سراج احمد تنولی کی کتاب "بات کر کے دیکھتے ہیں" - نقاش احمد

انٹر میڈیٹ کے بعد جہاں تمام دوستوں کی دوڑ یونیورسٹی کے ان شعبوں کی طرف لگ گئی جہاں سے نوکری کا حصول آسانی سے ہو وہیں سراج احمد سائنس کی اہم فیلڈ کو خیر آباد کہہ کر ہزارہ یونیورسٹی میں " Mass and media studies " کے ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لیتے ہیں۔ یہ محض کوئی اتفاق نہیں ہوتا بلکہ اسکے پیچھے ایک جنون ہوتا ہے جو سکول کے زمانہ سے آپ میں پایا جاتا تھا۔

مجھے آج بھی اچھے سے یاد ہے کہ سکول کے وقت میں روزانہ کا خبرنامہ سننا، ٹالک شوز کو باقاعدگی سے دیکھنا، ملکی حالات پر تجزیہ و گفتگو اور اسکے ساتھ ملتے جلتے معملات سراج احمد کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ تھے۔ اسی جنون اور شوق کو بڑھاوا ملا اور آپ نے ماسٹرز کے لیے "Mass and media studies" کا انتخاب کیا۔ دوسرے تیسرے سمسٹر سے ہی مقامی اخباروں (شمال، محاسب، سرگرم) میں علاقائی مسائل کی نشاندہی کے لیے لکھنا شروع کیا جس سے آپ کو کافی پزیرآئی ملی۔ مزید فیسبک پر بلاگز لکھے جن میں ملک کے سیاسی و معاشی مسائل کو زیر بحث لایا۔ اسی دوران اردو ادب سے لگاؤ پیدا ہوا اور اس حوالے سے کوشش شروع کی کہ موجودہ دور میں جو لوگ اردو ادب کے لیے کام کر رہے ہیں انکی خدمات کو منظر عام پر لا کر انکو سراہنا چاہیے۔ اس کے لیے ملک کے طول و عرض اور باقی ممالک سے اردو ادب سے منسلک لوگوں کے انٹرویوز کا ایک سلسلہ شروع کیا جن کو "سرگرم نیوز" میں باقاعدگی سے شائع کیا جانے لگا۔ اس کے بعد ان انٹرویوز کو کتابی شکل دینے کا ارادہ کیا گیا تو میں نے اسکا بہت مزاق اڑایا اور اسے ناممکن قرار دیا کیوں کہ کتاب کو شائع کرنے کے اخراجات سے میں واقف تھا اور میں نہیں سمجھتا تھا کہ اس کتاب کو کچھ خاص وقعت ملے گی لیکن سراج احمد نے ان تمام باتوں کو پس پشت رکھ کر جو طے کر لیا تھا اس کو مکمل کرنے کی کوشش شروع کر دی۔

یہ بھی پڑھیں:   بین الا قوامی کتاب میلہ یا انٹرنیشنل بک فیر۶- صبا احمد

اور آج انکی ترتیب دی ہوئی یہ کتاب" بات کر کے دیکھتے ہیں" میرے ہاتھوں میں ہے جس میں انہوں نے مشاہیر علم کے ساتھ ہوئے مکالموں کو جمع کیا ہے۔ پاکستان کے اندر اسطرح کا کام اس سے پہلے کسی نے بھی نہیں کیا جو سراج احمد نے زمانہ طالب علمی میں کر دکھایا اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی کتاب پر نوشہرہ یونیورسٹی کے پروفیسر کی طرف سے مقالہ لکھنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مزید اس کتاب کو کتنی وقعت ملے گی اور اسکے کیا فوائد ہوں گے یہ تو وقت بتائے گا لیکن سراج احمد نے جو تہہ کیا وہ کر کے دکھایا۔
اللّہ پاک سراج احمد کو مزید ترقی دے اور سوسائٹی کے اندر اعلیٰ کردار ادا کرنے کی ہمت اور استقامت دے۔