اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا سانحہ - معظم معین

جمعیت اسلامی یونیورسٹی کا ایجوکیشن ایکسپو جاری تھا جس کی جھلکیاں اور تفصیلات فیس بک پیج پر دیکھیں ، کیا کمال پروگرام ڈیزائن کیا گیا تھا۔ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعائیں نکلیں کرنے والوں کے لیے۔ کتنے بڑے دل کا مظاہرہ کیا جب اپنے شدید مخالفین کو انتہائی عزت و احترام کے ساتھ مدعو کر کے اپنا اسٹیج پیش کیا، مکالمہ کیا، بات سنی ، اور وہ چیز جس کی شدید کمی معاشرے میں ہے دلائل سے گفتگو کا کلچر پروان چڑھایا۔ مفتی عدنان کاکاخیل کا لیکچر اسلام کا تصور حیا کے موضوع پر رکھا گیا تھا جو واقعتا وقت کی ضرورت ہے اور مفتی صاحب نے بھی اس کو خوب سراہا۔ جدید اور نئے زمانے کی مناسبت سے صحتمندانہ مقابلے کی فضا بنانے کے لیے vlog کمپیٹیشن بہت اچھا آئیڈیا تھا۔ طلبہ کو نوکری کی خاطر لکیر کا فقیر بننے سے بچانے کے لیے انٹر پرینیورشپ پر ورکشاپ بھی کیا کمال پروگرام تھا۔نشید نائٹ، کیرئیر پلاننگ، ٹیلنٹ ایوارڈ کون کون سا پہلو تھا جس پر کام نہ کیا گیا ہو۔ یہ کام ہیں طلبہ یونین کے کرنے والے۔ بین الاقوامی سیشن بھی رکھا گیا تھا جس میں مختلف اسلامی ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے ماہرین کو مدعو کر کے گفتگو کی دعوت دی گئی تھی۔ صحافیوں، سیاسی شخصیات، سول آفیسر ، پارلیمنٹیرین، علما، ادیبوں اور شاعروں کو مدعو کیا گیا اور نہایت خوبصورت محافل سجائیں۔ طلبا کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی ملازمین کے لیے بھی اس پروگرام میں تحائف رکھے گئے تھے ۔ اور یہ سب کتنے پروفیشنل اور منظم انداز میں کیا گیا، یہ جمعیت کا ہی کارنامہ ہے کہ طلبہ یونین نہ ہونے کے باوجود خود وسائل بھی جمع کرتے ہیں پلاننگ بھی کرتے ہیں اور اس پر عمل بھی کر گزرتے ہیں۔ نجانے ناقدین کو یہ صحتمند اور مثبت سرگرمیاں کیوں نظر نہیں آتیں اور میڈیا کی توجہ بھی مار دھاڑ ، نعرہ بازی اور جلاؤ گھیراو جیسے افعال ہی حاصل کر پاتے ہیں۔
شاید بد نظروں کو یہ کارنامہ ایک آنکھ نہ بھایا اور اس صحتمندانہ پروگرام کے دوران جمعرات کی شام حملہ کر کے ایک معصوم نوجوان کی جان لے لی۔ مفتی عدنان کاکاخیل نے اپنی گفتگو میں کہا تھا کہ قوم پرست گروہ اپنے مفادات کے لئے تعلیمی اداروں میں ایسی کاروائیوں کے مرتکب ہوتے ہیں ، ان کا کہا سچ ثابت ہوا۔ وہ نوجوان جو اپنے ذاتی اوقات میں سے وقت صرف کر کے طلبہ کے لئے مثبت سرگرمیوں کا انعقاد کیا کرتے تھے انہیں خون میں نہلا دیاگیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ میڈیا اس حملے کے طلبہ تنظیموں کا تصادم بنا کر پیش کرتا رہا۔ یہ کیسا تصادم تھا جس میں ایک فریق کو خراش تک نہ آئی اور دوسرے فریق کے لوگ زخمی بھی ہوئے اور ہلاک بھی۔ جب تک یونیورسٹی میں صحتمندانہ سرگرمی چل رہی تھی ، مکالمہ ہو رہا تھا، ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی ہو رہی تھی تب تک میڈیا منہ موڑے ہوئے تھا اور جب ہنگامہ آرائی ہوئی، خون بہا تو میڈیا بھی پہنچ گیا۔ نجانے ہمارے میڈیا کو بس بہتا خون ، چلتی گولیاں اور گالیاں ہی کیوں متوجہ کرتی ہیں اور معاشرے میں ویلیو ایڈ کرتے نوجوان کیوں اس کی طرف سے حوصلہ افزائی سے محروم رہتے ہیں۔ کیا یوں ہم ایک صحتمند معاشرے کی تصویر پیش کرتے ہیں۔

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.