے اور دوستوں کی بےوفائی کا ذکر تھا۔باباجی نے ساری بات سننے کے بعد کہا۔ بیٹا! خوشی دنیا میں کہیں نہیں پائی جاتی۔ کیا مطلب؟ نوجوان ہڑبڑایا۔ جی ہاں۔ بابا جی پھر بولے۔

خوشی دنیا میں کہیں نہیں پائی جاتی۔خوشی تمہارے اندر پائی جاتی ہے۔خوشی کاتعلق تمہارے دماغ اور تمہاری سوچ سے ہے۔اپنی اس خوشی کو تلاش کرو۔نعمتوں کی قدر کرو۔اللہ تعالی نے تمہیں خوبرو نوجوان بنایا ہے۔صحت اور جوانی دی۔رشتے دار اور دوست دئیے۔ہر نعمت ایک بڑی خوشی ہے۔اگر تم اپنی خوشیاں گننا چاہو تو گن بھی نہیں سکتے۔بیٹا! انسان کی اصل بلکہ انسان کا سب کچھ اس کی سوچ ہے۔شیکسپئر نے کہا ہے کہ”ہم وہ نہیں جو ہم کرتے ہیں بلکہ ہم وہ ہیں جو ہم سوچتے ہیں”۔اگر سوچ مثبت ہے تو انسان ہر حال میں خوش ہوگا اور اگر سوچ مثبت نہیں تو وہ کسی حال میں بھی خوش نہیں ہوسکتا۔میں نے زندگی کے بڑے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔میں نے جھونپڑیوں والوں کو خوش اور بنگلوں میں رہنے والوں کو پریشان دیکھا ہے۔بسترِمرگ پر پڑے بیماروں کو شکر کرتے اور ہٹے کٹے نوجوانوں کو شکوہ کرتے سنا ہے۔میں نے دہقانوں کو شاداں اور سرمایہ داروں کو نوحہ کناں دیکھا ہے۔ یہ سب کیا ہے؟ سوچ ہی تو ہے۔ایک سب کچھ ہوتے ہوۓ بھی ناخوش ہے جبکہ دوسرا کچھ بھی نہ ہوتے ہوۓ خوش ہے۔لہذا اپنی سوچ کو بدلو۔ باباجی مسلسل بولے جارہے تھے اور وہ نوجوان ان کی باتیں توجہ سے سن رہا تھا۔بیٹا! دنیا کی ہر چیز میں خوبیاں اور خامیاں ہیں۔اگر تم اپنی سوچ پاکیزہ بنا کر صرف خوبیاں دیکھو گے تو خوشیاں ملیں گی اور اگر برائیاں دیکھو گے تو تمہیں پریشانیاں ملیں گی۔

اگر خوبی نظر نہ آۓ تو خوبی تلاش کرو۔کسی نے کیسی پیاری بات کی ہے کہ”ہر خراب گھڑی بھی دن میں دو مرتبہ صحیح وقت بتاتی ہے۔”اگر کسی کی برائی نظر آۓ تو اسے نظر انداز کرو۔ سفید کاغذ پر لگے ایک نقطہ پر اپنی نظر نہ دوڑاؤ بلکہ سفید کاغذ کی ستھرائی پر نگاہ ڈالو۔کسی کے اجلے لباس پر جمی نظر اس کے داغ کی طرف متوجہ نہ ہوسکے۔دوسروں کے عمدہ کردار پر تمہاری اتنی گہری نظر ہو کہ ان کی برائی دیکھ یا سن نہ پاؤ۔جب تم ہر چیز میں اچھائی دیکھوگے تو تمہاری سوچ مثبت ہوگی۔اور یہی سوچ تمہاری خوشی کا باعث ہوگی۔جب تمہارے پاس خوشیاں ہوں گی تو تم خوشیاں بانٹو گے۔ ہر طرف سے تمہیں محبت،چاہت اور وفا ملے گی۔سب تمہاری طرف کھچے آئیں گے۔باباجی نے بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوۓ نوجوان سے پوچھا۔یہ سامنے کیا ہے؟ نوجوان نے کہا: پھول ہیں۔ان کے اوپر کیا ہے؟ باباجی نے ایک اور سوال کیا۔کانٹے ہیں۔ نوجوان نے جواب دیا۔باباجی نے کہا: یہ کہنا کہ پھولوں پر کانٹے کیوں لگے ہوۓ ہیں؟ یہ ہمیں چبھتے ہیں۔ یہ منفی سوچ ہے۔ جو انسان کو پریشان کرتی ہے۔جبکہ یہ کہنا کہ کانٹوں کے پیچھے بھی کتنے خوشنما پھول ہیں۔ یہ مثبت سوچ ہے جو ہماری خوشی کا باعث ہے۔ وہ اس پر شاکی ہیں کہ پھولوں پر کانٹے ہیں - میں شاکر ہوں کہ کانٹوں کے پیچھے پھول ہیں

بیٹا! محبت،خیرخواہی،ہمدردی،سچائی،صبر ،توکل اور شکر کرنا مثبت سوچ ہےجو انسان میں خوشیاں لاتی ہے۔جبکہ نفرت،حسد،غصہ،لالچ،بدزبانی اور بد گوئی منفی سوچ ہے جو زندگی میں پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ باباجی کی باتوں نے اس کی زندگی میں ارتعاش پیدا کردیا تھا۔اس کی اندر کی دنیا بدل چکی تھی۔اس کی یاس کی جگہ آس آ چکی تھی۔پہلے جہاں پریشانیوں کے ڈیرے تھے اب خوشیوں کے بسیرے تھے۔اس کے اندر خوشیوں کی بجلی کوند چکی تھی۔چند لمحوں کی باتوں نے اس کی سوچ اور زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ اب میں ہمیشہ مثبت سوچ اپناؤں گا۔اپنے اندر خوشیاں تلاش کروں گا اور اپنی خوشیاں سب میں بانٹوں گا۔اس نے باباجی سے عہد کیا۔باباجی نے جاتے وقت مصافحہ کیلئے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔جب اس نے ہاتھ تھاما تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ جن پر وہ قابو نہ پاسکا اور خوشی سے وہ چھلک پڑے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */