شادی بیاہ کے نافذ شدہ فرائض - بشارت حمید

ہمارے ہاں شادی بیاہ کی تقریب میں‌کثیر تعداد میں‌دوست احباب کو مدعو کیا جاتا ہے اور طرح‌طرح‌کی رسمیں‌پوری کی جاتیں ہیں‌چاہے انکو پورا کرنے میں‌اپنا کباڑہ ہی کیوں نہ ہو جائے اور قرض سر پر چڑھ جائے لیکن ہم پر یہ فرض‌ہو چکی ہیں۔ ان رسموں‌کو برا سمجھنے والے بھی جب اپنی اولاد کی باری آتی ہے تو اولاد کی محبت میں‌چاہے نہ چاہے وہ بھی انہیں‌ اپنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں‌ خواہ اللہ اور رسول صل اللہ علیہ وسلم کے احکام کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوتی رہے . لیکن ہم ان کو سیلیبریٹ کرنے میں کوئی کمی نہیں‌آنے دیتے۔

ہمارے دین کے مطابق شادی کا فنکشن صرف دو ایونٹس پر مشتمل ہے ان میں‌ایک نکاح ہے جو دو گواہوں‌ کی موجودگی میں‌قبول و ایجاب کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے اور دوسرا ولیمہ کی دعوت ہے جو دلہے کے ذمے ہے جبکہ دلہن یا اس کے والدین کے ذمے کوئی خرچ نہیں ہے۔ لیکن ہم کیا کرتے ہیں کہ شادی لڑکے کی ہوتی ہے اور سارا خرچ لڑکی والوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ کہیں‌ جہیز کی فہرست دی جاتی ہے کہیں گاڑی اور مکان کی فرمائش۔۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر بارات کے سیکڑوں‌افراد پر مشتمل قافلے کو اعلٰی معیار کا کھانا کھلانا بھی دلہن کے سرپرست کی ذمہ داری بنا دیا گیا ہے۔ یہ کون سی کتا ب میں‌لکھا ہے کہ یہ سارے اخراجات لڑکی والوں پر ڈالے جائیں۔۔؟ رسموں کی بات کریں تو مہندی ایک الگ ایونٹ بنا لیا گیا ہے۔ چند سال قبل اس کا کوئی ایسا تصور بھی نہیں‌ تھا جیسا کہ اب بن چکا ہے۔ اس پر الگ سے نت نئے ڈریس، لڑکے لڑکیوں‌ کے میچنگ لباس، انڈین گانوں‌ پر مخلوط ڈانس، پھر کھانے کی دعوت اور ویڈیو گرافی ، گھر کے ماحول کو نکاح جیسی بابرکت تقریب کی نسبت سے دین کے مطابق بنانے کی بجائے ہم تو بے حیائی کی ساری حدیں‌ پار کرتے جا رہے ہیں۔

ذرا سوچیں‌ یہ رسم اگر نہ کی جائے تو کیا نکاح‌ میں‌ کوئی رکاوٹ پیدا ہو جائے گی؟ اسلام میں‌صرف اور صرف نکاح کی تقریب ہے جسے قریبی مسجد میں منعقد کیا جانا چاہیئےتاکہ یہ نئے جوڑے کے لئے خیر و برکت کا باعث بنے۔ اب ہو یہ رہا ہے کہ جو لوگ مسجد میں نکاح رکھ لیتے ہیں‌ان میں‌اکثر کی خواتین بھی میک اپ زدہ کھلے چہروں‌ اور زرق برق لباس پہن کر شامل ہوتی ہے ایسے لباس جو اپنے گھر میں‌اپنے شوہر کے سامنے پہننے چاہیئں وہ دوسروں‌کو دکھانے کے لئے پہنے جا رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک جب کاسمیٹکس انڈسٹری ہمارے ہاں‌ ابتدائی سٹیج پر تھی تب دلہن کا میک اپ اپنی ہی رشتہ دار لڑکیوں‌ میں‌ سے کوئی ایک دو لڑکیاں مل کر کر لیا کرتی تھیں‌ لیکن جب سے یہ پارلرز وجود میں‌ آئے اب دلہن کا میک اپ پچاس ہزار سے کم پر نہیں‌ ہوتا۔ دلہن تو رہی ایک طرف ، شادی میں‌ شریک ہونے والی دوسری مہمان خواتین بھی پارلر سے تیار ہونا فرض سمجھتی ہیں چاہے اس پر ہزاروں‌کا خرچ ہی کیوں‌نہ کرنا پڑ جائے۔

بھئی ذرا سوچیں‌کہ جتنا مرضی میک اپ کر لیں کیا ہماری شکل و صورت اس سے بدل جائے گی؟ بالکل بھی نہیں۔۔۔ تو پھر اپنی اصل شکل کے ساتھ فنکشن میں‌شریک ہونے میں‌کیا مسئلہ ہے۔ فرض کریں‌کہ میک اپ سے چہرہ بہت خوبصورت لگ رہا ہو۔۔ تو اس سے حاصل کیا ہوگا؟ گھر جا کر جہاں‌ضرورت ہے بن سنور کر رہنے کی ۔۔ وہاں‌تو منہ دھو کر اصلی شکل میں بلکہ تیوری چڑھا کر رہنا ہے اور باہر والوں‌کے لئے بن ٹھن کر جانا۔۔۔ یہ سب کیا ہے؟ جس دلہن کا میک اپ پچاس ہزار میں‌ہوگا کیا وہ ہمیشہ اس کے چہرے پر رہےگا؟ چند گھنٹوں کے لئے پارلر والوں‌نے شکل بدل بھی دی تو ساری زندگی بعد میں‌اصلی روپ کے ساتھ ہی گزارنی ہے تو یہ پچاس ہزار برباد کرنے سے کیا حاصل؟ کیا کبھی سوچا کہ ایک غریب گھرانے کے لئے پچاس ہزار اتنی بڑی رقم ہے کہ شاید کسی کی بیٹی کی شادی ہی پچاس ہزار میں‌ہو جائے۔ اور یہاں‌ہم بے مقصد برباد کر رہےہیں۔ جس چہرے پر پچاس ہزار کا میک اپ چڑھا ہو گا وہ اپنی نمازوں کی ادائیگی کے لئے وضو کیسے کرے گی۔۔ وہ تو پانی سے خوف کھائے گی کہ پچاس ہزار بہہ جائے گا یا پھر اس دن کی نمازیں معاف ہو جائیں گی؟

یہ بھی پڑھیں:   وہی محرومیاں، وہی مسائل - ایم سرورصدیقی

پہلے لڑکیاں اپنی شادی پر والدین کے گھر سے رخصت ہوتے وقت غمگین ہوتی تھیں اور اس جدائی پر آنسو بہایا کرتی تھیں لیکن اب پارلر کی ہدایات کے مطابق رونا دھونا بین ہو چکا ہے اب ہنستے مسکراتے لوگوں‌کو منہ دکھاتے اور یہ سب کچھ ویڈیو میں ریکارڈ کرواتے خوشی سے دانت نکالتے ماں‌باپ کے گھر سے رخصت ہوا جاتا ہے۔ ہم میں‌سے کتنے ایسے ہیں جنہوں‌ نے اپنی شادی پر ویڈیو بنوائی اور بعد میں‌سال دو سال بعد کبھی بیٹھ کر دیکھی ہو۔۔ شاید بہت ہی کم ایسے ہوں‌گے ورنہ تو زندگی کے مسائل میں‌الجھ کر اور پھر اگر خدا نخواستہ میاں‌بیوی میں‌کوئی رنجش پیدا ہو جائے پھر تو جی چاہتا ہو گا کہ ویڈیو تو درکنار اس فنکشن سے وابستہ ہر یادگار کو کہیں‌دفن ہی کر دیا جائے۔ اس ویڈیو کو بنانے والا کون ہوتا ہے؟ ایک نامحرم۔۔۔ جس کا یہ پیشہ ہے۔ اس روز دلہن بنی سنوری کیا اس نامحرم کے لئے ہوتی ہے یا اپنے شوہر کے لئے؟ سب کہیں‌گے کہ شوہر کے لئے۔۔ تو شوہر سے پہلے یہ نامحرم دلہن کے خدوخال کا باریکی سے نہ صرف جائزہ لے رہا ہوتا ہے بلکہ اس کے جسم کو مختلف زاویوں‌سے ویڈیو میں‌ریکارڈ بھی کر رہا ہوتا ہے۔۔ یہ بے حیائی کا مظاہرہ ہم مسلمان کہلوانے والے اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے کرتے ہیں اور اس پر کوئی شرمندگی بھی محسوس نہیں‌کرتے۔

بارات کا کوئی تصور اسلام میں‌نہیں ہے یہ ہندو تہذیب کا حصہ ہے اور ہم نے اسے سینے سے لگا رکھا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو جائے کہ چند گھر والے جائیں‌اور مسجد میں کسی نماز کے بعد نکاح ہو اور دلہن کو لے کر آ جائیں اس کے بعد حسب توفیق ولیمہ کی دعوت کریں‌ جتنے لوگوں‌کے کھانے کا انتظام کر سکتے ہیں‌اتنا آسانی سے کر لیں۔ اس میں‌بھی کوئی ضروری نہیں‌کہ پچاس ڈشیں‌ہونی لازم ہیں۔ حدیث میں‌ہے کہ ولیمہ کرو چاہے ایک بکری کا بچہ ہی ذبح کرو یعنی اسکی کوئی پابندی نہیں بس اپنی استظاعت کے مطابق کر لیا جائے۔ لیکن ہمارے ہاں‌کیا ہوتا ہے۔۔۔ بارات کے ساتھ جس کو نہ بلاؤ وہ ناراض ہو جاتا ہے۔۔ پھر لڑکی والوں کو ایک تو بارات کے کھانے کی مصیبت ڈال دی اوپر سے پچاس بندوں‌کا کہہ کر ساتھ ڈیڑھ سو لے گئے۔۔ اب لڑکی والوں کو پریشانی بن گئی کہ اتنی ایمرجنسی میں‌ اضافی لوگوں‌کا کھانا کیسے تیار کریں ۔ بھئی کیا مصیبت ہے کہ بارات لازمی کرنی ہے؟ ذرا ایک لمحے کو تصور کریں‌کہ آپکا بیٹا کسی لڑکی سے ساتھ آپ کی مرضی کے خلاف کورٹ میرج کرلیتا ہے وہاں‌تو نہ کوئی بارات ہوئی نہ اس کا کھانا نہ جہیز کا کوئی سوال۔۔

یہ بھی پڑھیں:   حسان اور رشتے - ڈاکٹر طاہرہ بشیر سلہریا

اوپر سے لوگوں‌کے طعنے الگ۔۔ تب بھی تو برداشت کر ہی لیتے ہیں۔۔ تو اگر نارمل شادی کو سادگی سے کر لیا جائے تو کون سی قیامت نازل ہو جائے گی۔ یہ سب ہماری اپنی بنائی ہوئی اور گھڑی ہوئی مشقتیں‌اور بوجھ ہیں‌جو ہماری کمر توڑ رہے ہیں لیکن ہم ان سے جان چھڑوانے کو تیار نہیں ہیں۔
اب جو تین چار سو لوگ ولیمہ پر مدعو کئے ہوتے ہیں‌ان سے یہ امید ہوتی ہے کہ وہ اپنی سواری لے کر شریک بھی ہوں گے نئے کپڑوں کا خرچ بھی برداشت کریں‌گے کچھ تحفے تحائف بھی لے کر آئیں‌گے اور کھانے کے بعد نیوندرے کی صورت میں‌بل بھی ادا کریں‌گے۔ یہ اتنی گھٹیا حرکت ہے جو ہمارے ہاں‌اکثر دیندار گھروں‌میں‌بھی عام ہے۔ پنڈال کے دروازے پر ایک بندہ رجسٹر کھول کر بیٹھ جاتا ہے اور سارے لوگ کھانے کے بعد اسے بل جمع کروا کے اپنی انٹری کرواتے جاتے ہیں۔ حد ہے بھئی۔۔۔ اگر میری استظاعت پچاس لوگوں کو کھانا کھلانے کی ہے تو میں‌دو سو لوگ کیوں‌ بلاؤں اور پھر ان سے رقم جمع ہونے کی توقع بھی رکھوں۔۔ جو توقع سے کم دے گیا اس پر اسے طعنے بھی دئیے جاتے ہیں کہ ہم نے تو آپکی باری اتنے دئیے تھے۔۔

افسوس ہوتا ہے اس صورتحال پر ۔ ہم کس قدر مادہ پرستی کا شکار ہو چکے ہیں کہ ہماری سوچ اب یہ بن چکی ہے جو ہمارے پاس آئے وہ خالی ہاتھ آنے کا سوچے بھی نہ۔ بلکہ دینے دلانے میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جاتا ہے کہ فلاں‌تو یہ کچھ لے کر آیا ہے واہ جی واہ۔ اب اس واہ واہ کے لئے چاہے فلاں‌نے کہیں‌سے قرض لیا ہو انکی بلا سے۔ شادی کی تقریب اور رسموں‌میں‌چاہے دو چار لوگ شامل ہوں‌یا دو چار سو۔۔۔ زندگی اس نئے جوڑے نے اپنے حالات کے مطابق ہی گزارنی ہے اور شامل ہونے والے لوگوں‌کی تعداد سے اس پر فرق نہیں‌پڑتا بس یہ نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس سارے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم مارکیٹنگ کمپنیز اور میڈیا کے اثرات کا شکار ہو کر اپنے دین کو پیچھے کرکے مادہ پرستی اور نمود و نمائش میں‌بھرپور حصہ لے کر اپنی زندگی کو مشکل میں‌ڈال چکے ہیں‌اور ان فضول بے جا رسموں‌ پر اس شدت کے ساتھ عمل پیرا ہیں‌ جس شدت کے ساتھ ہمیں‌دین پر چلنا چاہیئے۔ نکاح کو آسان بنائیں تاکہ ہماری زندگی میں‌آسانی رہے اور بے جا اخراجات کو ترک کریں‌سادگی اختیار کریں تاکہ مہنگائی کا شکوہ بھی کم ہو۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.