قصور اور قصور- علی معین نوازش

2015 میں پہلی دفعہ ہیڈلائنز میں قصور میں 2006 سے 2014تک ہونے والے مظالم سامنے آئے۔ پوری قوم ناصرف حیران اور پریشان ہوئی بلکہ سر شرم سے جھک گئے۔ ہمارے ملک میں ہمارے بچوں كے ساتھ یہ سب کچھ ہو گیا اور ہم سوتے رہے؟ پِھر زینب كے ساتھ زیادتی اور قتل کا واقعہ جو پیش آیا اُس نے قوم کو دوبارہ کرب میں مبتلا کر دیا۔

یہ 2018ء کی بات ہے اور یہ سانحہ بھی قصور میں ہی ہوا تھا۔ پِھر راوں سال میں ستمبر میں دوبارہ قصور میں ہی تِین بچوں کی جب لاشیں ملیں تو دوبارہ قوم سوچنے پر مجبور ہو گئی كہ ہم کیسے لوگ ہیں اور یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ قصور كے ان تمام واقعات پر سیاست بھی ہوئی اور قوم سے اِس طرح وعدے کیے گئے كے جیسے اب آئندہ اِس قسم کا کوئی واقعہ پاکستان میں ہو ہی نہیں پائے گا۔ ہمیں بتایا گیا كہ ’’زینب الرٹ‘‘ سسٹم بنایا جا رہا ہے جو تمام گمشدہ بچوں كے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ہمیں کہا گیا مثالی سزائیں دی جائیں گی تاکہ دوبارہ کوئی ایسا نہ کر سکے لیکن یہ سارے وعدے پورے ہوئے؟ اِس کا جواب آپ کو چند دن پہلے راولپنڈی میں سے آنے والی ایک خوفناک خبر میں مل جائے گا، كہ ایک شخص جس کا نام سہیل ایاز بتایا جا رہا ہے، تیس سے زیادہ بچوں كے ساتھ زیادتی کر چکا ہے اور ان کی وڈیوز آن لائن ڈارک ویب پر فروخت بھی کر چکا ہے۔ ڈارک ویب انٹرنیٹ كے اُس حصے کو کہتے ہیں جہاں پر چھپ کر تمام قسم کی غیر قانونی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ جس میں بچوں كے ساتھ زیادتی یعنی پیڈو فیلیا (Pedophelia) بھی شامل ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملزم سہیل ایاز نے اپنے پوش ایریا كے فلیٹ میں 30سے زیادہ بچوں كے ساتھ زیادتی کی تھی اور یہ بات تب سامنے آئی جب ایک 13سالہ بہادر بچے نے، جس کو اِس نے اغوا کیا تھا اور نشہ آور چیزیں کھلا کر 4 دن تک زیادتی کا نشانہ بنایا، نے پولیس میں رپورٹ کر دی۔ اس کیس پر بہت تبصرے ہو چکے ہیں لیکن یہ کیس منفرد اس لئے ہے كہ سہیل ایاز برطانیہ اور اٹلی دونوں میں اسی جرم میں ناصرف پکڑا گیا تھا بلکہ اُس نے جیل میں بھی وقت گزارا تھا اور وہاں سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔ پِھر بھی وہ پاکستان آکر آرام سے انہی سر گرمیوں میں لگ گیا اور کے پی گورنمنٹ کا کنسلٹنٹ بھی تعینات ہو گیا اور اسی حکومت سے پیسے بھی لیتا رہا جس حکومت نے اُس جیسے لوگوں کو عبرت کا نشانہ بنانے کا وعدہ کر رکھا تھا۔ سہیل ایاز کیس سے یہ بات واضح ہو چلی ہے کہ ہماری ریاست اور ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اِس طرح كے تمام جرائم سے نمٹنے كے لیے نہ تو اہلیت رکھتے ہیں اور شاید نہ ہی اتنی دلچسپی۔ نیز یہ کہ حکومتی وعدے محض بیانات تھے۔

بچوں كے ساتھ زیادتی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اِس میں سب سے بڑا چیلنج تو یہ ہوتا ہے كہ بچوں كے ساتھ اگر کچھ ایسا ویسا ہو جائے تو وہ خود بتاتے نہیں ہیں اور بعض اوقات والدین کو اگر پتا بھی چل جائے تو وہ قانونی کارروائی نہیں کرتے۔ ایک تو ہمارا قانونی کارروائی اور پولیس كا طریقہ کار بھی کچھ ایسا ہے كہ لوگ اُس سے گریز کرتے ہیں۔ اِس کی وجہ سے اِس طرح كے لوگ ہمارے معاشرے میں بے خوف اپنی مذموم سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ میڈیا تو اب آیا ہے، اِس سے پہلے تو شاید اِس طرح كے کیسوں کو کوئی اہمیت ہی نہیں ملتی تھی۔ بچوں كے حفاظت اور اِس طرح كے جرائم کو ختم کرنے كے لیے چند اقدامات نہایت ضروری ہیں۔ سب سے پہلے اِس طرح كے کیسوں كے رپورٹنگ کے طریقہ کار کو آسان اور موثر بنانا چاہیے۔ پولیس كی ساکھ ان معاملات میں اچھی نہیں ہے، حقیقت جو بھی ہو لیکن اِس ریپوٹیشن کی وجہ سے لوگ کیس رپورٹ نہیں کرتے۔ پِھر یہ کیس حساس بھی ہوتے ہیں اور ایسے صدموں میں بچوں اور ان كے والدین كے ساتھ بہت اچھا سلوک ہونا ضروری ہوتا ہے، اس لئے ٹرینڈ لوگوں کا اک سیل بنانا چاہیے جو خصوصی طور پر بچوں كے ساتھ زیادتی کے کیسوں کو دیکھے۔

پِھر ان کیسوں کو میڈیا اگر نہ بھی رپورٹ کرے تو بھی وزارتِ داخلہ كے لئے یہ کیس پہلی ترجیح ہونے چاہئیں جو وزراء کی سطح پر مانیٹر ہوں۔ اِس سے یہ پیغام جائے گا كہ ہم اپنے بچوں کی حفاظت کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ دنیا كے بیشتر ممالک میں اِس طرح كے جرائم میں جو لوگ ملوث ہوتے ہیں، ان کی سزا کی مدت پوری ہونے کے بعد بھی ان کے بچوں سے ملنے اور بات کرنے پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ دوسرا ان کو ایک اسپیشل ریکارڈ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور وہ جہاں کہیں بھی رہیں اِس سے ناصرف لوگ محتاط ہو جاتے ہیں بلکہ پولیس کو بھی علم ہوتا ہے كہ اِس علاقے میں اتنے لوگ رہ رہے ہیں جو مخصوص کریمنل ریکارڈ رکھتے ہیں۔ اِس طرح كے لوگوں کے اسکول اور پلے گراؤنڈز كے اردگرد ہونے پر بھی پابندی ہوتی ہے۔ آج کے ٹیکنالوجی دور میں ٹریکنگ کرنا اور بھی آسان ہے۔ اِس طرح كے جرائم میں ذہنی بیماری کا بھی عنصر ہوتا ہے اور جو لوگ ذہنی طور پر بیمار ہوتے ہیں ان کو دوا دے کر بھی اِس طرح كے جرم کرنے سے روکا جاتا ہے لیکن اِس كے لیے علاج کرانا ضروری ہے۔

ایک اور اہم چیز جس كے بڑے میں اکثر سوچا نہیں جاتا، وہ ان بچوں كی ذہنی کیفیت ہے۔ جو اِس طرح كے جرائم کے متاثرینِ ہوتے ہیں ان كے لیے کائونسلنگ بہت اہم ہے اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے كہ ان كے لیے کائونسلنگ کو یقینی بنائے۔ ریاست کو اِس بات کا ثبوت دینا چاہیے کہ کہ تمام پاکستانی بچے اُس کی ذمہ داری ہیں۔ ریاست کی یہ بھی ذمہ داری ہے كہ ان بچوں جو سڑکوں پر رہتے ہیں یا ایسی جگہوں پر جہاں پر وہ اِس طرح كے درندوں كے لیے آسان ٹارگٹ ہیں، کو ایسی جگہوں سے نکالا جائے۔ یہ صرف قصور یا راولپنڈی کی حقیقت نہیں بلکہ پورے پاکستان کی حقیقت ہے۔ سیاست اور بڑے بڑے وعدے اور دعوے ایک جگہ لیکن جو قوم اور ریاست اپنے بچوں کی حفاظت نہیں کر سکتی وہ کس کام كے اہل ہو گی؟ اِس سے بڑھ کر نہ تو کوئی ترجیح ہے اور نہ ہی کوئی ضروری کام، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے كہ آج بھی ایسا نہیں لگتا کہ ہم سنجیدہ ہیں۔ بس دعا ہے کہ اللہ ہمارے بچوں کی حفاظت کرے۔ آمین!