وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم مستعفی

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، وہ سپریم کورٹ میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی پیروی کریں گے۔ کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید، وزیرتعلیم شفقت محمود اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

اس موقع پر شیخ رشید نے وزیر قانون فروغ نسیم کے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فروغ نسیم کل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے وکیل کی حیثیت سے سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے۔ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے فروغ نسیم کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے۔ وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس کے دوران کسی رکن نے فروغ نسیم پر تنقید نہیں کی۔
شیخ رشید نے مزید کہا کہ صرف 11 وزراء کے دستخط کرنے کی بات درست نہیں، برسوں سے کیبنٹ رولز یہی ہیں کہ وزراء کی خاموشی کو تائید سمجھا جائے۔ اس موقع پر معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ فروغ نسیم نے اس لیے استعفیٰ دیا کہ وہ وزیر کی حیثیت سے وزیراعظم عمران کی منظوری کے بعد دوبارہ کابینہ میں شامل ہوسکتے ہیں۔
آرٹیکل 243کے تحت سروسز چیف کا تقرر وزیراعظم کا اختیار ہے . اس موقع پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے معاملے کا بھی جائزہ لیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ آرٹیکل 243کے تحت سروسز چیف کا تقرر وزیراعظم کا اختیار ہے ،عدالت نے سوال کیا کہ کیا حالات ایسے ہیں جس کی وجہ سے ایکسٹینشن دی جائے۔

شفقت محمود نے کہا کہ حالات کا اندازہ کر کے فیصلہ کرنا بھی وزیراعظم کی صوابدید ہے ،71کے بعد پہلی بار بھارت نے حملہ کیا ،کشمیر اور کنٹرول لائن کی صورتحال بھی غیر معمولی ہے، ان غیر معمولی حالات کی وجہ سے وزیراعظم نے آرمی چیف کی ایکس ٹینشن کا فیصلہ کیا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آج آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کا حکومتی نوٹیفکیشن معطل کردیا ہے جو 19 اگست 2019 کو جاری کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعظم کو تو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار ہی نہیں یہ تو صدر مملکت کا استحقاق ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس سپریم کورٹ کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن معطل کیے جانے کا معاملہ بھی زیرغور آیا تھا۔