کیا بحران ٹل گیا؟ محمد عامر خاکوانی

کل یعنی بدھ کا دن کئی حوالوں سے بہت اہم ہے۔ آرمی چیف جنرل باجوہ کی ایکسٹنینش/دوبارہ تقرری کے حوالے سے چیف جسٹس آصف کھوسہ نے کیس کی سماعت کرنی ہے۔ چیف جسٹس نے جنرل باجوہ کی دوبارہ تقرری کے حوالے سے نوٹیفکیشن معطل کر کے ہلچل مچا دی ۔ اب سب کی نظریں اس پر ہیں کہ کل کیس کا کیا بنے گا؟ کیا سپریم کورٹ اس معاملے کو سیٹل کر دے گی یا پھر کوئی بڑا تہلکہ خیز قدم اٹھائے گی۔

آج کی کارروائی میں نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے تین بنیادی سوالات اٹھائے اور آرمی چیف کے نوٹیفکیشن کے حوالے سے بعض تکنیکی کوتاہیوں کی نشاندہی کی۔ سماعت کی جو تفصیل سامنے آئی، اس میں اٹارنی جنرل مناسب دفاع کرنے میں ناکام رہے، بظاہر تو یہ لگا کہ ایک آدھ سوال کا ان کے پاس کوئی جواب ہی نہیں۔

سپریم کورٹ نے نے یہ نشاندہی کی کہ وزیراعظم نے پہلے نوٹیفکیشن خود جاری کیا، پھر شائد انہیں بتایا گیا کہ یہ اختیار وزیراعظم کے پاس نہی بلکہ صدر کے پاس ہے۔ تب انہیں سمری بھیجی گئی، جس پر صدر نے نوٹیفکیشن جاری کیا۔ تب شائد حکومت کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کے بجائے کابینہ کی جانب سے یہ سمری جانا ضروری ہے ، تب اگلے دن وفاقی کابینہ نے آرمی چیف کے دوبارہ تقرر کے حق میں سمری منظور کی۔

سپریم کورٹ میں جب اٹٓارنی جنرل نےدستاویزات پیش کیں تو معلوم ہوا کہ پچیس وزرا میں سے صرف گیارہ نے توثیق کے حق میں ووٹ دئیے، باقی چودہ خیر سے خاموش رہے۔ سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا کہ اس کا مطلبہ ہے کہ باقی نے توثیقی کے حق میں رائے نہیں دی۔ اٹارنی جنرل نے وضاحتیں دیں، مگر ان کا استدلال کمزور ہی رہا۔ سب سے اہم سقم کی نشاندہی سپریم کورٹ نے کی کہ آرمی چیف کے دوبارہ تقرر کے حوالے سے کوئی قانون موجود ہی نہیں۔ آرمی ایکٹ میں بھی ایسا کچھ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بابری مسجد کا فیصلہ اور ہماری ذمہ داریاں - سید سعادت اللہ حسینی

اٹارنی جنرل نے ایک دلیل ڈھونڈی ،مگر عدالت نے اسے موثر نہ پایا ۔اب آگے بڑھنے سے پہلےایک لمحے کے لئے رک کر دیکھیں تو اس معاملے میں حکومت کی بدترین نااہلی سامنے آئی۔ نہ صرف حکومت بلکہ وزیرقانون کی بھی۔ یعنی وزیراعظم کو یہ تک نہ بتایا گیا کہ حضور والا اختیار صدر کا ہے آپ کا نہیں، پھر کابینہ کی منظوری کے بغیرہی سمری صدر کو بھیج دی گئی، انہیں بھی کوئی بتانے والا نہیں تھا کہ کابینہ کی جانب سے سمری آنا ضروری ہے۔ تیسرا اگلے روز جب غلطی کا احساس ہونے پر کابینہ سے سمری منظور کرائی گئی تو پچیس میں سے گیارہ کے بجائے تیرہ یا چودہ وزرا یااس سے زیادہ کے دستخط کرا لئے جاتے۔ لگتا ہے کسی نے اس سامنے کی بات پر غور کرنے کی زحمت نہ کی۔

کیوں ؟ ان سب سے زیادہ اہم بات یہ کہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن، دوبارہ تقرری کا ایشو کئی ماہ سے چل رہا ہے۔ تو اس مقصد کے لئے قوانین میں ترمیم کیوں نہ کی گئی ؟ اگر فوری طور پر پارلیمنٹ سے منظور کرانا ممکن نہیں تھا تو جہاں درجنوں اور آرڈی نینس جاری ہو رہے ہیں، ایک اور بھی ہوجاتا۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم کر لی جاتی۔ ویسے تو یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ جب کوئی قانون ہے ہی نہیں تو جنرل کیانی کی دوبارہ تقرری کیسے ہوگئی ؟ کیا اس لئے کہ کسی نے اس معاملے کو دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی؟ مجھے تو یہ لگ رہا ہے کہ عمران خان کی نالائقی کی چارج شیٹ میں ایک اور اضافہ ہوا ہے اور یہ زیادہ بھاری الزام ہے۔ ویسے ایک سازشی تھیوری تو یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، لا منسٹری یا کہیں اور کوئی سازش ہوئی ہو اور دانستہ یہ تکنیکی سقم چھوڑے گئے ہوں۔

واللہ اعلم بالصواب
خیر اب حکومت نے اس مسئلے کو درست کرنے کی ٹھان لی ہے۔ نوٹیفکیشن دوبارہ سے جاری ہونے جا رہا ہے، کابینہ نے سمری منظور کر کے صدر کو بھجوا دی ہے، ظاہر ہے اب اکثریت نے یا متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہوگا، صدر صاحب ظاہر ہے سمری منظور کر لیں گے اور رات ہی کو نیا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوجائے گا۔ پچھلا عدالت نے معطل کر رکھا تھا، اب اسے حکومت نے واپس لے لیا ہے تاکہ قصہ ہی خلاص ہوجائے۔ لگے ہاتھوں ڈیفنس ریگولیشنز میں بھی ایک ترمیم کر دی گئی ہے۔ یہ ترمیم کابینہ نے منظور کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کامیڈی آف ایریرز - محمد عامر خاکوانی

سوال یہ ہے کہ کیا بحران ٹل گیا؟ کیا سپریم کورٹ نئے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہو کر اس کیس کو سیٹل کر لے گی اور یہ چائے کی پیالی میں طوفان ثابت ہوگا؟دوسرا امکانی منظرنامہ یہ ہے کہ عدالت اس سب کچھ کو ناکافی یا غلط قرار دے، وہ کہہے کہ سب جوڈس (زیر سماعت )معاملے میں یہ سب کیوں کیا؟ نیا نوٹیفکیشن کیوں جاری کیا، اسی طرح عین ممکن ہے کہ ڈیفنس ریگولیشنز میں ترمیم کو کافی نہ سمجھا جائے ۔

اب یہ سب عدالت عظمیٰ پر ہے کہ وہ معاملے کو کس اینگل سے دیکھتی ہے۔ ان کے پاس اختیارات کی کمی نہیں ،مگر عمومی روایت یہی ہے کہ عدالتیں وہ فیصلے نہیں دیتیں جو نافذ نہ ہوسکیں۔ اس سے زیادہ کچھ لکھا تو توہین عدالت میں نہ آ جائے، اس لئے تھوڑے کو بہت سمجھا جائے ۔ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر معاملہ بگڑا تو دوسری طرف سے کیا ردعمل آئے گا؟ دو دن پہلے بعض اہم تقرر ہوئے ہیں۔ ان کی خاص نفیساتی اور آپریشنل اہمیت ہے۔

دعا کرنی چاہیے کہ اللہ خیر کرے گا اور بحران بہتر طریقے سے سیٹل ہوجائے گا۔ اداروں میں ٹکرائو ہرگز نہیں ہونا چاہیے اور پاکستان کسی بھی قسم کے عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ کل ایک بہترین دن ، بہترین فیصلے کی توقع لئے ، ہم اپنے فیس بک فرینڈزکو شب بخیر کہتے ہیں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.