آپکی مرضی - فیض اللہ خان

نبیل ہود بائے کے والدین امریکہ اٹلی وغیرہ میں مقیم ہیں وہ خود تعلیم و کاروبار کے سلسلے میں کراچی رھتا تھا شہریت اسکے پاس بھی غالبا کینیڈا کی ہے ۔۔۔ گزری شب ڈیفنس کھڈا مارکیٹ سے اپنے دوست کے ہمراہ گھر آتے ہوئے پولیس نے اسے روکا ۔۔۔ اب اس نے پولیس کا اشارہ دیکھا نہیں دیکھا یا ڈر گیا جو بھی تھا بہرحال ، پولیس نے تعاقب کیا اور فرئیر ہال کے قریب گھر کے نیچے اسے یہ کہہ کر " ٹھوک " دیا کہ ڈاکو مارا ہے .

نبیل کا دوست امام رضا فائرنگ سے زخمی ہوا ۔۔۔۔ نیبل کا لاشہ اور زخمی امام رضا ایک گھنٹے تک گاڑی میں پڑے رہے پولیس کو توفیق نہ ہوئی کہ انہیں اسپتال منتقل کرتی ، امام رضا کی والدہ پہنیچیں اور بین کرتے ہوئے اپنے زخمی بیٹے اور اسکے دوست کی لاش کو اسپتال پہنچایا ۔۔۔۔۔ اعلی پولیس افسران کے مطابق امل کیس {امل نامی معصوم بچی پولیس کی گولی لگنے سے زخمی ہوئی تاخیر سے اسپتال پہنچی نیشنل میڈیکل سینٹر نے اسے لیا نہیں نتیجا مرگئی اسکے نام پہ صوبائی حکومت نے ایک قانون بھی بنایا ہے } کے بعد یہ سب ہونا " غلطی " ہے
دو دن پہلے سرجانی میں ایک نوجوان نے نئی موٹر سائیکل خریدی بھانجی نے گھومنے کی فرمائش کی گھر سے زرا دور تین ڈکیت ٹکر گئے نہ صرف بائیک چھینی بلکہ مزاحمت پہ چار سال کی معصوم کلی کو ماموں سمیت خون میں نہلا کر گھر بھیج دیا اب وہاں کہرام مچا ہے ۔۔۔۔
کتے کے کاٹنے ، روڈ ایکسیڈنٹ ، ٹرین حادثے ، نالے اور بارشوں میں کرنٹ سے مرنے والے اسکے سوا ہیں ، ہماری خیر ہے ہم بیس بائیس کروڑ چند لاکھ افراد کی خدمت پہ یونہی مامور رہیں گے البتہ پاکستان سے باھر رھنے والے اس سب کے بعد بھی یہاں منتقل ہونے یا کسی وجہ سے بچوں کو بھیجنا چاھتے ہیں تو نبیل کا انجام سوچ لیں ریاست یہاں مارتی بھی ہے اور اسپتال بھی نہیں لیکر جاتی ۔۔۔۔ باقی آپکی مرضی ۔۔۔۔