’’وجہ جو بھی ہو ‘‘ امجد اسلام امجد

گزشتہ دنوں وکیلوں اور ڈاکٹروں کی لڑائی کے دوران لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جو کچھ ہوا اُس کی بہت سی وجوہات میڈیا اور فیس بک وغیرہ پر مختلف لوگوں اور ادارہ جاتی نمایندوں کی وساطت سے سامنے آ رہی ہیں اور عین ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ کسی نہ کسی حد تک درست بھی ہوں مگر دل اور دماغ دونوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ وجہ جو بھی ہو کسی اسپتال پر حملہ اور مریضوں پر دست درازی کسی بھی شکل میں قابلِ قبول نہیں کہ ایسا تو لوگ جنگ کی حالت میں بھی نہیں کرتے۔

اس پر مستزاد یہ کہ یہ کام معاشرے کے تعلیم یافتہ اور قانون کے ماہرین اور ایک طرح سے محافظ لوگوں نے کیا ،اس بات سے بھی انکار نہیں کہ نوجوان ڈاکٹرز بھی اپنے مطالبات کی تسلی کروانے کے لیے بعض اوقات ایسی حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں جو نہ صرف اُن کے مقدس پیشے کے منافی ہیں بلکہ ان کی وجہ سے مریضوں اور اُن کے لواحقین کو بھی شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے سو وکیلوں کی طرف سے لگائے گئے اس الزام میں بھی صداقت ہو سکتی ہے کہ کچھ ڈاکٹروں اور اسپتال کے معاون عملے نے بھی اُن پر سنگ باری کا آغاز کیا تھا اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے ردّعمل نے یہ صورت اختیار کر لی مگر یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ پر رہتا ہے کہ جب یہ لوگ باقاعدہ حملے کا اعلان کر کے اور دو تین میل پیدل چل کر وہاں پہنچے تھے تو آخر وہ چاہتے کیا تھے ؟ کیا انھیں علم نہیں تھا کہ یہ جگہ ایک اسپتال ہے اور اسپتال بھی وہ جہاں دل کے سنگین مرض میں مبتلا مریضوں کا علاج اور اُن کے آپریشن ہوتے ہیں۔ اس اسپتال کا گھیرائو یا محاصرہ کر کے آخر وہ کیا ثابت کرنا چاہتے تھے !

وہی اُن تھیوریوں ، مفروضوں ، سازشوں اور کچھ نام نہاد بیرونی عناصر کی دخل اندازی کی بات جن کے حوالے سے ڈاکٹروں اور وکیلوں کے درمیان کسی مبینہ جھگڑے کے پس منظر کو بنیاد بنا کر صورتِ حال کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو اگر اسے جُوں توں سچ مان بھی لیا جائے تب بھی اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اسپتال کو ٹارگٹ بنانا ایک باقاعدہ طے شدہ پروگرام تھا کہ یہ مقام اچانک ان کے رستے میں نہیں آیا بلکہ وہ ایک ڈیڑھ گھنٹہ چل کر وہاں پہنچے تھے سو یہ کہا کہ عملہ اور مریضوں پر تشدد حادثاتی طور پر ہوا یا ایک تھیوری کے مطابق کچھ نادیدہ عناصر نے کسی باقاعدہ سازش کے تحت ایک ایسی صورتِ حال پیدا کر دی جس میں یہ سب کچھ ہو گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا، اس لیے زیادہ اہم نہیں کہ اصل خرابی اُس کے لیے تھی جو اگر سار ی وکیل برادری نے نہیں تو کم از کم ان نوجوان وکلاء کا ضرور تھا جو اس مارچ میں شامل ہوئے، اب جب کہ انھیں معلوم تھا کہ اُن کا ’’دشمن‘‘ یا مطلوبہ مجرم جس علاقے میں ہے اُسے اسپتال کہا جاتا ہے تو باقی کے سارے جواز اور وضاحتیں بے معنی ہو جاتے ہیں۔

ابھی کچھ دیر پہلے میں نے فیس بک پر اپنے پرانے دوست اور طالب علمی کے ساتھی بیرسٹر حامد خان کی ایک پریس کانفرنس نما گفتگو سنی جس میں وہ وکیلوں کا بیانیہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات پر زور دے رہے تھے کہ اس مسئلے کا فیصلہ کسی نیوٹرل اور اعلیٰ سطحی جوڈیشنل کمیشن کے سپرد ہونا چاہیے جو تمام صورتِ حال کو تفصیل سے سمجھ کر اور سب پارٹیوں کا موقف سن کر فیصلہ دے اس کے بعد جو لوگ مجرم ٹھہریں انھیں بے شک قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے مگر اس طرح سے وکیلوں کی پکڑ دھکڑ اور انھیں دہشت گردی کی عدالتوں میں بہت بُرے طریقے سے پیش کرنا درست نہیں۔

حامد خان میری ذاتی رائے میں ایک بہت اصول پسند ، انصاف اور عوام دوست اور انسانی حقوق کے پُرجوش علم بردار ہیں اور انھی کی پاسداری کی خاطر انھوں نے حال ہی میں حکمران جماعت کا وائس چیئرمین ہونے کے باوجود نہ صرف کھلم کھلا اپنے اختلاف کا اظہار کیا ہے بلکہ اس کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں اور جہاں تک وکیل برادری کا تعلق ہے وہ گزشتہ ایک طویل عرصے سے وہ اس کے ایک بڑے لیڈر اور ایک خاص سوچ رکھنے والے گروپ کے سربراہ ہیں جس کے پلیٹ فارم سے پاکستان کی تقریباً تمام بار کونسلوں کے عہدیداران الیکشن لڑتے اور جیتتے ہیں، سو اُن کے یہ مطالبات سمجھ میں آتے ہیں کہ یہ ایک طرح سے اُن کا منصبی تقاضا بھی ہے اُن کی باتوں کے قانونی پہلو اور اس معاملے کی کچھ مشکوک تفصیلات یقینا ایسی ہیں کہ اُن کے بقول میڈیا کو تصویر کے دونوں بلکہ ہر رخ کو دکھانا چاہیے تا کہ جس کا جتنا قصور ہو سامنے آ سکے اور سزا کسی طبقے کے بجائے صرف اُن افراد کو ملے جن پر جُرم ثابت ہو جائے۔

اصولی طور پر ہر انصاف پر ست شخص کو ان کے اس موقف سے اتفاق ہونا چاہیے وکیلوں کے الیکشن کسی پرانی اشتعال انگیز ویڈیو کی سوشل میڈیا پر اچانک پیش کش ، کچھ نادیدہ سازشی عناصر کی تخریب کاری، ڈاکٹروں کی طرف سے حملے میں سبقت ، وکیلوں کو لگنے والی چوٹیں اُن کی اندھا دھند گرفتاریاں ان سب کی جمع تفریق اپنی جگہ ، وکلاء برادری کو میڈیا پر اس طرح سے ولن بنا کر واقعات کی ایک رخی تصویر دکھانے کا غلط رویہ بھی اپنی جگہ ، سوشل میڈیا پر اس پیشے سے متعلق تمام لوگوں کو جماعت کی سطح پر رگیدنے کی روش کی خرابی بھی اپنی جگہ لیکن وجہ جو بھی ہو کسی اسپتال پر اور وہ بھی ایسے پڑھے لکھے لوگوں کا اس طرح سے حملہ کرنا ایک ایسا عمل ہے جس کے خلاف ہر اُس شخص کو کھل کرآواز اُٹھانی چاہیے جو اپنے آپ کو انسان ، مسلمان یا باشعور کہتا اور سمجھتا ہے ۔