برینڈز کی دوڑ اور ہم - مریم صدیقی

جدید فیشن کے ملبوسات ہوں یا دیگر اشیائے زینت، مرد و زن برینڈز اور نت نئے فیشن کی اس دوڑ میں یکساں طور پر فعال ہیں۔ ہر نئے متعارف ہونے والے فیشن کو اپنانا باعث فخر خیال کرتے ہیں اس بات سے بے نیاز کہ وہ فیشن ان کی عمر، مرتبے، قد کاٹھ کے لحاظ سے کتنا مناسب ہے۔ خواتین ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی مہنگی سے مہنگی برینڈڈ اشیاءکو خریدنا اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانا باعث فخر محسوس کر تی ہیں .

اور ان اشیاءکو ایک سے دو بار استعمال کرنے کے بعد یا تو الماری کے تہہ خانے کی زینت بنادیتی ہیں یا پھر کسی کو صدقے کی نیت سے تھما دیتی ہیں۔ مرد حضرات بھی فیشن ٹرینڈز کو اپنانے میں کسی سے کم نہیں، پھر چاہے وہ ملبوسات ہوں یا اسٹائلنگ۔ منفرد دکھنے کے شوق نے ہمیں کہیں نہ کہیں اس بھیڑ چال کا حصہ بنا دیا ہے۔ بغیر اپنے افعال و حرکات پر غور کیے ہم فیشن اور ٹرینڈز کی اس تقلید کا حصہ بن چکے ہیں۔ فیشن، اسٹائلنگ، گرومنگ یہ سب بذات خود برا نہیں ہے لیکن اسے برا بنایا ہے ان وجوہات نے جن کی بنا پر ہم انہیں اپناتے ہیں۔ کبھی ہم نے اس کے حاصل وصول اور مقصد پر غور کیا ہے؟ یقینا ہم میں کوئی بھی یہ بات سننا پسند نہیں کرے گا لیکن حقیقیت یہی ہے کہ ہم اس دوڑ کا حصہ ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں پر اپنی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں۔ ہم دوسروں کویہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم بھی ہزاروں روپے خرچ کرکے فیشن ٹرینڈ کاحصہ بن سکتے ہیں۔ اپنی اصل کو چھپا کر، خود پر ملمع کاری کرکے، برینڈ کا ٹیگ لگا کر اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی میں خوش اور پرسکون ہیں تو ایسا نہیں ہے۔ نہ ہی یہ اس پر خوش ہونا عقلمندی کا تقاضہ ہے۔

غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس کا مقصد فقط خود نمائی اور احساس کمتری و برتری ہے۔ اس کے علاوہ اس سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہورہا۔یہاں زیر بحث وہ متوسط ملازمت پیشہ طبقہ ہے جو پورے مہینے محنت کرکے چند ہزار روپے کماتا ہے اور پھر دو ڈیزائنر سوٹ ایک برانڈڈ سینڈل خرید کر پورے مہینے کسمپرسی میں گزارتا ہے۔ کیا واقعی یہ روش درست ہے؟ یہ برینڈز کی دوڑ ہمیں کچھ نہ بھی دے اگر دلی سکون اور اطمینان فراہم کردے تو بھی سمجھیں خسارہ نہیں لیکن صد افسوس کہ یہ ہمیں سکون قلب مہیا کرنے سے بھی قاصر ہے۔ آئے دن نت نئے فیشن، نئے اسٹائل کے چکر میں ہم نے گھر کو لڑائیوں اور ناچاقیوں کی آماج گاہ بنا لیا ہے۔ اعتدال پسندی اور میانہ روی ہمارے درمیان سے رخصت ہوچکی ہیں۔ اگر وہی شے بغیر برینڈ کے ٹیگ کے ہمیں کم قیمت میں میسر آ جائے تو بجائے مطمئن ہونے کے ہم چند ہزار مزید خرچ کرکے وہی چیز بمع ٹیگ خریدنا پسند کرتے ہیں کیوں کہ فلاں نے بھی اسی برینڈ کا جوڑا پہن رکھا تھا۔ اب بات ملبوسات سے نکل کر جوتوں، جیولری، کاسمیٹکس اور دیگر گھر یلو اشیاء تک جا پہنچی ہے۔

ہم نے اکثر یہ محاورہ سنا ہے کہ جتنی چادر ہے اتنے پاوں پھیلاو لیکن ہم نے اپنی خواہشات کے پیر اس قدر پھیلا لیے ہیں کہ ہماری آمدنی کی چادر مختصر ہوتی جارہی ہے جو بلاشبہ کئی مسائل کا سبب ہے۔ میاں بیوی میں آئے روز ہونے والے جھگڑوں کی وجہ یہی فضول خرچی ہے۔ جی بالکل جو چیز علاوہ ضرورت ہو وہ فضول خرچی میں ہی شمار ہوتی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ہم معاشرے میں پھیلتی اس برائی کو برائی تصور نہیں کر رہے۔ ہم جانے انجانے میں کہیں نہ کہیں حسد کا شکار ہورہے ہیں۔ ہم میں ہر گزرتے دن کے ساتھ احساس کمتری بڑھتا جارہا ہے۔ مزیداور بہتر حاصل کرنے کی جستجو میں جو میسر ہے ہم اسے بھی گنوا رہے ہیں جن میں سب سے اہم ہیں رشتے۔ ہم اپنے رشتے کھو رہے ہیں،رشتوں کا خلوص، ہماری خوشیاں،آسودگی، سکون قلب سب فقط چند روپوں کی نذرہو گیا ہے اور اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ڈپریشن کا شکار ہورہے ہیں۔ وجوہات جانتے ہوئے بھی اس کے حل کی طرف نہیں بڑھنا چاہتے۔

ان تمام مسائل کا حل موجود ہے بالکل ویسے ہی جیسے ہر بیماری کا کوئی نہ کوئی علاج ہوتا ہے۔ اس کا حل صرف اور صرف توکل ہے۔ جتنا رزق جس مقدار میں ہماری قسمت میں لکھ دیا گیا ہے وہ ہمیں ضرور ملے گا۔ نہ قسمت سے کم نہ نصیب سے زیادہ۔ اگر خوشحالی چاہتے ہیں تو اپنی خواہشات کی ڈور کو تھام لیجیے۔ خواہشات کبھی نہ ختم ہونے والا ایک ایسا سلسلہ ہے جو انسان سے شکر کی نعمت کو بھی چھین لیتا ہے۔ یہ برینڈز، فیشن، اسٹائلنگ برا نہیں ہے اگر ان کی حدود متعین کردی جائیں۔ یہ کبھی آپ کے رشتوں پر اثر انداز نہیں ہوگا اگر آپ اس احساس کمتری سے نکل آئیں کہ جو آپ نے پہنا ہے وہ چند سو روپے کم کی چیز ہے۔ وہ چند سو روپے کی چیز بھی بے حد خوب صورت ہے اگر وہ آپ نے خوشی سے پہنی ہے۔