آرمی چیف کےلیے قانون میں تبدیلی، اب کیا ہوگا - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

جیسا کہ آج سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے مان لیا، پاکستان کے کسی قانون میں آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی یا مدتِ ملازمت میں توسیع کا اختیار کسی کو نہیں دیا گیا۔ میڈیا کے مطابق آج اس کمی کو پورا کرنے کےلیے وفاقی کابینہ نے آرمی رولز میں رول نمبر 255 میں ترمیم کرکے اس میں "توسیع" کا اضافہ کردیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس ترمیم کے بعد مذکورہ قانونی خلا پر ہوگیا ہے؟ میرے نزدیک اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کےلیے ملک کے اساسی قانون، یعنی دستور، کی دفعہ 243 میں قرار دیا گیا ہے کہ صدر یہ تعیناتی وزیراعظم کے مشورے پر کرے گا۔ آج عدالت میں یہ بات سامنے آئی کہ حکومت اس دفعہ پر انحصار نہیں کررہی۔ اگر اس کا انحصار اس دفعہ پر ہوتا تو پھر کسی اور قانون کی ضرورت کا سوال ہی نہیں تھا۔ چنانچہ دفعہ 243 کو بحث سے خارج سمجھ لیں۔

اساسی قانون میں اگر ایسی کوئی بات نہیں تو کیا عام قانون میں ایسی کوئی شق ہے؟ اس موضوع کےلیے سب سے زیادہ متعلق قانون "پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء" ہے۔ آج یہ بھی معلوم ہوا کہ اس قانون میں بھی ایسا کوئی اختیار موجود نہیں ہے۔اس کے بعد باری آئی اس قانون کے تحت بنائے گئے ذیلی قواعد ، یعنی rules ، کی تو اس میں اٹارنی جنرل کو قاعدہ نمبر 255 مل گیا جس میں وفاقی حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی فوجی آفیسر کی ریٹائرمنٹ کو معطل یا محدود کرسکتی ہے۔

البتہ اس قاعدے کے متعلق عدالت کی آبزوریشن یہ تھی کہ یہ تو ریٹائر ہوچکنے والے آفیسر کی ریٹائرمنٹ کی معطلی کی بات ہورہی ہے جبکہ یہاں تو آرمی چیف ابھی ریٹائر ہی نہیں ہوئے۔
چنانچہ اس سقم کو دور کرنے کےلیے آج کابینہ نے اس قاعدے میں ترمیم کرکے اس میں "توسیع" کا اختیار بھی وفاقی حکومت کو دے دیا۔ کیا اس ذیلی قانون میں اس اضافے کے بعد سے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کےلیے درکار قانونی بنیاد فراہم ہوگئی ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   کبھی میں کبھی عدلیہ - حبیب الرحمن

جیسا کہ عرض کیا، میرے نزدیک اس سوال کا جواب نفی میں ہے کیونکہ آرمی چیف کا عہدہ اتنا اہم ہے کہ اس مقصد کےلیے دستور نے دفعہ 243 میں باقاعدہ تصریح سے اختیار صدر کو دیا ہے۔ جب تک دستوری دفعہ میں ترمیم کرکے اس میں توسیع کا اختیار شامل نہ کیا جائے، یہ خلا پر نہیں ہوسکتا۔ واضح رہے کہ قانونی نظام کی ترتیب میں دستور کے بعد آرمی ایکٹ کی باری آتی ہے اور اس میں ترمیم کےلیے باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے، یعنی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری، یا ایمرجنسی میں صدارتی آرڈی نینس۔ محض وفاقی کابینہ کی منظوری اس مقصد کےلیے کافی نہیں ہے۔

نفی کےلیے ایک اور اہم دلیل یہ ہے کہ آرمی ایکٹ کی دفعہ 176 میں ، جس کے تحت وفاقی حکومت کو ذیلی قواعد بنانے کا اختیار دیا گیا ہے، اس میں ریٹائرمنٹ اور ڈسچارج وغیرہ کا ذکر ہے، توسیع کا ذکر نہیں ہے اور ، جیسا کہ عرض کیا ، اس قانون میں کہیں اور بھی آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا۔ چنانچہ جو اختیار آرمی ایکٹ میں موجود نہیں ہے، وہ اس ایکٹ کے تحت بنائے گئے ذیلی قواعد کے تحت بھی نہیں دیا جاسکتا۔ ایک دفعہ پھر نوٹ کرلیں کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کےلیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری یا صدارتی آرڈی نینس کا اجرا ضروری ہے۔

آخری بات:
کابینہ کی جانب سے یہ کاوش بھی غیر مفید ہے تو پھر آرمی چیف کی توسیع کو بچانے کےلیے فروغ نسیم صاحب کیا راستہ اختیار کرسکتے ہیں؟ اگر وہ واقعی اتنے ہی اچھے قانون دان ہیں جتنا ان کے متعلق مشہور ہے ، تو انھیں آرمی ایکٹ، یا ذیلی قواعد ، کے بجاے دستور کی دفعہ 243 کی تعبیر و تشریح پر توجہ کرنی ہوگی۔