اسسٹنٹ کمشنر اٹک کا مسئلہ بات بڑی سادہ ہے گر سمجھنا چاہو- محمد عامر خاکوانی

قادیانی غیر مسلم ہیں چونکہ وہ عقیدہ ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے۔ ختم نبوت ﷺ پر یقین رکھے بغیر کوئی مسلمان نہیں کہلا سکتا۔ اس لئے ہم قادیانیوں کو غیر مسلم سمجھتے ہیں۔ جب تک آئین پاکستان میں انہیں غیر مسلم نہیں کہا گیا، تب تک اس کے لئے جدوجہد جاری رہی۔ حتیٰ کہ 1974میں انہیں پارلیمنٹ نے طویل غوروخوض اور ان کامکمل موقف اچھی طرح لےکر، سمجھ کر یہ فیصلہ کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا ایک بات ہوگئی۔

دوسرا اہم ایشو تحفظ ختم نبوتﷺ قوانین ہیں۔ جن کے مطابق توہین رسالت کرنے والے کسی بھی شخص کے لئے قانون میں سخت ترین سزا موجود ہے۔ 295 c. جبکہ 295 بی اور سی قادیانیوں سے متعلق ہے. اپنے آپ کو مسلمان شو کرنے والے، اپنی عبادت گاہ کا نام مسجد رکھنے والے قادیانیوں کے لئے قانون میں سزائیں موجود ہیں، کسی شکایت پر قانونی کارروئی ہوسکتی ہے اور ہوتی ہے۔ہم اس نکتے پر انتہائی واضح، غیر مبہم اور مضبوط موقف رکھتے ہیں کہ قادیانی غیر مسلم ہیں، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ انہیں مسلمان کہنا غلط اور ناجائز ہے۔ وہ مسلمانوں کا قطعی طور پر کوئی فرقہ نہیں۔

ہم اس معاملے میں بھی واضح موقف رکھتے ہیں کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والا چیپٹر اب کلوز ہوچکا ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق وہ غیر مسلم ہیں۔ طویل جدوجہد، لمبے چوڑے مسائل، فسادات، مناقشوں کے بعد پارلیمنٹ نے اس ایشو کو ٹیک اپ کیا ، طویل بحث ہوئی اور پھر اس پر فیصلہ سنا کر اس باب کو بند کر دیا۔ اب اسے کسی بھی صورت میں نہیں کھولنا چاہیے۔ ہم پہلے سے مقسم ہیں، انتشار کا شکار ہیں، ہم نئے مسائل، نئے فتنے نہیں برپا کرنا چاہتے۔ قوم اس معاملے میں یکسو ہے، جدید پاکستانی تاریخ کی اہم ترین پارلیمنٹ نے جو دستور ساز اسمبلی تھی، جس میں اس عہد کے قدآور ترین لیڈر موجود تھے، لبرل، سیکولر، لیفٹ اور رائٹ ، اسلامسٹ غرض ہر طبقے کے قد آور ترین لوگ پارلیمنٹ میں موجود تھے۔ انہوں نے اچھی طرح تسلی کر کے، یکسو ہو کر یہ فیصلہ کیا جو عوامی امنگوں، تمنائوں کے عین مطابق تھا۔ اس لئے اب اس طے شدہ معاملے کو چھیڑنے کا کوئی جواز نہیں۔ اگر کوئی ایسی کوشش کرے گا تو ہم اپنی پوری قوت سے اس کی مزاحمت کریں، پرامن جمہوری جدوجہد کے ذریعے ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

ہم سمجھتے ہین کہ تحفظ ختم نبوت قوانین برقرار رہنے چاہئیں، اس میں ترمیم تو درکنار کوئی اسے چھیڑ چھاڑ بھی نہ کرے۔ اگر کبھی کسی قسم کی پروسیجریل تبدیلی درکار ہو تو اس کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل موجود ہے، آئینی ادارہ ۔ وہ ممتاز علما کرام کے ساتھ مشاورت کر کے تجاویز مرتب کر سکتی ہے، یہ معاملہ مگر صرف جید علما کے ساتھ مشورے کے بعد ہی ہو، کسی بھی قسم کا این جی اوز زدہ ایجنڈا اس میں کارفرما نہ ہو اور وہ بھی صرف پروسیجرل تبدیلی ، وہ ابھی اگر ناگزیر سمجھی جائے تو۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی بھی حکومت مغربی دبائو پر توہین رسالت کی سزا (بلاسیفیمی لا)ختم یا نرم کر دے۔ ایسا کبھی کسی نے کرنے کی کوشش کی تو پاکستان کے عوام اس کی شدید مزاحمت کریں گے، ہم سب اس کا حصہ ہوں گے۔

اوپر بیان کئے چاروں نکات وہ ہیں جن پر پاکستان کے عوام، علما کرام ،دینی سیاسی جماعتیں ، پارلیمنٹ اور حکومت بھی متفق ہے، اسی لئے کسی جانب سے ان چاروں نکات میں تبدیلی کی کوئی تجویزنہیں دی گئی۔
قادیانیوں کے حوالے سے آئینی، قانونی پوزیشن یہ ہے کہ وہ غیر مسلم پاکستانی ہیں۔ وہ پاکستان کے شہری ہیں اور ہر غیر مسلم کمیونٹی کی طرح انہیں بھی وہ تمام شہری حقوق حاصل ہیں جو غیر مسلموں کے پاس ہیں۔
ہمارا اختلاف البتہ اس امر پر پیدا ہوتا ہے جب کسی فرد، گروہ یا جتھے کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ لوگوں کے ایمان کا فیصلہ کرے، معمولی، نہایت معمولی شبے پر لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کرے اور سکول کے طلبہ اپنے کچے، ناپختہ ذہنوں، جہالت اور کم علمی اور ناتجربہ کاری کے باوجود منصف بن کر رائے دیں، فیصلہ سنائیں اور ان کے اس رویے کو سپورٹ کیا جائے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ یہ درست رویہ نہیں۔ اس کی قطعی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

اگر ایسے حساس معاملات ہر ایرے غیرے، بچوں کے ہاتھ میں دے دئیے جائیں تو تحفظ ختم نبوت قوانین، قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کا معاملہ اور دیگر شرعی قوانین مذاق بن کر رہ جائیں گے۔ اپنی دانست میں محبت اور عشق رسول اللہ ﷺ کے تقاضے نبھانے والے یہ لوگ ان قوانین کو جنہیں منظور کرانے میں دینی حلقوں کی کئی عشروں کی قربانیں اور جدوجہد شامل ہے، انہیں متنازع بنا دیں گے۔یہ وہ بات ہے جو الٹرا لبرل، سیکولرحلقے اور بلاسیفیمی لا کی مخالف قوتیں چاہتی ہیں۔ ان کا یہی دعویٰ اور مقدمہ ہے کہ ان قوانین کو غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور ان سے قادیانی اور غیر مسلم کمیونیٹیز خوفزدہ ہیں، ان کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ ہمارے جذباتی شدت پسند دینی حلقے اپنی ناسمجھی، بے وقوفی اور عدم تدبر کی بنا پر یہی سب کچھ کر رہی ہیں۔ اس لئے ہم ان رویوں کی مخالفت کرتے ہیں، اسے رد کرتے ہیں۔ کسی بھی قسم کا، کوئی بھی ایکش ذمہ دار فورم ہی کر سکتا ہے۔ کسی گروہ یا ہجوم کو یہ حق نہیں مل سکتا۔

اٹک کی اسسٹنٹ کمشنر کے معاملے میں یہی ہوا۔ اس خاتون کی پوری ویڈیو سنی جائے تو اس نے پہلے واضح الفاظ میں یہ کہا کہ یہ نان مسلم پاکستانی ہیں۔ اب نان مسلم سے کیا مراد ہے؟ ظاہر ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ قادیانی غیر مسلم پاکستانی ہیں۔ آگے اس خاتون نے غلطی سے مسلمان فرقوں شیعہ ، سنی ،وہابی کا ذکر کرتے ہوئے قادیانیوں کا ذکر بھی کر دیا۔ جس سے بظاہر یہ تاثر پیدا ہوا کہ شائد وہ بی بی شیعہ، سنی، وہابی فرقوں کی طرح قادیانیوں کو بھی مسلمانوں کا ایک فرقہ قرار دے رہی ہے۔ یہ بات غلط ہے۔ ہم سب اسے سمجھتے اور یقین رکھتے ہیں کہ قادیانی مسلمانوں کا کوئی فرقہ نہیں بلکہ ایک الگ سے مذہب ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات مگر واضح ہے کہ یہ جملہ کہنے سے صرف بیس سکینڈ پہلے اسی خاتون افسر نے اپنی اسی تقریر میں یہ بات واضح طور پر کہی کہ قادیانی نان مسلم پاکستانیز ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے اپنا عقیدہ، نظریہ اور مطلب واضح کر دیا تھا اور اگلے جملے میں کہا گیا لفظ محض سلپ آف ٹنگ ہے، غلطی سے ادا ہوگیا۔

ہونا یہ چاہیے تھا کہ یا تو حسن ظن سے کام لیا جاتا اور بات سمجھ لی جاتی۔ اگر مزید وضاحت درکار ہوتی تو چند جذباتی طالب علموں کے بجائے ذمہ دار شہریوں کا ایک چھوٹا وفد ان خاتون افسر سے مل کر اپنا نکتہ بیان کرتا ، جواب میں وہ وضاحت کر دیتیں تو اس وضاحت کو قبول کر کے معاملہ وہیں پر ختم کر دیا جاتا۔ آئندہ کے لئے وہ خاتون بھی محتاط ہوجاتی کہ ایسے حساس معاملات میں مزید احتیاط سے بولا جائے تاکہ کسی بھی قسم کا مغالطہ پیدا نہ ہو۔ فرض کریں کہ علما کرام کا وفد ، شہر کے چند معززیں کے ساتھ اس بی بی سے ملتا، ان کی بات سنتا اور وضاحت سننے کے بعد سمجھا دیتا کہ بیٹا آپ کی سوچ، عقیدہ ماشااللہ بالکل ٹھیک ہے، آپ نے مگر غلطی سے وہ لفظ استعمال کیا جس سے منفی تاثر قائم ہوا۔ آئندہ بیٹا جی آپ احتیاط برتیے گا۔ بعد میں باہر آ کر وہ وفد ان بچوں کو یا جس کسی کو اعتراض پیدا ہوا ، انہیں سمجھا دیتا کہ بات کلیئر ہوگئی ہے۔ اس پورے قصے کی کسی بھی صورت میں ویڈیو نہ بننے دی جاتی اور معاملہ نہایت سلیقے سے حل ہوجاتا بلکہ پریس تک میں بھی نہ آتا۔

اس کے بجائے خاتون کے سینئر افسروں نے بجائے تدبر سے مسئلہ حل کر نے کے دبائو میں آ گئے اوراس اکیلی خاتون کو درجنوں لوگوں کے سامنے نہایت افسوسناک ،قابل اعتراض انداز میں ، ڈرے سہمے لہجے میں وضاحتیں کرنے پر مجبور کیا گیا۔ جبکہ وہ نویں دسویں کے لڑکے جارحانہ انداز میں تیز کلامی کر رہے ۔ یوں لگا جیسے بے بس ملزم کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا یا کسی بھیڑ بکری کو قصائیوں کے سامنے لا ڈھیر کیا۔ یہ سب غلط، افسوسناک اور شرمناک تھا۔ اس کی ویڈیوز بنائی گئیں اور انہیں وائرل کیا گیا۔ مختلف واٹس ایپ گروپس میں انہیں فاتحانہ جشن کے طور پر تقسیم کیا گیا۔ اس سے کیا حاصل ہوا؟
اس سب کا نہایت منفی نتیجہ نکلا۔ بہت ہی برا، قابل اعتراض تاثر قائم ہوا۔ وہ ویڈیو دیکھنے والا ہر بندہ یہ سمجھے گا کہ معاشرے میں عدم برداشت کس قدر بڑھ گیا ہے، تشدد اور جذباتیت کتنی زیادہ ہوگئی ہے اور مذہبی لوگ کتنے خطرناک ہو چکے ہیں۔ یہ نتیجہ بھی نکالاجاسکتا ہے اور ایک حلقہ اسی کی مہم چلائے گاکہ دیکھیں ہم نہ کہتے تھے کہ یہ قوانین بدلے جائیں، یہ کتنے خطرناک ، ڈرا دینے والے ہوسکتے ہیں، اس ویڈیو کو دیکھ کر اندازہ لگا لیں، وغیرہ وغیرہ۔

میرے نزدیک یہ ویڈیو بننا ، اس پورے معاملے کو نہایت بھونڈے طریقے سے حل کرنا سخت قابل اعتراض اور افسوسناک ہے۔ کاش ایسا نہ ہوا ہوتا۔ ہم نے اسی وجہ سے اس کی مخالفت کی، اسے پر تنقید کی۔
ویسے تو عدم برداشت کا رویہ ہی ہے کہ اس معاملے پر مجھے اتنی طویل تحریر لکھنی پڑی تاکہ خود میرے بارے میں کوئی اعتراض پیدا نہ ہو، الزام نہ لگ جائے۔ میرے جیسا شخص جو اس ایشو پر اتنا واضح ، زورشور سے لکھتا رہا ہے، اسے بھی اس قدر محتاط ہونا پڑتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com