حقیقی محبت اتباع رسولﷺ ہے ‎ - شہلا خضر

آج سب بچے بے انتہاء خوش تھے ،ایک تو چھٹی کا روز ہواورپھر سب سے فیوریٹ خالہ کے گھر دعوت بھی ہو یہ تو سونے پہ سہاگہ ہوگیا-صبح سویرے ہی عائشہ ، ماہ نور اور حمزہ سب کے سب جاگ گۓ ۔ حالانکہ چھٹی کے روز دس گیارہ بجے سے پہلے تووہ اپنے بستر سےہلتے تک نہی تھے ۔

آج بچوں کی اس خوشی کی ایک وجہ اور بھی تھی ، ر خشندہ خالہ کے بیٹے فواد بھائی پورے ایک سال بعد لندن سے آرہے تھے ۔وہ لندن کی کسی بڑی یونیورسٹی میں اعلی تعلیم حاصل کرنے گۓ تھے ۔وہ ہرسال ایک ماہ کی چھٹیوں میں پاکستان آتے اور سب بچوں کے لیۓ بہت سی چاکلیٹس لے کر آتے اور خوب سیروتفریح کرواتے اسی لیۓ بچے بے صبری سے ان کے آنے کا انتظار کرتے ۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے فورا”بعد ہی انہوں نے تیاری شروع کر دی ، نہا دھو کر اچھے اچھے لباس پہنے اور تیار ہو کر اپنی والدہ رابعہ کے پاس پہنچے ۔” جلدی چلیں امی جان ہم سب تیار ہیں “ رابعہ نے مسکرا کر بچوں کی طرف دیکھا اور کہا “واہ بھئ آج تو آپ سب کہے بغیر ہی تیار ہو گۓ ، اورمجھے بلکل بھی نہی ستایا ۔ سب بچے کھلکھلا کر ہنس دیۓ ۔ رابعہ اور رخشندہ کے والدین حیدرآباد میں رہائش پزیر تھے ، اور یہ دونوں بہنیں شادی ہو کر کراچی آئیں تھیں ۔دونوں بہنوں میں بے انتہا محبت تھی ۔ رخشندہ سب بھائی بہنوں میں بڑی تھیں اور نہایت سلجھی ہوئی اورنرم مزاج تھیں۔وہ سب کی مدد کے لیۓ ہر دم تیار رہتی تھیں، اللہ نے انہیں بہترین عقل اور بصیرت عطا کی تھی ،خاندان ہو یا محلہ کسی کو کوئی الجھن یا پریشانی ہو وہ رخشندہ باجی سے ہی مشوہ مانگنے آ جاتا ،اوران کے پاس ہر مسلۓ کا حل مل جاتا ۔

پروگرام کے مطابق رابعہ بچوں کو لے کر چار بجے تک رخشندہ باجی کے گھر خود سے پہنچنا تھا اور ان کے شوہر فخری صاحب کو دفتر سے واپسی پر وہاں آنا تھا ۔ لہزٰا جلدی جلدی گھر کے کامُ نمٹا کر وہ بچوں کو لے کر رکشہ لینے کے لیۓ سڑک پر پہنچیں ،کچھ ہی دیرمیں ایک رکشہ آ گیا ،اسے روک کر رابعہ نے پوچھا کہ بھائ آپ قریشی مارکیٹ جے بلاک چلیں گے ؟ جس پر وہ کہنے لگا” باجی مجھے رستہ بتادیجیۓ گا میں پہنچا دوں گا ،۔ رابعہ نے کراۓ کا پوچھا تو کہنے “لگاجو مناسب ہو دے دیجیۓ گا” رابعہ اور بچے رکشہ میں بیٹھ گۓ ۔ پندرہ منٹ میں وہ منزل پر پہنچ چکے “تھے ۔رابعہ نے ڈیڈھ سو روپیۓ نکال کر رکشہ والے کو دیۓ کیونکہ وہ جب بھی باجی کے گھر رکشے پرجاتی تو اتناہی کرایہ بنتا ۔ مگر رکشہ والے نے پیسے لینے سے صاف انکار کردیا اس نے کہا کہ وہ یہاں تک کا کرایہ ڈھائی سو سے کم نہ لے گا۔ رابعہ حیرت سے اسکا منہ تکنے لگی کہ چلتے وقت تو یہ بڑی معصومیت سے کہہ رہاتھا جو مناسب ہو دہ دے دینا ۔صاف ظاہر تھا وہ اکیلی عورت اور بچوں کو دیکھ کر پیسے بٹورنا چاہ رہا تھا ۔رابعہ کوشدید غصہ آیا ۔ پر اب کیا کرتی غلطی تو اسکی بھی تھی اسے کرایہ طے کیۓ بغیر رکشہ میں نہی بیٹھنا چاہیۓ تھا ۔ بادل نخواستہ اس نے پیسے دیۓ اور بچوں کو لے کر باجی کی گلی کی طرف چل دی ،کیونکہ آگے کا راستہ بند تھا .

گلی کےبیچوں بیچ خوبصورت لال پیلے نیلے شامیانے اور برقی قمقمے لگے تھے ، شاید آج کسی کی مہندی یا شادی ہوگی ۔ خیر رابعہ بچوں کے ہمراہ خوشی خوشی بہن کے گھر پہنچی ۔ فواد نے دوڑ کر دروازہ کھولا اور سب بچے اس سے چمٹ گۓ ۔ خالہ نے بھی خوب با لائیں لے ڈالیں ۔سب اندر آگۓ رخشندہ باجی بھی باورچی خانے سے نکل کر اپنی پیاری بہن اور اس کے بچوں سے لپٹ گئیں ۔ پورے ایک سال بعد فواد کے آنے پر ہی اتنی ڈھیروں خوشیاں سب کو ملتی تھیں ۔ رابعہ اپنے بھانجے کے لیۓ اس کا پسندیدہ اخروٹ کا کیک بنا کر لائی تھیں ، جسے کافی کے ساتھ سب نے مزے سے کھایا سب نے فواد بھائی سے اپنے گفٹس اور چاکلیٹس وصول کیں ، اور باتوں میں مگن ہو گۓ ۔ ابھی بمشکل دس ، پندرہ منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ باہر گلی سے با آواز بلند لائوڈ اسپیکر پر نعتیں پڑھنے کی آوازیں آنے لگیں ۔رخشندہ باجی نے بتایا کہ محلے میں کوئ نیئ فیملی شفٹ ہوئ ہےیہ خواتین کا میلاد۔ انہوں نے ہی منعقد کیا ہے۔ رابعہ نے کہا کہ”باجی مگر اسقدر تیز آواز میں ، سر اور لے کے ساتھ نعتیں پڑھنے سے تو نامحرم مردوں کے کانوں میں بھی خواتین کی آوازیں جانئیں گی جو کہ بلکل غلط ہے .

یہ بھی پڑھیں:   ادھورے لوگ - افسانہ - محمد اویس حیدر

“۔ نازش باجی نے کہا” ہاں میں نے ان کے گھر جا کر سمجھانے کی کوشش کی تھی ،کہ لائوڈ اسپیکر ہٹوا دیں کیونکہ ہمارے دین میں تو عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے ۔اور نامحرم سے بات کرتے ہوۓ بھی اپنے لہجے کو قدرے سخت اور سپاٹ رکھنا چاہیۓ ،چہ جائیکہ کہ اسقدر دلکش ،سریلی اور مسحور کن آوازیں نعت خوانی کی مردوں کو متوجہ کرنے کا زریعہ بنیں “ تو پھر باجی انہوں نے آپ کی بات کیوں نہ مانی ؟؟؟ رابعہ نے سوال کیا : پیاری بہن ہماری سادہ لوح کم علم عوام نبیﷺ کی عقیدت کے معاملے میں بے انتہا جزباتی ہیں ، وہ اس معاملے میں کسی بھی طرح کوئ بات سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے ،ایک قسم کی دوڑ لگی ہوئی ہے ،قرآن اور حدیث سے رجوع کیۓ بغیر ہی نت نۓ طریقے بن گۓ ہیں ، جن میں ثواب سے زیادہ اللہ کی نافرمانی کا احتمال موجود ہے “۔فواد نے بھی ماں کی بات کی تائید کرتے ہوۓ کہا کہ “ ” امی جان ایک اور بھی قابل توجہ نکتہ ہے وہ یہ کہ اس محلے میں بوڑھے ، بیمار ۔،اور بچے بھی ہوں گے کم ازکم ان کا احساس کرتے ہوۓ نعتیں مناسب آواز میں پڑھنی چاہیں ، جس سے کسی کے آرامُ میں بھی خلل نہ ہو “” لندن میں مجھے اس بات کا بہت شدت سے احساس ہوا کہ وہ لوگ دوسروں کے آرام اور سکون کا بہت احساس کرتے ہیں بلکہ گاڑی کا ہارن بھی کم سے کم بجاتے ہیں ، تاکہ کوئی ڈسٹرب نہ ہو:

“جی ہاں فواد بیٹا آپ نے درست کہا،اسی لیۓ تو پیارے نبی ﷺ نے اپنی امت کو ہدایت کی تھی کہ علم مومن کی گمشدہ میراث ہے وہ جہاں بھی ملے اسے حا صل کرلو””، اگر ہمیں دین کا علم ہو گا جبھی تو ہم صحیح اور غلط کے درمیان فرق کر پائیں گے اور اللہ تعالیٰ۔ کی خوشنودی والے کام کریں گے ۔جس میں حقوق العباد کی بہت زیادہ تاکید شامل ہے “ خصوصا” پڑوسیوں کے تو بے انتہا حقوق ہیں ہم پر۔ “ رخشندہ باجی نے تفصیل سے فواد کے سوال کا جواب دیا۔ نھنھے حمزہ نے بھی موقعہ دیکھ کر رخشندہ باجی کو جلدی سے رکشہ والے کی شکایت لگا دی “” دیکھیں نا خالہ جان آپ کے گھر آنے کے لیۓ ہم جس رکشہ پر آۓ اس نے امی جان سے بہت سے پیسے لیۓ ، اور ہم سے بے ایمانی کی “” اور پھر پوری داستان ایک ہی سانس میں سنا ڈالی “ ۔حمزہ کے معصوم پریشان چہرے کو دیکھ کر سب کی ہنسی چھوٹ گئ۔ رخشندہ خالہ نے اپنے پیارے بھانجھے کو اپنے پاس بٹھا کر بتایا کہ کسی بھی قسم کی بے ایمانی کرنے سے ساری کمائی ناپاک ہو جاتی ہے ۔ اور ایک روایت کے مطابق ہمارےپیارے نبی ﷺ سے جب کسی نے پوچھا کہ سب سے اچھی کمائی کون سی ہے تو آپ ﷺ نے فرما یا “آدمی کا اپنے ہاتھ سے کمانا ، اور وہ تجارت جس میں تاجر جھوٹ اور بے ایمانی سے کام نہیں لیتا “

یہ بھی پڑھیں:   ایک معاشرتی عنصر، میرے پاس تم ہو! - شیخ خالد زاہد

فواد نے کہ “امی جان ایک دفعہ لندن میں سفر کے دوران میرا قیمتی موبائل کہیں گر گیا اور مجھے دو دن کے بعد کسی انگریز لڑ کے نے بہت کوشش کر کے معلومات حاصل کر کے ُپہنچا دیا ۔ اور جب میں خوشی اور حیرت کے جزبے سے اس کا بے انتہا شکر گزار ہوا تو اس نے کہا کہ “میرے دوست یہ تو آپ کی ہی چیز تھی ، اس کو تو مجھے آپ کو پہنچانا ہی تھا یہ تو ہر اچھے شہری کا فرض ہے ، یہ کوئی بڑی بات نہیں “ فواد کی بات سن کر رابعہ نے کہا “پیارے بیٹے کیا آپ کو معلومُ ہے کہ تمام دنیا کے بڑے بڑے اسکالر اور ریسرچ کرنے والے اس بات پر متفق ہیں کہُ نبی ﷺ کی شخصیت اور اخلاق تمام دنیا سے اعلیٰ اور بلند ترین ہے ۔ اور غیر مسلم ہمارے نبی ﷺ کی زندگی پر بہت ریسرچ کرتے ہیں اور انُ کی غیر معمولی کامیابیوں کا راز جاننے کی کوشش کرتے ہیں ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ نے کامیابی کے جتنے۔ بھی اصول ہمیں سکھائیں ہیں مثلا” سچائ ، ایمانداری ، نظم وضبط اور انصاف اس میں سے اکثریت تو ان غیر مسلم اقوام نے اپنا لییۓ ہیں اور دنیا کی کامیابیاں حاصل کر لی ہیں ۔ نبی ﷺ کے امتیّ ہونے کی وجہ سے ہمارافرض ہے کہ ہم نبی ﷺ کی تمام تعلیمات کی بہترین اتباع کریں تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابیاں حاصل کریں “۔

رخشندہ خالہ نے بھی تائید کی اور بچوں نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ پیارے نبیﷺکی باتوں پر عمل کرتے ہوۓ اپنی زندگی میں دوسرے لوگوں کا احساس کریں گے، اچھا مسلمان بنیں گے کبھی تیز آواز لائوڈ اسپیکر لگا کر کسی کوبے آرام نہی کریں گے ، اور نہ ہی کبھی کسی کی مجبوری سےفائدہ اٹھاتے ہوۓ مال بنانے کی کو شش کریں گے ، کیونکہ یہ سب اعمال اللہ اور اللہ کے پیارے رسول حضرت محمد ﷺ کو سخت نا پسند ہیں اور آخرت کے خسارے کا باعث ہیں “ باتوں باتوں میں وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا کب سات بج گۓ، باہر گلی سے آنے والی لائوڈ اسپیکر کی آوازیں بھی تھم چکی تھیں - شائد میلاد اختتام پزیر ہو گیا تھا ، نجمی صاحب اور رخشندہ باجی کے شوہر اسلم صاحب دونوں گھر آچکے تھے ، دونوں بہنوں نے جلدی سے باورچی خانے کا رخ کیا ۔ رخشندہ باجی نے پر تکلف کھانے کا اہتمام کر رکھا تھا ۔، میز پر برتن لگانے میں سب بچوں نے مدد کی سب نے مل کے کھانا کھایا ، اور ڈھیروں باتیں کر ڈالیں ، رات بہت ہو چکی تھی ، رابعہ نے اپنی بہن اور انکی فیملی کو اپنے گھر کھا نے کا دعوت نامہ دے کر اجازت طلب کی ۔ ۔ رخشندہ باجی نے اپنی بہن کو خوشی سے جانے کی اجازت دیتے ہوۓ جلد آنے کا وعدہ کیا ۔ اور رابعہ اپنے بچوں اور شوہر کے ہمراہ خوشگوار یادیں لیۓ گھر کی طرف روانہ ہوئیں ۔