دو پاکستان- محمد اظہارالحق

جاپان کا دارالحکومت ٹوکیو‘ اٹھ کر ہزاروں میل کا سفر کر کے‘ برازیل کا شہر بن سکتا ہے۔ ہمالیہ صحرائے عرب میں منتقل ہو سکتا ہے۔ یورپ اور امریکہ کے درمیان حائل بحراوقیانوس‘ شمالی چین اور جنوبی منگولیا میں بچھے ہوئے صحرائے گوبی کو نگل سکتا ہے۔ ٹرمپ کا امریکہ‘ سری لنکا کی کالونی بن سکتا ہے!نیگرو‘راتوں رات‘ سفید فام ہو سکتے ہیں مچھلی شتر مرغ کے انڈے دے سکتی ہے۔ درخت اپنی جڑوں کو چھوڑ کر ہوا میں تیر سکتے ہیں۔ جیکب آباد‘ جولائی میں دنیا کا سرد ترین مقام بن سکتا ہے! حسینہ واجد پاکستانی شہریت کے لئے درخواست دے سکتی ہے۔ مودی کلمہ شہادت پڑھ کر تین چلّے لگانے کے لئے بستر سر پر رکھے رائے ونڈ کا رخ کر سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے عرب نرم گفتار اور منکسرالمزاج ہو سکتے ہیں۔مولانا فضل الرحمن تحریک انصاف کے سربراہ بن سکتے ہیں۔ عمران خان‘ نواز شریف کو اپنی آئیڈیل شخصیت قرار دے سکتے ہیں۔ پاکستانی عورتیں اپنے شوہروں کو دوسری ‘ تیسری اور چوتھی بار دولہا بننے کی نہ صرف اجازت دے سکتی ہیں بلکہ خود دلہنیں ڈھونڈ کر‘ شادی کے انتظامات‘ بنفس نفیس‘ خوشی اور خلوص کے ساتھ سرانجام دے سکتی ہیں۔

یہ سب کچھ ہو سکتا ہے ۔ مگر پاکستان کبھی ایک پاکستان نہیں ہو سکتا! یہ ہمیشہ دو پاکستانیوں پر مشتمل رہے گا! یہاں خواجہ خواجہ رہے گا۔ ملازم ملازم! کیا پیش گوئی کر گئے ہیں اقبال ؎ تیرے فقیر حال مست‘ تیرے امیر مال مست بندہ ہے کوچہ گرد ابھی‘ خواجہ بلند بام ابھی ہزاروں لاکھوں پاکستانی زندانوں میں پڑے سسک رہے ہیں۔ ان میں ٹی بی کے مریض ہیں جو خون تھوک کر پھیپھڑوں کو ٹکڑوں کی شکل میں باہر نکال رہے ہیں۔ ان میں زچگی سے گزرتی ہوئی عورتیں ہیں، جن کے بچے ان کے ہمراہ جرم کئے بغیر قید ہیں۔ ان میں فالج کے مریض ہیں، بے شمار بخار میں سلگتے ہوئے‘ قے پر قے کر رہے ہیں۔ ہزاروں ایسے ہیں جو پیراسٹا مول اور میکسولون کی ایک ایک گولی کو ترس رہے ہیں ۔بے شمار ذہنی مریض ہیں جو اپنے ملاقاتیوں کو پہچان تک نہیں سکتے! کتنی ہی مائیں‘ کتنی ہی بیٹیاں ‘ کتنی ہی بیویاں ‘ کتنے ہی عمر رسیدہ باپ‘ کتنے معصوم بچے‘ بسوں‘ سوزوکیوں ‘ ویگنوں میں دھکے کھا کر‘ کوسوں پیدل چل کر‘ قیدیوں سے ملاقات کے لئے آتے ہیں۔ عملے کی جھڑکیاں برداشت کرتے ہیں۔ گھنٹوں نہیں‘ پہروں‘ انتظار کی سولی پر آئے دن لٹکتے ہیں مگر کسی کی شنوائی نہیں ہوتی! زمانے گزر گئے‘ ان عوام کو ذلتیں برداشت کرتے! دوسری طرف نواز شریف ہیں زرداری جیسے قیدی ہیں۔ جن کے لئے دھرتی ہل جاتی ہے۔

آسمان گر پڑتا ہے! جیل میں ان کے لئے ہسپتال بن جاتے ہیں۔ چوٹی کے ڈاکٹر‘ چوبیس گھنٹے حاضر رہتے ہیں۔ ایمبولینسوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ ایئر ایمبولینس تو ان کے لئے ایک معمولی سہولت ہے! یہ بالائی طبقے کے لوگ ہیں۔ یہ ایلیٹ کلاس ہے! یہ معززین ہیں۔ یہ تخت سے اتر کر بھی حکمران رہتے ہیں۔ ان کے سروں سے ایک تاج اترتا ہے تو فوراً دوسرا پہن لیتے ہیں! یہ پہلے پاکستان کے نہیں‘ دوسرے پاکستان کے شہری ہیں! میڈیا‘ چوبیس گھنٹے ان کی بیماریاں‘ ان کے علاج ان کی نقل و حرکت کی ایک ایک تفصیل بیان کرتا ہے۔ وزیروں کے گروہ کے گروہ‘ پریس کانفرنسوں میںان کی بیماریوں پر گفتگو کرتے ہیں۔ یہ ابھی روانہ بھی نہیں ہوتے کہ لندن اور نیو یارک کے ہسپتالوں میں ان کا انتظار شروع ہو جاتا ہے! ان کی ایک ایک سانس ‘ ایک ایک چھینک ‘ ایک ایک جمائی‘ ایک ایک ڈکار پر ڈاکٹر دوڑے آتے ہیں۔ نرسیں بھاگنے لگتی ہیں۔ میڈیا پنجوں کے بل کھڑا ہوجاتا ہے! یہ بڑے لوگ ہیں۔ ان کی طاقت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں! انہیں بند کرنے کے لئے آٹھ جیلوں کے اندر‘ زمین کے نیچے بھی زندان بنائیں تو یہ اس سے باہر آ جائیں گے۔ عمران خان جیسا پہاڑ ان کے لئے سرک جاتا ہے۔

قاف لیگ کے چودھری ان کے لئے رقیق القلب ہو جاتے ہیں۔ ایم کیو ایم ان کی ہمدرد ہو جاتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ان کے لئے راستے کشادہ کر دیتی ہے! ان کی کیا بات ہے! بیس کروڑ عوام ایک طرف! یہ ایک طرف! پھر بھی ان کا پلڑا جھکا ہوا ہوتا ہے! بیس کروڑ عوام ان کے مقابلے میں کوڑے کا ڈھیر ہیں۔ خس و خاشاک کا انبار ہیں۔ مکھی اور چوہے سے زیادہ ان بیس کروڑ عوام کی ان کے مقابلے میں اہمیت نہیں! گلگت سے لے کر کراچی تک۔ کوئٹہ سے لے کر لاہور تک۔ میران شاہ سے لے کر بہاولپور تک‘ جمرود سے لے کر سیالکوٹ تک‘ چترال سے لے کر مظفر آباد تک‘ ملک میں کام کرتے سینکڑوں ہسپتال ان کے معیار سے نیچے ہیں۔ یہ ہسپتال جن میں قینچی ہے تو کاٹن نہیں‘ ٹیکہ ہے تو سرنج نہیں‘ ڈاکٹر ہے تو بلڈنگ نہیں‘ بلڈنگ ہے تو سامان نہیں‘ یہ ہسپتال‘ یہ مرگھٹ‘ یہ قبرستان‘ جہاں مریضوں کو ہلاک کیا جاتا ہے‘ جہاں حاملہ عورتیں بچوں کو فرش پر جنم دیتی ہیں۔ جہاں ایک ایک بستر پر دو دو مریض ایڑیاں رگڑتے ہیں‘ جہاں جعلی سٹنٹ ڈالے جاتے ہیں‘ یہ سارے ہسپتال ‘ عوام کے لئے ہیں۔ عوام چاہیں تو ان میں جیئیں‘ چاہیں تو ان میں مریں‘ یہ ان کی اپنی مرضی ہے! رہے زرداری صاحب، رہے میاں صاحب‘ رہیں ان کی اولادیں‘ تو وہ علاج لندن اور امریکہ ہی میں یا دبئی ہی میں کرائیں گے! زرداری صاحب صدر مملکت تھے‘ بیمار پڑے تو ایوان صدر کا عملہ تک ان کے ساتھ دبئی شفٹ ہو گیا۔

میاں نواز شریف وزیر اعظم تھے‘ بیمار پڑے تو جہاز ہفتوں ان کے لئے لندن کے ہوائی اڈے پر سربسجود رہا۔ بیٹی ان کی جگہ‘ حکومت چلاتی رہی۔ وزیر لندن حاضری دیتے رہے! یہ ہوتا ہے طبقے اور طبقے میں فرق! یہ ہے کلاس اور کلاس میں فرق! یہاں اکثر ذلیل ہیں اور کچھ معزز! اکثریت مرنے کے لئے پیدا ہوتی ہے! اقلیت زندہ رہنے کے لئے اور صرف زندہ رہنے کے لئے نہیں، شان و شوکت سے زندہ رہنے کے لئے! طمطراق‘ جاہ و جلال اور تزک و احتشام کے ساتھ زندہ رہنے کے لئے! ان کی گاڑیوں کے پہیے حرکت کرتے ہیں تو پا پیادہ ملازم اور وابستگان ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ان کا بس چلے تو پہیوں کے نیچے لیٹ جائیں! ان کا بس چلے تو ان کے قدموں تلے پلکیں بچھائیں! یہاں ہمیشہ دو پاکستان رہیں گے! یہاں جو بھی عمران خان یہ دعویٰ کر کے آئے گا کہ ایک پاکستان بنائے گا‘ وہ ہمیشہ دو پاکستان بنا کر دکھائے گا! وہ اردگرد انہی لوگوں کو رکھے گا جو گزشتہ حکمرانوں کی طاقت کا نشان تھے۔ کوئی عمران خان آئے‘ کوئی عمران خان جائے‘ عوام عوام ہی رہیں گے۔ خواص خواص ہی رہیں گے۔

پاکستان دو ہی رہیں گے۔ تو پھر تعجب ہی کیا ہے اگر پہلے پاکستان کے نوجوان ملک چھوڑ چھوڑ کر دساور جائیں! کیا کبھی کسی بلاول‘ کسی بختاور‘ کسی آصفہ‘کسی مریم‘ کسی حمزہ شہباز‘ کسی مونس الٰہی کسی اسعد محمود نے بھی ملک سے ہجرت کی؟ اس لئے کہ یہی پاکستان تو ان کا امریکہ ہے‘ انگلستان ہے‘ یورپ ہے اور آسٹریلیا ہے! سو‘ جس نے وی آئی پی بننا ہے‘ ہجرت کر جائو، کافروں کے ممالک میں جائو گے تو عزت دار شہری بنو گے! وی آئی پی سلوک ملے گا! علاج کے لئے وہی سہولتیں ملیں گی جو وہاں کے حکمرانوں کو مل رہی ہیں! تمہارا پڑوسی وزیر ہو گا یا وہاں کا ایم این اے‘ مگر یہاں اپنے ملک میں ہمیشہ اس پاکستان کے شہری رہو گے جو پہلا پاکستان ہے! یہاں میڈیا ہمیشہ تمہیں نواز شریفوں اور زرداریوں کی بیماریوں کا ایک ایک منٹ کا حال سنا کر‘ احساس کمتری میں مبتلا کرتا رہے گا ؎ بھاگ مسافر میرے وطن سے میرے چمن سے بھاگ اوپر اوپر پھول کھلے ہیں بھیتر بھیتر آگ