ہمیشہ مُسکرائیے- مفتی سیف اللہ

سردیوں کی لمبی راتیں انسان کو اُکتا دیتی ہیں۔رات کے جانے کے بعد سورج کی مدھم سی روشنی بھی بھلی لگتی ہے۔نماز فجر کی ادائیگی کے بعد اسی کشمکش میں مبتلا تھا کہ کیاکیاجاۓ؟
موسم کی شدت گھر جانے کا تقاضا کررہی تھی مگر رات بھر کی اکتاہٹ نے پارک جانے پر مجبور کردیا۔خون جما دینے والی سردی میں صبح تڑکے جب پارک پہنچا تو ہر طرف ویرانی کے بسیرے تھے۔جہاں بچوں کی چہل پہل ہوا کرتی تھی۔

ہر عمر کے مرد و عورت چہل قدمی کیا کرتے تھے۔آج کوئی انسان چلتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ایک دو بندے گرم کوٹوں میں لپٹےنظر آۓ ۔جو پارک کے راستے اپنی منزل کی طرف جارہے تھے۔
بچے جو کھیلتے کودتے اٹھکیلیاں لیتے نظر آتے تھے، آج وہ منظر نہیں تھا۔سواۓ دو تین بچوں کے جو اپنی ماں کےساتھ بوجھل قدموں سے سکول جا رہے تھے۔ہر طرف سناٹا تھا، نہ بچوں کی آوازیں،نہ لوگوں کی وہ خوش گپیاں،نہ پرندوں کی چہچہاہٹ۔کچھ پرندوں کی بجھی سی آوازیں آرہی تھی جن میں افسردگی پائی جاتی تھی۔اُفق سے سورج طلوع ہورہا تھااور بادلوں کے ساتھ اس کی آنکھ مچولی جاری تھی۔

گہرے بادلوں کی وجہ سے سورج کی ہلکی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔پارک کی ہریالی جسے کبھی دیکھ کر آنکھوں کو سرور اور دل کو خوشی ملا کرتی تھی اب اس نے سفید چادر تنی ہوئی تھی۔رات بھر کی شبنم جمی ہوئی برف میں بدل چکی تھی۔درخت جو انسانی صحت کے ساتھ ساتھ انسانی راحت کا سرمایہ ہیں،ان پر تو خزاں کا خوب راج تھا۔کچھ درختوں کے پتے ہلکے پیلے اور کچھ کے سرخی مائل تھے۔ان کےپتے مسلسل گرے جارہے تھے۔

کئی درخت ایسے بھی تھے جن پر ایک پتہ بھی نہیں تھا۔راستے خزاں رسیدہ پتوں سے ایسے اٹے پڑے تھے کہ ان پر چلنا مشکل ہورہا تھا۔سخت جاڑا اور یخ بستہ ہوا میں چلتے چلتے پارک کے دوسرےکنارے پہنچا۔جہاں چند سدابہار درخت لہلہا رہے تھے۔جو آنکھوں کو بھلے لگ رہے تھے۔ان کے پاس میں رک گیا۔اس دوران سردی کی شدت کا احساس بھی نہیں رہا۔
میرے دل و دماغ میں خزاں کی افسردگی کی بجاۓ بہار کی تر و تازگی بس چکی تھی۔میں سوچ رہا تھا کہ یہ درخت موسم کا اثر نہیں لیتے۔اس کی شدت کا مقابلہ کرتے ہیں۔موسم کے بدلنے سے یہ نہیں بدلتے۔

ہمیشہ سرسبز وشاداب رہتے ہیں۔یہ خود بھی تر و تازہ ہیں اور جو کوئی ان کے پاس آۓ تو وہ بھی تازگی محسوس کرتا ہے۔جب اس کو میں نے گہرائی سے سوچا تو مجھے یہ پتہ چلایہ دنیا بھی ایک پارک کی طرح ہے۔ہر انسان درخت کی مانند اس میں ہے۔خوشی وغمی کے حالات موسم ہیں جو ہر انسان پر آتے ہیں۔خوشی کے موسم میں انسان خوش اور غمی کے موسم میں غمگین ہوجاتا ہے۔دل خوش تھا تو ہر چیز سے ٹپکتی تھی بہاردل بیاباں ہوگیا، عالم بیاباں ہوگیا ۔

مگر زندگی کے اسی پارک میں کچھ لوگ سدابہار ہوتے ہیں۔وہ غمی کے موسم سے متاثر نہیں ہوتے۔وہ حالات سے گھبراتے نہیں بلکہ ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔وہ پریشانیوں اور مصیبتوں میں بھی مسکراتے ہیں۔اور جو کوئی ان کے پاس آۓ وہ بھی کِھل اٹھتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */