لباس ایک پہچان - ثوبیہ اجمل

لباس کسی بھی انسان کی تہذیب اور وقار کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ لباس شخصیت اور مزاج کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ مسلمان ہونے کے ناتے ہماری کچھ حدود و قیود بھی ہیں جن کو ہمیں فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اسلام میں کھانے پینے ،رہنے سہنے او پہنے اوڑھنے تک ہمارے لیے رہنمائی موجود ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمارا لباس حیا کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے یا نہیں کرتا۔

ہمارا مقصد صرف جدید فیشن کو اپنانا نہیں بلکہ اپنے طرز عمل سے اللہ کی خوشنودی ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں والدین کی بہت بڑی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے بچوں پر گہری نظر رکھیں ۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں آج کل جیسے لباس زیب تن کیے نظر آتے ہیں وہ کسی بھی طرح سے موزوں نہیں ہیں۔ مغربی طرز کی ملبوسات کو عام کرنے میں میڈ یا کا بھی بہت بڑا کردار ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ ٹیلی وژ ن پر دکھ کر ہی فیشن کو اپنانا شروع کرتے ہیں۔ ہمارے ٹیلی وژ ن پر جو پروگرامز اور جو ایوارڈ شوز وغیرہ دیکھائے جاتے ان کو دیکھ کر یقین کرنا مشکل ہو جاتاہے کہ کیا ہم واقعی ہی کسی اسلامی ملک میں رہتے ہیں۔ ان میں ایسے ملبوسات پہنے جاتے ہیں کہ دیکھنے والے بھی شرم محسوس کرتے ہیں۔ ہوناتو یہ چاہیے ٹیلی وژ ن کے ذریعے سے ہم اپنے لباس اور اقدار کو فروغ دیں تاکہ ساری دنیا میں ہماری ایک الگ پہچان ہو سکے۔ ان سب باتوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پا سکے جو ہماری اسلامی اقدار اور تہذیب و ثقافت سے گہرا تعلق رکھتا ہو۔

ٹیگز