شاہ محمود قریشی: پاکستان نے سی پیک پر امریکی موقف مسترد کردیا ہے

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق امریکی موقف مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سی پیک منصوبوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ملتان میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ، یہ کہہ دینا کہ سی پیک کی وجہ سے ہمارے اوپر قرضوں میں اضافہ ہو گا، درست نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر مجموعی طور پر قرضوں کا بوجھ 74 ارب ڈالر ہے۔ اور سی پیک کی مد میں لیے جانے والے قرضوں کی مالیت صرف چار ارب 90 کروڑ ڈالر ہے۔یاد رہے جمعے کے روز امریکہ کی جنوبی اور وسط ایشیائی امور کی نائب سیکریٹری ایلس ویلز نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریب کے دوران کہا تھا کہ پاکستانی شہریوں کو سی پیک کی شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھانے چاہیئیں۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا ’سی پیک منصوبے جاری رہیں گے بلکہ توسیعی منصوبے کے تحت فیز ٹو کا آغاز کردیا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ سی پیک ہماری معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ’یہ گیم چینجر ہے اور یہ ہماری ترقی کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔‘شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا ’ہم تو یہ بھی چاہتے ہیں کہ سپیشل اکنامکس زون میں امریکہ سمیت دیگر ممالک بھی سرمایہ کاری کریں۔‘

امریکی نائب سیکریٹری ایلس ویلز نے کیا کہا تھا؟

جمعے کے روز امریکہ کی جنوبی اور وسط ایشیائی امور کی نائب سیکریٹری ایلس ویلز نے واشنگٹن ڈی سی کے تھینک ٹینک ولسن سینٹر میں ایک تقریب کے دوران کہا تھا کہ چین اس وقت دنیا میں قرضے دینے والا سب سے بڑا ملک ہے تاہم یہ قرضے دینے کی اپنی شرائط کو شائع نہیں کرتا جس کی وجہ سے پاکستانیوں کو سی پیک کے حوالے سے چینی سرمایہ کاری پر سوالات اٹھانے چاہیئیں۔ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ سی پیک کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو اس وقت نقصان پہنچے گا جب چار سے چھ سال کے بعد پاکستان کو قرضوں کی مد میں ادائیگیاں کرنا پڑیں گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر یہ ادائیگیاں موخر بھی کر دی گئیں تب بھی یہ پاکستان کی معاشی ترقی پر منڈلاتی رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:   بے روزگاری کی وجوہات - پرویز بزدار

اپنی تقریر میں ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے تاہم اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبے سے پاکستان کو طویل المدتی معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔ایلس ویلز نے سی پیک کے حوالے سے متعدد مثالیں بھی دیں تھیں جہاں ان کے خیال میں پاکستانی مفادات کو ترجیح نہیں دی گئی۔ ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ سی پیک کے سب سے بڑے پراجیکٹ، کراچی سے پشاور تک ریل سروس کو بہتر بنانے کے ٹھیکے کی قیمت ابتدا میں 8.2 ارب ڈالر تھی، بعد میں پاکستانی وزیرِ ریلوے نے کہا کہ اسے 6.2 پر لایا گیا ہے تاہم حالیہ میڈیا رپورٹس میں یہ 9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کو یہ کیوں نہیں پتا کہ اس کی قیمت کیوں بڑھائی گئی ہے۔


ایلس ویلز کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے امریکہ کے پاس بہتر ماڈل موجود ہے جس کے تحت نجی امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر کے وہاں مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچائیں اور حکومتی امداد سے پاکستانی معیشت کو مستحکم کیا جائے۔

ایلس ویلز کے بیان پر چینی سفیر کا ردِعمل

ایلس ویلز کے بیان پر پاکستان میں چینی سفیر یاؤ جِنگ نے سخت ردِعمل ظاہر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک پاکستان اور چین دونوں کے مفاد میں ہے اور دونوں ممالک میں میڈیا کو سی پیک کے حوالے سے منفی پراپیگینڈے کا مقابلہ کرنا چاہیے۔چینی سفیر کا کہنا تھا کہ ’جب 2013 میں پاکستان میں توانائی کا شدید بحران تھا اور چین ملک میں پاور پلانٹس لگا رہا تھا تو اس وقت امریکہ کہاں تھا۔ امریکی کمپنیوں نے اس وقت وہاں پر پاور پلانٹ کیوں نہیں لگائے؟‘

یاؤ جِنگ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ نے پاکستان کو امداد اپنی سیاسی ترجیحات کی بنیاد پر معطل کیوں کی ہے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پاکستان اور چین کے درمیان 60 ارب ڈالرز مالیت کا منصوبہ ہے جو کئی پراجیکٹس پر مشتمل ہے۔یاد رہے انڈیا بھی اس منصوبے پر کئی اعتراضات اٹھا چکا ہے۔