البرہان، اک ضرب -احسان کوہاٹی

یہ 2006ء کی بات ہے، صدر پرویز مشرف کے اقتدار کا سورج پوری آب و تاب سے چمک رہاتھا اور وہ کسی عرب بادشاہ کی طرح جاہ و جلال سے حکومت کر رہے تھے آئین کی کتاب بند کرکے طاق میں رکھ دی گئی تھی کہ مشرف کی زبان ہی کو آئین قرار دے دیا گیا تھا وہ جو چاہتے تھے وہ ہوجاتا تھا ۔

ایسے میں اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں اسٹوڈنٹس کنونشن کا انعقاد رکھا جاتا ہے ،ملک بھر کے نمایاں تعلیمی اداروں سے طلباء یہاں پہنچتے ہیں پروگرام کا آغاز ہوتا ہے نوجوان مقررین باری باری اپنی سوچ کا اظہار کرتے ہیں ،ان کی تقاریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے خوب تیاری کررکھی ہے،لفظوں کا چناؤ،لہجے کااتار چڑھاؤ،بلند آواز کی یتال میل اور باڈی لینگویج ۔۔۔تقاریر میں ایک ایک بات کا خیال رکھا جارہا تھا ،ایسے میں پروگرام کے کمپیئراور سینئرسیاستدان مشاہد حسین سید کسی دینی مدرسے کے طالب کا نام لیتے ہیں ،کیمرہ مین اپنے کیمرے کو ایک وجیہہ باریش نوجوان پر فوکس کرتا ہے ،کرتا واسکٹ میں ملبوس ،گھنی داڑھی،سرخ و سپید رنگت اورسر پر ٹوپی ۔۔۔نوجوان کی آواز اسپیکر سے گونجنے لگتی ہے۔

نوجوان بلاتکلف اوربراہ راست اپنی گفتگو کا آغاز کرتا ہے،وہ کوئی پھڑکتا ہوا شعر پڑھتا ہے نہ الفاظ کے اتارچڑھاؤ پر لہجہ سوار کراتا ہے،وہ عمومی اندازسے اپنی بات رکھنا شروع کرتا ہے اس پر کنونشن سینٹر میں موجود شرکاء کا پریشرمحسوس ہوتا تھا نہ پرویز مشرف کی ہیبت سے مرعوب تھا،وہ کھل کربات کررہا تھا اور جب اس نے ملکی مسائل کا ذمہ دار کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو قراردیا تو مشرف کے چہرے کے عضلات تن گئے لیکن نوجوان ’’گستاخی‘‘ پر آمادہ تھا اس نے انگشت شہادت پرویز مشرف کی طرف اٹھائی اور کہا جناب صدر! اس ہال میں لگی قائد کی تصویر آپ سے پوچھ رہی ہے کہ جنرل تم تو سرحدوں کے رکھوالے ہوتمہیں ایوان اقتدار کی راہ کس نے دکھائی ۔

اس ’’گستاخی ‘‘کے بعد وہ پے درپے گستاخیاں کرتا چلا گیااور انہی گساتاخیوں نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے نوجوان سید عدنان کاکا خیل کو جرت کا استعارہ بنا دیا عدنان کاکا خیل کی شہرت کنونشن سنٹر سے نکل کر پورے ملک کے طول و عرض میں پھیل گئی ہر زبان پر عدنان کاکاخیل کی جرت کے چرچے تھے ،سیلانی بھی اس نوجوان کی جرت بے باکی پر حیران تھا جس نے اپنا مستقبل اپنی زندگی داؤپر لگا دی تھی اس دور میں راتوں رات بندے چھومنتر غائب ہوجاتے تھے جب افغان سفیرکو اسلام آباد سے گرفتار کرکے غائب کیا جا سکتا تھا تو ایک عام آدمی کی حیثیت کیا اورپھر ایک مدرسے کا باریش طالب علم ہونا ہی اسے مشکوک قرار دینے کے لئے بہت کافی تھا۔

سیلانی کے دل میں عدنان کاکاخیل سے ملنے کی خواہش کا پیدا ہونا فطری امر تھا لیکن مصروفیت ایسی رہتی کہ وہ باجود خواہش کے کاکا خیلوں کے اس سپوت سے نہیں مل سکاحالانکہ وہ کراچی ہی میں تھابس ملاقات ہی نہیں ہو پارہی تھی،دن ہفتے اور ہفتے مہینے سال بن کر گزرتے چلے گئے یہاں تک کہ سیلانی کراچی کو خیرباد کہہ کراسلام آباد آگیا،یہاں آکر اسے علم ہوا کہ عدنان کاکاخیل بھی اسی شہر میں آباد ہے اک روز سیلانی خبروں کے ایک سے تسلسل سے تنگ آگیا،صبح دیکھو توآرمی چیف کی ایکسٹنشن ،شام ہوتو ایکسٹنشن اور رات بھی ایکسٹنشن۔۔۔عدالت نے درست کہا تھا کہ حکومت نے اسے تماشہ بنادیا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ تماشہ لگا سپریم کورٹ میں تھااورجج صاحبان کی مدد سے لگا تھا ایک عادی درخواست گزار کی درخواست پر ملک کی سب سے بڑی عدلیہ کا الرٹ ہوجانااور پھر درخواست واپس لینے کی درخواست کے باوجود درخواست واپس نہ کرنا۔۔۔ سیلانی یہ تین روزلگنے والے تماشہ دکھ دیکھ تنگ آگیا تھا س نے عدنان کاکا خیل صاحب سے فون پر رابطہ کیااور ان سے ملنے اسلام آباد کے سیکٹر ایف میں پہنچ گیا۔

اوبر موٹرسائیکل والا اسے مطلوبہ گلی تک لے آیا یہاں ایک بڑے سے بنگلے کے سامنے باریش نوجوان کو دیکھ کر سیلانی نے اس سے عدنان کاکا خیل کا پوچھاجواب میں اس نے سیلانی سے سوال جواب شروع کر دیئے مختصر سے انٹرویو کے بعد انہوں نے بتایا کہ جس گھر کے سامنے کھڑے ہو کر وہ مفتی عدنان کا کاخیل کا پوچھ رہے ہیں یہ انہی کی رہائش گاہ اور درسگاہ ہے،انہوں نے مشورہ دیا کہ ابھی وہ کلاس میں پڑھا رہے ہیں آپ بھی شریک ہونا چاہیں تو جا کر بیٹھ جائیں جیسے ہی کلاس ختم ہو گی ان سے ملاقات کر لیجئے گا،بات مناسب تھی،سیلانی اندر چلا آیاا یک جگہ پڑے بہت سارے جوتے چپلیں پڑے دیکھ کر اسے اندازہ ہو گیا کہ اندر کلاس ہی ہورہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   منصف جلاد نہیں ہوتا - شہزاد حسین بھٹی

اس نے بھی جوتے اتارے اور اندر داخل ہوگیا عمارت میں لگے اسپیکر سسٹم سے آنے والی مانوس آواز اسکی رہنما بن گئی اور وہ سیدھا کلاس تک پہنچ گیا،یہ بڑا سا صاف ستھرا کمرہ تھاجس میں دیوار کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کارپیٹ بچھا ہوا تھایہاں ستر اسی افراد بیٹھے ہوئے مفتی عدنان کاکاخیل کا لیکچر سن رہے تھے سیلانی بھی ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا اورطلباء کاجائزہ لینے لگایہ کلاس عام کلاسوں سے بڑی مختلف تھی اس میں باریش نوجوان بھی دکھائی دے رہے تھے اورقمیض پتلون میں ملبوس کلین شیو افراد بھی ،حیران کن بات یہ کہ کلاس میں سفید داڑھی والے عمر رسیدہ حضرات بھی موجود تھے ،عدنان کاکا خیل سامنے بیٹھے کسی آیت کی تفسیر بیان کررہے تھے ساڑھے بارہ بجے کلاس ختم ہوئی مفتی عدنان کاکاخیل اپنی نشست سے اٹھے تو سیلانی بازو وا کئے سامنے آگیاوہ سیلانی کو پہچان گئے اور اسی گرمجوشی سے ملے جس کی سیلانی کو توقع تھی وہ اسے لے کر اپنے دفتر میں آگئے ۔

کل کا نوجوان سیدزادہ آج ایک بھرپور جوان رعنا کی صورت میں سامنے براجمان تھا،سرخ و سپید رنگت ،سر پر سلیقے سے بندھا ہوا عمامہ ایسے عمامے عموما شامی یا عرب علماء باندھتے ہیں،گفتگو کا آغاز رسمی گفتگو سے ہی ہوا جسے سیلانی نے زیادہ طول نہیں دیااور البرہان پر آگیا،البرہان مولانا عدنان کاکاخیل کی تحریک اور سمجھیں سیلانی کے دل کی آواز ہے۔اسے البرہان کے بارے میں صرف اتنا ہی پتہ تھا کہ یہ کالجوں یونی ورسٹیوں کے دینی مزاج رکھنے والوں نوجوانوں کی کوئی تحریک ہے ،پچھلے دنوں اسی البرہان سے وابستہ ایک نوجوان عمیر بابر چشتی نے فرانس کی کسی یونیورسٹی سے گولڈ میڈل بھی لیا تھا ۔

سیلانی کو البرہان کی سن گن مل چکی تھی اس نے مفتی عدنان کاکا خیل سے اس بارے میں سوال کیا تو وہ مسکراتے ہوئے بتانے لگے’’سیلانی بھائی ! یہ تعلیم و تربیت کا غیر روائتی انداز ہے ،اس میں صرف مخصوص عمر کے لڑکوں کوداخلہ نہیںدیا جاتا بلکہ کسی کو بھی دیا جا سکتا ہے ،دراصل ہم طالب میں علم کی تڑپ دیکھتے ہیں ،یہی ہمارا معیار ہے ،ہمارے یہاںصرف دو دن ہفتہ اتوار کلاسیں ہوتی ہیں اور زیادہ تر طلباء کالجوں یونیورسٹیوں اور مختلف اداروں سے ہوتے ہیں ان میں ڈاکٹر بھی ہوتے ہیں اور انجینئر بھی ،آپ ابھی جس کلاس میں تھے وہاں کرنل بھی تھے اور کموڈور بھی ،ہماری کلاس کے ایک طالب علم ریٹائرڈ ائیر وائس مارشل ہیں‘‘۔اس دوران ایک اور نوجوان کمرے میں داخل ہوا جسکا تعارف عدنان کاکاخیل صاحب نے عبدالباسط کے نام سے کروایا،عبدالباسط صاحب بھی اسی تحریک سے جڑے ہوئے ہیں ،کاکاخیل صاحب نے بتایا کہ ہمارا فوکس تعلیم کے ساتھ تربیت پر ہے اور البرہان میں ایسی تربیت ہوتی ہے کہ انسان کے اندر کی ’’میں ‘‘وہ خودہی اپنے ہاتھوں سے گڑھا کھود کر دبا دیتا ہے ‘‘۔

عدنان کاکا خیل بتانے لگے ’’دو تین روز پہلے کی بات ہے میں کلاس میں کسی کام سے آیا تو دیکھا کہ ایک کرنل صاحب جھاڑو ہاتھ میں لئے صفائی کر رہے ہیں ‘‘۔’’کیا کہہ رہے ہیں جی ‘‘سیلانی حیران ہوئے بنا نہ رہ سکا’’بالکل وہی جو آپ سن رہے ہیں ،پچھلے سیشن میں ہمارے پاس ایک ائیر وائس مارشل صاحب کا ایڈمیشن ہوا،ایڈمیشن بھی کیا ہوا بس انہوں نے ایڈمیشن لے لیا۔۔۔آپ تو جانتے ہیں کہ فوجی افسران کا اپنا ہی مخصوص انداز ہوتا ہے اور پھرائیروائس مارشل تو جنرل کے رینک کے برابر ہوتا ہے ان کا تو اپنا ہی رعب دبدبہ ہوتا ہے ،ہمارے یہاں ہوتا یہ ہے کہ ہم البرہان کورسز کے لئے آن لائین درخواستیں لیتے ہیں پھر انکے انٹرویو لئے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   منصف جلاد نہیں ہوتا - شہزاد حسین بھٹی

جس کے بعد ہی ایڈمیشن کا فیصلہ ہوتا ہے ،ہوا یوں کہ میں یہاں انٹرویو لے رہا تھا کہ ایک بارعب سے صاحب کمرے میں تشریف لائے اور اپنا تعارف کرایا کہ وہ ائیر وائس مارشل فلاں فلاں ہیں اور ہمارے پڑوسی بھی ہیں ،عمر میں بھی بڑے تھے اورپھر پڑوسی بھی تھے پوچھا حکم کیجئے کہنے لگے ایڈمیشن چاہئے ،میں نے دیکھ لیا تھاکہ ان میں دین کے لئے تڑپ ہے میں نے ایڈمیشن دے دیا ،اب وہ ہمارے طالب علم ہیں اورہفتہ وار کلاسیں لینے آتے ہیں اور پوری توجہ دے رہے ہیں پچھلے دنوں مدرسہ شفٹ ہوا اسکی شفٹنگ میں وہ خود کام کررہے تھے اپنے ہاتھوں سے کتابیں اٹھا اٹھا کر گاڑی میں رکھ رہے تھے ۔۔۔‘‘

مفتی عدنان کاکاخیل نے بتایا کہ ان کی نظریں البریان یونیورسٹی پر ہیں ،ان کا ہدف ایک جدید یونیورسٹی ہے جس میں مختلف علوم کے نظریاتی ماہرین اساتذہ ہوں گے یہ دینی ذہن رکھنے والوں کی جدید یونیورسٹی ہوگی،مفتی عدنان کاکاخیل نے بتایا کہ البرہان سے وابستہ پینتیس طلبہ بیرون ملک یونیورسٹیوں سے اعلیٰ ڈگریاں لے چکے ہیں جب ہمارے پاس ایسے پانچ سو ماہرین کی کھیپ تیار ہوجائے گی تو ہم البرہان یونیورسٹی پر عملا کام شروع کردیں گے،یہ سب بتاتے ہوئے عدنان کاکاخیل کی بھوری آنکھوں کی چمک بڑھ گئی تھی وہ اس لطف سے اپنے خواب اپنے ہدف کا ذکررہے تھے جیسے کوئی بچہ اپنی پسند کی شے کے بارے میں مزے لے لے کر بتاتا ہے۔

تیرہ برس پہلے کنونشن سینٹر اسلام آباد میں عدنان کاکاخیل نے اپنے غیر معمولی ہونے کا اظہار کیا تھا اور آج مفتی عدنان کاکاخیل ہو کر اپنے غیر معمولی ہونے کا ثبوت دے رہا تھا،مفتی صاحب دنیاوی علوم میں یکتا ایسے فارن کوالیفائیڈماہرین کو اکھٹاکرنا چاہتے ہیں جو اپنے حلقہ احباب میں نمایاں اور اپنی فیلڈ میں ممتاز ہوں یہ وہی خواب ہے جسکا ذکر سیلانی بھی کرتا رہتا ہے کہ وہ مدارس کے طلباء کو دنیا کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھ کر باگ ڈور سنبھالتے دیکھنا چاہتا ہے اور مفتی عدنان کاکاخیل صاحب دنیاوی علوم کے ماہرین پرمحنت کرکے ان کے ذریعے اسلام پر دہشت گردی دقیانوسی کالیبل اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وہ دکھانا اور بتانا چاہ رہے ہیں ایک باریش نوجوان ٹخنوں سے اوپر پتلون کے ساتھ بھی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بھی ہو سکتا ہے ،وہ میڈیا ایکسپرٹ ہوسکتا ہے اور سوشل سائینسز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی لے سکتا ہے وہ اسلام کے بارے میں تراشے جانے والے تاثر کے بت پر تیشہ چلانے کی تیاری کر رہے ہیںایسے وژنری نوجوانوں کی تو اس وقت ضرورت ہے انہی کے لئے تو اقبال نے کہا تھا کہ وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارہ کردار جسکا ہو بے داغ ضرب ہو قاری مفتی عدنان کاکاخیل اسلام آباد میں اسلام کے دشمنوں پر علمی اور فکری کاری ضرب لگا رہے ہیں ۔

سیلانی کوئی پون گھنٹہ اس نوجوان کے ساتھ بیٹھا اسکے مشن سے متعلق کرید کرید کرمعلومات لیتا رہا اسکا جی تو چاہ رہا تھا کہ وہ اس نوجوان کے ساتھ خوب وقت بتائے لیکن مفتی صاحب کی اگلی کلاس کا وقت ہورہا تھا سیلانی خود ہی کرسی سے اٹھا مفتی صاحب سے اجازت لی وہ بھی ساتھ اٹھ کر باہر تک اپنے مہمان کورخصت کرنے آئے اور محبت بھرے مصافحے اور پرخلوص مسکراہٹ کا تحفہ دے کر روآنہ کردیاسیلانی نے دونوں تحائف اسی محبت سے وصول کئے اورجاتے جاتے البرہان کے روح رواں کو محبت احترام اور خلوص سے دیکھتا رہا دیکھتا رہاا ور دیکھتا چلا گیا۔