خزاں کا موسم کمال کا - طاہرہ بشیر سلہریا

خزاں کا موسم کمال ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کے گرمی کا زور ٹوٹنے اور سردی کے جوبن دکھلانے سے پہلے یہ موسم قدرے مایوس مزاج کا ہوتا ہے۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ حواس خمسہ کا امتحان ہے یہ موسم ۔ زوال کا نہیں کمال کا ہے یہ موسم ۔

جب سرد ہوا جسم کو گدگدا کر گزر جاتی ہے ،کیسا محسوس کرتے ہیں آپ۔آپ نا تو دھوپ کی تپش میں پسینے سے شرابور ہوں اور نا ہی سویٹروں کے بیچ جمے ہوں، تو اس نرم گرم سی سرد ہوا میں جسم و جاں گویا ایک سکوں کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ سردیوں میں گھروں میں دبک جانے سے پہلے کی آزادی اور سرشاری محسوس کی ہے کبھی۔ایک الگ رنگ اور ڈھنگ۔ درختوں کے خشک پتوں سے سرسراتے ہوئے گزرتی ہوا کو سنیے گا کبھی۔تیز جھونکے جب اڑتے بادلوں سے اٹھکیلیاں کرتے گزرتے تو یوں لگتا کے پتوں کو ان کی سرگوشیاں سنائی دے دیتی تھیں۔شجر کی جدائی میں زرد ، نیم مردہ پتے خود کو انہی پیغام رساں ہواؤں کے حوالے کر دیتے اور سارا دن اسی ہوا میں اڑتے رہتے ، شام کے طلسماتی رنگوں میں اکھڑی سانسوں کے ساتھ بالآخر کسی رستے پر گر پڑتے۔پیروں تلے ان سوکھے پتوں کے چرچرانے کی آواز سنی ہے کبھی۔نہیں تو قوت سماعت کو جگائیے۔اور قدرت کے ان رازوں سے پردہ اٹھائیے۔ میرے لیے اس موسم میں اکیلے دور تک چلنا کتنا اطمینان بخش ہوتا تھا۔ کلاسوں کے اختتام پر ، کنگ ایڈورڈ کی طویل راہداریوں کو عبور کر کے ، جی پی او کی طرف کا راستہ اس موسم کے کئی رنگ دکھاتا تھا۔ اور دل کو بھاتا تھا۔کالج میں خاموشی کا راج۔ دکانوں کے باہر سے سامان ،اندر منتقل ہونا شروع ہو جاتا تھا۔

گرم کپڑے پہنے ،ہاتھ رگڑتے یا چائے کے کپ پکڑے سب محو گفتگو۔سب رونقیں گویا سمٹ سی جاتی تھیں۔ایک پراسراریت کی کیفیت حاوی ہوتی تھی۔ میں چلتے چلتے ان ہواؤں کو محسوس کرتی، سنسان رستوں پر چلتے سیاسی، غیر سیاسی باتوں پر سیر حاصل گفتگو کے چند بول سننے کے ساتھ ساتھ پرندوں کے غول شام کے سناٹوں میں آستانوں پر روانہ ہوتے دیکھتی۔ مال روڈ پہنچتے ہی بڑے بڑے درخت دیکھ کر میں بہت محظوظ ہوتی۔لگتا تھا سب سرگوشیوں میں اپنی کہانی سنا رہے ہوں۔ سٹاپ پر وین کا انتظار بہت بھلا لگتا۔ قریب ہی کوئی ریڑھی سے بھنتی ہوئی مکئی یا مونگ پھلی کی بھلی سی خوشبو۔وہی سٹاپ جو جون جولائی کی گرمی میں چیختے دھاڑتے انجن، ٹریفک کے شور میں گرمی سے پریشان ہر ذی روح کی چیخ و پکار، اور اس بے ہنگم غل میں خاموش ،بے حرکت درختوں کے بیچ ایک وحشت کا باعث ہوتا تھا ۔ خزاں میں گویا وہ بھی قرار میں ہو۔گویا وہ بھی ان سرگوشیوں کو سننے کی سعی کر رہا ہو۔ اور یقین مانیں اگر آپ کو وہ سماعت ، وہ بصارت مل گئی تو خزاں کا موسم آپ کے لیے بھی زوال نہیں کمال کا ہو گا۔ ہر چیز سے بے نیاز ہو کر خاموشی سے اکیلے لمبے رستے پر چل کر جائیے گا ضرور ، صرف ایک بار۔

ٹیگز