یہ ہے مرد مومن - رمانہ عمر

ایمان ، برداشت ، امن کا پیغام اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانا ۔۔۔۔ یہ ہے مرد مومن ... ناروے میں ہونے والا مظاہرہ ہر اس انسان کے لئے جس میں انسانیت کی رمق ابھی موجود ہے ، انتہائ دردناک اور افسوسناک ہے ۔ یہ تمدنی معاشرت civilization اور انسانیت humanity کے منہ پہ تمانچہ ہے ۔ اسے برداشت کر لینے اور یونہی گزر جانے دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ آئندہ اس دنیا میں جو جب جی چاہے اور جس مذہب کی مقدس کتاب یا شعائر کا کھلے بندوں مذاق اڑانا اور تضحیک کرنا چاہے بڑے اطمینان سے کر سکتا ہے ۔

کوئی بھی نفرت کے اظہار کے لئے مقدس صفحات کو جلانے یا پھینکنے کی مذموم ترین حرکت کر سکتا ہے اور پھر بھی زندہ اور آزاد پھر سکتا ہے ۔ ہمیں نارویجین قوانین اور ان کی باریکیوں کا کوئ علم نہیں ہے ۔ ہم نہیں جانتے کہ اس ملک میں پبلک مظاہروں پر کیا حد بندی ہے اور اس مظاہرے سے قبل جو احتیاطی تدابیر کی گئ تھیں ان کی نوعیت کیا تھی ۔ آگے کسے کتنی سزا ملے گی اس کا بھی علم نہیں مگر اس مکروہ واقعے کی ویڈیو اورڈائیلاگ ٹائم میں نوجوان عمر ڈابا کے خط کو پڑھ کر جی بہت رویا ۔ سمجھ نہیں آتاکہ دنیا کدہر جا رہی ہے ؟ کیا اسے محض اسلاموفوبیا کہہ کر گزرا جا سکتا ہے ؟؟؟؟؟ آیا یہ اسلام کی تذلیل کا مظاہرہ تھا یا سرے سے مذہب بے زاری کا ؟ ایک آسمانی صحیفے کو جلایا گیا ہے یا نعوذ بااللہ سرے سے خدائی الحام وصحف اdivine scripts کی توہین و تحقیر کی گئ ہے ؟ یہ پولورائزیشن جو اب واضح نظر آنے لگی ہے دینا کے ہوشمند انسانوں کو دو حصوں میں تقسیم کر رہی ہے ۔ ایک وہ طبقہ جو انسانیت ، مذہب ، اخلاق ، اصول وضوابط اور اختلاف کو برداشت کرنے پر یقین رکھنے والا ہے اور جو جینے کا حق دینے کا قائل ہے جبکہ دوسرا طبقہ واضح طور پر ان وحشیوں پر مشتمل ہے جو گوڈوں گوڈوں نفرت ، انسانوں میں تفریق ، مذہب کے خلاف بغض و عناد اور طاقت کے ظالمانہ استعمال پر یقین رکھتے ہیں .

یہ بھی پڑھیں:   میں نے ایسا کیوں کیا؟ عمر ڈابا

جن کے خیال میں اقلیت کو اکثریت میں ضم ہونا اور اپنی شناخت سے دست بردار ہو جانا ضروری ہے ورنہ وہ سوسائٹی کو قبول نہیں ہوں گے ۔ عمر ڈابا کے یہ الفاظ سنہری حروف میں انسانیت کے ماتھے پہ چمک اٹھے ہیں کہ میں اپنے کئیے پر شرمندہ ہوں اور نہ ہی معافی مانگوں گا ۔ میں عدالتی عمل سے گزروں گا اور سزا ملی تو بھگتوں گا کیونکہ ایسا ہی مہذب معاشروں میں ہونا چائیے ۔ اس نے کہا کہ میں تشدد پسند نہیں ہوں اور یہ بات میرے ساتھ رہنے والے جانتے ہیں لیکن آج جو میں نے کیا ہے درست کیا ہے اور اگر آئندہ کسی نے قرآن ، بائبل یا کسی اور مقدس صحیفے کے ساتھ ایسا کیا تو میں پھر یہی کروں گا ۔ میں اسے روکوں گا اور ہرگز یہ عمل کرنے نہیں دوں گا ۔ شاباش عمر اور شاباش الیاس ۔۔۔۔ تم انسانیت کا فخر ہو ، تم امت کا بچا ہوا غرور ہو ، تم انصاف کی آواز اور ظالم کو روکنے والا ہاتھ ہو ۔ تم بے ہتھیار ہو لیکن تم بہادری کا جوہر رکھتے ہو ۔ میں تمہاری ماں کو مبارک باد دیتی ہوں اور دعاگو ہوں کہ میرا بیٹا بھی تمہاری طرح سوچے ۔ وہ کبھی بھی اپنی آنکھوں سے آسمانی کتاب کی بے حرمتی نہ دیکھ سکے ۔ اس سے رہا نہ جائے اور وہ کود پڑے ۔۔۔۔ بالکل تمہاری طرح ۔ اب انسانیت کو تم اور تمہارے جیسے بطل جلیل ہی درکار ہیں ۔ تم آخری امید ہو ۔

کرہ ارض پہ لوگ مستقبل کے لئے متفکر ہیں کہ فضائ ، سمندری اور زمینی آلودگی اس دنیا کو تباہی کے دہانے پہ لا رہی ہے جبکہ میں یہ سوچ رہی ہوں کہ نفرت کی بھڑکتی آگ ایک ایسے حبس کو جنم دے رہی ہے جو کسی بھی وقت آتش فشاں کی مانند پھٹ سکتا ہے ۔ پھر اس تباہی سے کرہ ارض کو بچانے والا کون ہوگا ۔ آج عمر ، الیاس اور اس جیسوں کی قدر کرو جو خود اپنی جان کی پروا کرنے کے بجائے مستقبل کی انسانیت کے لئے ڈھال بنے کھڑے ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ دنیا کی آبادی میں اکثریت بے ضرر امن پسند لوگوں کی ہے ۔ لیکن متشدد اور انتہا پسند اقلیت ان پر حاوی ہونا چاہتی ہے ۔ اس انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف لڑنا ہوگا اور مجھے خوش فہمی ہے کہ اس بار کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلمان ملزم نہیں ہوں گے بلکہ مختلف المذاہب انصاف پسندوں کے ہراول دستے میں شامل ہوں گے ۔ ان شاء اللہ

ٹیگز

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.