انااورفنا - محمد ناصر اقبال

جانے والے پاکستان میں مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزورنظام کوروندتے ہوئے چلے گئے کیونکہ دھن اوردھونس سے دشوار سے دشوارراستہ بھی ہموارہوجاتا ہے لہٰذاء اب لکیر پیٹ کرکچھ حاصل نہیں ہوگا۔جہاں ریاست کمزوراورمافیازطاقتورہوں وہاں ایساہونافطری بات ہے۔لاہورسے روانہ ہونے اور ہیتھروائیرپورٹ سے باہرآنے کی تصاویراورویڈیوز نے عام آدمی کی سچائی تک رسائی آسان بنادی ہے۔

اگربیک وقت کئی پیچیدہ امراض سے نبردآزما انسان کاچہرہ ایساہوتا ہے توپھر یہ کہناپڑے گا''بیماریاں تو اچھی ہوتی ہیں''۔بیچارے عام بیماروں کواپنے ملک میں مناسب اورمعیاری'' علاج'' نصیب نہیں ہوتا جبکہ اشرافیہ کے نمائندہ افراد ''مساج ''کیلئے بھی لندن کارخ کرتے ہیں ۔اگرحکمران جانیوالے کو روکنے کیلئے'' اقدامات'' کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے تواب خفت مٹانے والے'' بیانات'' سے گریزکریں،وہ خوش ہوں ان کے کندھوں سے بھاری بوجھ اترگیاہے ۔وزیراعظم عمران خان نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ''انہیں ہارنااورجیتنا آتا ہے''،کاش انہیں علم ہوتاوہ ہارے نہیں بلکہ نوازشریف کے چلے جانے سے ان کی سیاسی ،اخلاقی اورقانونی طورپر جیت ہوئی ہے۔دوران تقریر عمران خان کا غصہ ان کے چہرے اوران کی لفاظی سے عیاں تھا۔تعجب ہے عدالتی فیصلے پرمسلم لیگ (ن) کے حامیوں کوپریشان ہوناچاہئے تھامگرانہوں نے جشن منایا جبکہ پی ٹی آئی والے خوش ہونے کی بجائے حالت سوگ میں ہیں ۔

نوازشریف نے بیماری کے نام پرجس طرح کمزوری اورسیاسی پسپائی کامظاہرہ کیاہے ان کی جماعت مسلم لیگ (ن) کواس کی قیمت چکاناپڑے گی۔مسلم لیگ (ن) کیلئے ابھی کئی امتحان باقی ہیں ۔تاہم پی ٹی آئی اورمسلم لیگ (ن) کے درمیان میڈیا ٹیم کافرق نمایا ں ہے۔ وزیراعظم عمران خان معاشی اعدادوشماراورگراف میں مثبت تبدیلی کے باوجودعوامی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہیں جبکہ بدعنوانوں نے اپنے پروفیشنل میڈیامنیجرز کے بل پرانہیں زچ کردیاہے۔جہانگیرخان ترین،میاں اسلم اقبال اورہمایوں اخترخان کے سواپی ٹی آئی کے بیسیوں نادان ترجمان اپنی قیادت اورجماعت کے حق میں موثراندازسے وکالت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کا بڑاسیاسی دشمن کوئی اورنہیں بلکہ ان کے اندربیٹھا سرپھرا ''کپتان'' ہے جوروحانی طورپر 1992ء کے ورلڈ کپ کے میدان سے باہر نہیں نکل رہا اورآئے روز ان کے آئینی منصب پر حاوی ہوجاتا ہے ۔ وزیراعظم کسی عوامی اجتماع سے خطاب کر نے آتے ہیں تووہاں غضبناک ''کپتان ''جس لہجے میں بات کرتا ہے وہ ان کے آئینی منصب کے شایان شان نہیں،وزیراعظم اورکپتان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

عمران خان یادرکھیں وہ اب کنٹینر پرسوارنہیں بلکہ تخت اسلام آباد پربراجمان ہیں۔ 22برس کی کٹھن جدوجہد کے بعد وزیراعظم منتخب ہونیوالے عمران خان کاتقریباً 31 برس کے نوجوان اورسیاسی طورپرنومولود بلاول زرداری سے بار بار الجھناہرگزمناسب نہیں مگریہ بات اناپرست کپتان کو سمجھائے کون،اناکاراستہ فناکاراستہ ہے۔انہیں ا س وقت جوش نہیں ہوش کی ضرورت ہے۔کسی دانا کے مطابق ''خاموشی ''میں بے سروپا باتوں سے زیادہ طاقت ہوتی ہے۔ملک میں تبدیلی کے حامی طبقات کی دعا ہے عمران خان بحیثیت وزیراعظم آئینی مدت پوری اوراپنے وعدے وفا کریں لیکن اس کیلئے انہیں ''کپتان ''کووزیراعظم ہائوس میں داخلے سے روکنا ہوگابلکہ وہ کپتان کوبنی گالہ تک محدودکردیں۔نشیب وفراز ،طوفان اوربحران سیاست کاحصہ بلکہ حسن ہیں،یہ حقیقت کپتان کوسمجھناہوگی۔ہمارے جذباتی وزیراعظم کو بیسیوں اناڑی نوجوان مشیروں کی نہیں بلکہ منجھے ہوئے قانون دان اورزیرک سیاستدان بابراعوان سمیت دوچار دوراندیش اور سنجیدہ شخصیات کے دوررس مشوروں کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ورکشاپ کا چھوٹا - سید طلعت حسین

سیاسی بحران میں بوجھ اٹھانے کی بجائے نادان دوست الٹا بوجھ بن جایاکرتے ہیں،کیونکہ اگروزیراعظم عمران خان کو وفاق کابوجھ اٹھاکربلندی اورکامیابی کاسفر طے کرناہے تواس صورت میں انہیں اپنے کندھوں سے تخت لاہورکابوجھ اتارناہوگا ۔عمران خان کو بحیثیت وزیراعظم اپنے منصب سے انصاف اوراپنے انتخابی وعدے وفا کرنے کیلئے پنجاب کی سیاست سے باہرنکلنااورتخت لاہور کیلئے شہر لاہور سے کسی اہل امیدوار کوتلاش کرناہوگا،ایساوزیراعلیٰ جواپنے وزیراعظم کی اپوزیشن کاموثرمقابلہ کرتے ہوئے ا ن کا''اقبال'' مزیدبلندکرے۔

وزیراعظم نے خودکو کئی محاذوں پرالجھالیا ہے اور وہ زیادہ ترمحاذوں پرتنہانظرآتے ہیں ،اس وقت انہیں جہانگیرخان ترین اور میاں اسلم اقبال کی صورت میں دھڑے بازرفقاء کار کی اشد ضرورت ہے جوسودوزیاں کی پرواہ کئے بغیر اپنی توپوں کارخ ان کے سیاسی دشمنوں کی طرف موڑے رکھیں اوراپنے چیئرمین کیلئے قومی سیاست میں آسانیاں پیداکرتے رہیں۔ پنجاب میں سیاسی بحران سے مستقل نجات کیلئے انتہائی نحیف وزیراعلیٰ کی ''تبدیلی'' ناگزیر ہے،سردارعثمان بزدار نے ایک برس کیلئے تخت لاہورکامزالے لیاان کیلئے یہ اعزاززندگی بھرکیلئے کافی ہے،یادرکھیں دشمن قلعہ پر اس سمت سے وارکرتے ہیں جہاں سے وہ قدرے کمزورہوتا ہے،سردارعثمان بزدار پی ٹی آئی کے قلعہ کی انتہائی کمزوردیوار ہے۔فارسی زبان میں'' بز''بکری کوکہاجاتا ہے جبکہ بزدل کامفہوم ہے ''بکری کے دل والا'' ،سیاست میں دشواریاں آتی ہیں توپھربزدل نہیں بہادراورطاقتورلوگ کام آتے ہیں ۔اگرخاندان ، پی ٹی آئی یا مسلم لیگ (ق) کے اندرکوئی سردارعثمان بزدارکووزیراعلیٰ کے منصب پر برقراررکھناچاہتا ہے تووہ عمران خان کادوست نہیں بلکہ بدترین دشمن ہے۔

یہ ٹی ٹوئنٹی کادورہے اگرضرورت کے مطابق سکور نہ کرنیوالے ''بلے باز''کوبروقت کریز سے نہ ہٹایاجائے توٹیم کی خفت اورشکست یقینی ہے ۔پنجاب میں پی ٹی آئی کے کمزوروزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے تبدیلی کی افواہوں کونہیں روکاجاسکتاجبکہ معاشی طورپرکمزورپاکستان میدان سیاست میںبے یقینی اوربے چینی کامتحمل نہیں ہوسکتا۔شہبازشریف کی شخصیت اورطرزسیاست پرتنقیدکی جاسکتی ہے مگر ان کے وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے کسی نے انہیں ہٹانے کی سازش نہیں کی جبکہ غلام حیدروائیںکمزورتھے تومیاں منظوروٹونے ان کاتخت الٹادیاتھا۔سردارعثمان بزدار توغلام حیدروائیں سے ہزارگنازیادہ کمزور ہیں،ان کیخلاف جوڑتوڑ ہوتے رہیں گے لہٰذاء اس نازک وقت کاانتظارکرنے کی بجائے وزیراعظم عمران خان ا پنے وسیم اکرم کا فوری متبادل تلاش کریں ورنہ مزید دیرہونے کی صورت میں آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی کو تخت لاہور نصیب نہیں ہوگااورتخت لاہور کے بغیرتخت اسلام آبادبھی نہیں ملنا ۔بزدارنہیں بردبار لوگ عمران خان کی ضرورت ہیں،انہیں اپنے سیاسی مستقبل اوربزدارمیں سے کسی ایک کاانتخاب کرناہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   "مقابلہ کرنا میری تربیت" ساجدہ اقبال

اگر تخت لاہورپرسردارعثمان بزدار کی بجائے باوفااورباصفا میاں اسلم اقبال جیساعزت داراوربردبارمنتظم اعلیٰ براجمان ہوتا توپی ٹی آئی کے اتحادی چوہدری پرویزالٰہی اس وقت اپنے بندے توڑنے کے شکوے نہ کرتے۔وہ جس لیفٹیننٹ جنرل احمدشجاع پاشا کی بات کررہے تھے ان کی دانش اوربصیرت وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں سیاستدانوں کی فہم وفراست ختم ہوتی ہے ۔ چوہدری پرویزالٰہی کی گفتگوسنی تو مجھے لگاوہ میاں منظوروٹو کی تاریخ دہراناچاہتے ہیں مگر میاں منظوروٹوسے سیاستدان روزروزپیدانہیںہوتے۔مسلم لیگ (ق) کاجنم مسلم لیگ (ن) کے بطن سے ہواتھا،مسلم لیگ (ق)کی منڈیر پربیٹھنے والے پرندے'' کوہ قاف'' نہیں مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی سے آئے تھے جوبعدازاں اپنی اپنی سیاسی سوجھ بوجھ اورنظریہ ضرورت کے تحت پروازکرتے ہوئے پی ٹی آئی میں چلے گئے۔جہانگیرخان ترین ،عبدالعلیم خان اورمیاں اسلم اقبال سے بااثر لوگ کسی اشارے یا دبائوپرسیاسی پارٹی نہیں بدل سکتے اورنہ یہ لوگ کسی کے جہیزکاسامان تھے جووہیں پڑے رہتے ۔اگرچوہدری پرویزالٰہی اقتدارکیلئے مسلم لیگ (ن)چھوڑسکتے ہیں تودوسروں کوبھی اپنے بہترسیاسی مستقبل کیلئے مسلم لیگ (ق)چھوڑنے کاحق حاصل ہے ۔سیاستدانوں کاایک دوسرے کے ساتھ'' سیاسی نکاح'' نہیں ہوا ہوتا،جس کوجوجماعت پسندآئے وہ اس میں جاسکتا ہے۔

جہانگیرخان ترین ،عبدالعلیم خان اورمیاں اسلم اقبال نے یقینا زندگی بھرچوہدری پرویزالٰہی کے ساتھ جینے مرنے کی قسم نہیں اٹھائی تھی ۔پرویزالٰہی باامرمجبوری وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کاوجودبرداشت جبکہ وہ مسلسل اپنا کوئی نیا راستہ تلاش کررہے ہیں۔ظاہرہے اگراقتدارکیلئے مسلم لیگ (ق)اورپیپلزپارٹی جبکہ مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی کااتحادہوسکتاہے توچوہدری برادران اورشریف برادران بھی دوبارہ ایک دوسرے کو گلے لگا سکتے ہیں۔ پرویزالٰہی کوعثمان بزدارپسندنہیںلیکن وہ انہیں سوٹ کرتا ہے،موصوف شروع سے خودوزیراعلیٰ پنجاب بنناچاہتے تھے اور ان کے قلب میںیہ خواہش ابھی تک دھڑکتی ہے جبکہ وہ اپنے فرزندمونس الٰہی کووفاقی کابینہ میں دیکھنے کے خواہاں ہیں ۔عمرا ن خان کوپنجاب اورسندھ میں سیاسی اتحادیوں سے انتہائی محتاط رہنا،اپنے حامیوں کوطاقتوراوراپنے دانارفقاء پراعتماد کرناہوگا ۔وزیراعظم عمران خان کوآئینی مدت پوری اورلاہورسمیت پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے سیاسی ہتھکنڈوں اوردھرنوں کابھرپورسیاسی اندازسے مقابلہ جبکہ عوام کو ڈیلیور کرنے کیلئے ایک طاقتوراورتازہ دم وزیراعلیٰ کی ضرورت ہے۔

مسلم لیگ (ن) کاسیاسی ہیڈکوارٹر لاہور ہے اسلئے وزیراعظم عمران خان کواس شہر سے اپنے مستعد،معتمد،معقول اورمقبول ٹیم ممبر میاں اسلم اقبال کو وزیراعلیٰ منتخب کرناہوگاورنہ پنجاب میں آئے روزتبدیلی کی زوردارہوائوں اورافواہوں سے تخت اسلام آباد ہلتا رہے گا۔زیرک میاں اسلم انتھک محنت سے پنجاب میں کایاپلٹ اور اپنے قائداوروزیراعظم عمران خان کا''اقبال ''مزید بلندکرسکتے ہیں ۔عمران خان یادرکھیں ملک میں معاشی استحکام کیلئے سیاسی استحکام ناگزیر ہے،انہیں کمزورٹیم ممبرز کو''ریسٹ ''کیلئے کہناہوگاورنہ'' اریسٹ ''سیاستدان انہیں بلیک میل کرتے رہیں گے۔