فارن فنڈنگ کیس، کیا عمران خان نا اہل ہو سکتے ہیں؟ آصف محمود

دوست سوال پوچھ رہے ہیں کیا فارن فنڈنگ کیس میں جان ہے اور کیا یہ عمران خان کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ اکبر ایس بابر سے میرا پہلا رابطہ مرحوم نوید خان نے کرایا تھا۔ نوید خان اور اکبر ایس بابر عمران خان کے قریبی دوست تھے۔ عالم یہ تھا کہ عمران کہا کرتے تھے میرا کسی نے بھی ساتھ نہ دیا، تب بھی میں اور نوید خان انقلاب کی جدوجہد کرتے رہیں گے۔

وقت کے ساتھ لیکن نوید خان کے خواب ٹوٹنے لگے ۔ ایک روز جب عمران میٹنگ لے رہے تھے نوید خان نے کہا: خان صاحب جنہیں ہم نے کھمبوں سے لٹکانا تھا تم نے پارٹی ان بے ایمانوں کے اعضائے مخصوصہ سے لٹکا دی ۔ عمران نے اسے روکا نہیں۔ بعد میں صرف یہ کہا کہ تنقید ضرور کیا کرو لیکن سب کے سامنے نہ کیا کرو ۔ اب پارٹی پھیل رہی ہے اور کچھ کمپرومائز کرنے پڑتے ہیں۔ نوید نے جواب دیا: تم نے ہمیں خواب بھری محفل میں دکھائے اب تنقید بھی بھری محفل میں ہوگی۔

نوید ہی کی روایت ہے جس روز عمران کو پہلے الیکشن میں عبرت ناک شکست ہوئی صبح سویرے وہ بنی گالہ پہنچے تو دیکھا عمران نوافل پڑھ رہے تھے ۔ نوید کو دیکھا تو کہنے لگے نوید ہم نے کرکٹ کا میچ ہاکی کے کھلاڑیوں سے کھیلا، اب یہ میچ ہم کرکٹ کے کھلاڑیوں سے کھیلیں گے ۔ نوید بتاتے تھے یہ بات کرتے ہوئے عمران نے ہاتھوں سے نوٹ گننے کا اشارہ کیا ۔ کرکٹ کے کھلاڑیوں کی تلاش میں نوید اور عمران کی راہیں جدا ہو گئیں ۔ کبھی کبھار نوید اسلام آباد کچہرہی میرے چیمبر میں آ جاتے اور گپ شپ رہتی ۔

وہ عمران سے دور ہو گئے تھے لیکن عمران ان کے دل سے نہیں نکلا تھا۔ وہ کہتے تھے باقیوں نے عمران کو صرف لیڈر سمجھا ہوگا میں نے تو دوست ، بھائی اور باپ بھی سمجھا۔ میں اس کا یہ روپ برداشت نہیں کر سکتا۔ نوید عمران کے مستقبل کی جو منظر کشی کرتے تھے عمران تیزی سے اس جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہی دنوں اکبر ایس بابر سے پہلی ماقات نوید خان ہی نے کرائی۔ میں نے کیس کی فائل پڑھی اور اس وقت سے میری رائے ہے یہ انتہائی غیر معمولی کیس ہے۔ اکبر کے مطابق یہ بلین روپوں کا معاملہ ہے۔ جن لوگوں کے اکاونٹ میں کروڑوں آئے ان کی تنخواہیں بیس تیس ہزار تھیں۔ اکبر ایس بابر کا دعوی ہے عطیات دینے والوں میں جیوش لابی کے لوگ بھی تھے ۔ اور کمپنیاں بھی۔ اول میرا خیال تھا یہ عمران کی بے احتیاطی ہوگی لیکن اکبر ایس بابر کی فائل بتاتی ہے یہ بے احتیاطی سے آگے کا معاملہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دھرنے کے مقاصد کیا ہیں - مسزجمشیدخاکوانی

اب سوال یہ ہے کہ کیا عمران کان نا اہل ہو سکتے ہیں؟ آج سے تین سال پہلے بھی میرا جواب تھا :جی ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ اور اب بھی یہی جواب ہے ۔ فیصلہ کیا ہوتا ہے معلوم نہیں لیکن کیس بہر حال مشکل ہے ۔ جو اصول پانامہ کیس نواز شریف کے لیے طے کر دیا گیا ہے، اور جس طرح وہ اقامے پر نا اہل ہوئے ہیں یہی اصول یہاں بھی لوگو ہوا تو عمران خان بھی اسی انجام سے دوچار ہو سکتے ہیں جس سے نواز شریف ہوئے۔

میں عمران خان کو اسی طرف بڑھتا دیکھ رہا ہوں جس کا ڈر نوید خان کو تھا ۔ اور وہ اکبر ایس بابر اور میرے سامنے بار بار اس کا اظہار کیا کرتے تھے۔نوید اب اس دنیا میں نہی رہے، اللہ انہین جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے دوست عمران کواس انجام سے بچائے جس کا ڈر نوید خان کو تھا۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.