یہودی آباد کاری اور ترکی کا بیان

یہودی آباد کاری کو جائز قرار دینے والے امریکی بیانات قابل مذمت ہیں، عالمی قوانین اور فلسطینی عوام کے حقوق کو پاوں تلے روندھنے والے امریکہ کے متعلقہ بیانات کو مسترد کرتے ہیں.

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے ترکی متحدہ امریکہ کے دریائے اُردن کے مغربی کنارے پر یہودی آباد کاریوں کو جائز قرار دینے کے بیانات پر ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینی عوام کو پاوں تلے روندنے والے بیانات کی مذمت کی ہے۔

ابراہیم قالن نے صدارتی کابینہ اجلاس کے جاری ہونے کے دوران پریس کانفرس کا اہتمام کیا۔ فلسطینی عوام کے حقوق کو مسخ کرنے والے امریکی حکام کے ان اعلانات کی مذمت کرنے پر زور دیتے ہوئے جناب قالن نے بتایا کہ "اسرائیل ایک قابض ملک ہے، یہ فلسطینیوں کے مکانات ، زیتون کے باغیچوں کی تخریب کاری کر رہا ہے۔اس کا نام قبضہ ہے اور یہ کاروائیاں اس کو قانونی بنانے کی کوششیں ہیں۔ ہم عالمی قوانین اور فلسطینی عوام کے حقوق کو پاوں تلے روندھنے والے امریکہ کے متعلقہ بیانات کو مسترد کرتے ہیں ۔"

اقوام متحدہ کی اس معاملے پر بیسیوں قرار دادیں موجود ہونے پر توجہ مبذول کرانے والے ترجمان نے بتایا کہ "ہم فلسطینی سر زمین پر اسرائیلی قبضے کو ہر گز نہیں مانتے۔ ہم فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ ہیں۔" امریکی حکام کے ساتھ 3 تا 4 دسمبر لندن میں ترکی کے روس سے خریدے گئے ایس۔400 فضائی دفاعی نظام کے معاملے پر بات چیت ہونے کی آگاہی کراتے ہوئے قالن نے بتایا کہ متعلقہ اداروں نے اس معاملے پر امور سر انجام دیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صدر رجب طیب ایردوان نیٹو سربراہی اجلاس میں بھر پور تیاری کے ساتھ شرکت کریں گے ، جناب ِ صدر نیٹو کے مشن، ویژن، 21 ویں صدر میں اس کے کردار، اب کی بعد کی کاروائیوں وغیرہ کے حوالے سے اہم پیغامات دیں گے۔ اس اجلاس کے بعد فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے ساتھ صدر رجب طیب ایردوان ایک چہار رکنی اجلاس بھی سر انجام دیں گے۔