نسیم حجازی کے بعد اب عمیرہ احمد - محمد عامر خاکوانی

نسیم حجازی کے بعد اب عمیرہ احمد کیوں لبرل حلقوں کی چڑ بن گئی ہیں؟ ان کے اسلوب کو جس قدر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، بے تہاشہ پیروڈیز کی گئی ہیں، ان کی تحریروں میں تو ویسی بات نہیں۔ جس مبالغہ آمیز پاکیزہ رومانویت اور مذہب کے تڑکے کا عمیرہ احمد کو طعنہ دیا جاتا ہے، اصل صورت حال ویسی مبالغہ آمیز ہرگز نہیں۔ ظاہر ہے وہ قرتہ العین حیدر تو نہیں، مگر مناسب لکھنے والی ہیں،

جن کے بعض ناول دلچسپ اور قابل مطالعہ ہیں، خاص کر پیر کامل کی بنت اچھی ہے اور وہ دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے۔ عمیرہ احمد پر زیادہ تنقید پیر کامل کے بعد ہی شروع ہوئی۔ اس ناول میں قادیانی گھرانے کی ایک لڑکی اپنے عقائد سے تائب ہو کر گھر چھوڑ جاتی ہے، اس نے خاصے مصائب اٹھائے مگر مسلمان ہونے کے بعد واپیسی کا راستہ نہیں اپنایا۔ اس کا ہیرو خاصے ہائی آئی کیو والا نوجوان تھا، غیر معمولی ذہانت کے باوجود جو بے معنی ، بے مقصد زندگی گزار رہا تھا، ایک ہولناک تجربے نے اس کی زندگی بدل دی۔ اس تجربے کی روداد بھی دلچسپ ہے اورناول میں جو کچھ بھی دکھایا گیا، وہ سب قابل فہم اور منطقی ہے۔ کہیں پر مذہب کا غیر ضروری تڑکا نہیں۔ میں قطعاً یہ نہیں کہہ رہا کہ عمیرہ احمد ملک کی سب سے بڑی ناول نگار ہیں اور انہیں ان کا درست مقام نہیں ملا۔ میں یہ ضرور کہہ رہا ہوں کہ عمیرہ احمد کو ہمارے مذہب بیزار حلقے غیر ضروری تنقید کا ہدف بناتے ہیں۔ خواتین ڈائجسٹوں کے نقاد اس تنقید کو خوشی خوشی بلا سوچے سمجھے آگے بڑھاتے ہیں اور ا سکے پیچھے موجود ایجنڈے کو نہیں دیکھ پاتے۔

عمیرہ احمد ، نمرہ احمد اور خواتین ڈائجسٹوں کی لکھاریوں کو منصفانہ تنقید کی ضرورت ہے۔ انہیں خواتین کے مخصوص پرچوں میں لکھنے کی پاداش میں ہدف نہیں بنانا چاہیے، سسپنس، جاسوسی اور دیگر اس طرح کے ڈائجسٹوں میں بھی فارمولا فکشن لکھنے والوں کی کمی نہیں، ان کی پیروڈیز کیوں نہیں ہوتیں؟

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.