مولانا نے دھرنے میں کیا کھویا، کیا پایا؟ محمد عامر خاکوانی

مولانا فضل الرحمن اپنے ڈائی ہارڈ ساتھیوں، کارکنوں اور حامیوں سمیت اسلام آباد میں دو ہفتے تک دھرنا دینے کے بعد اب رخصت ہوچکے ۔ اب ملک بھر میں مختلف مقامات پراہم سڑکیں بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے مولانا نے پلان بی کا نام دیا ہے۔ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پلان اے کی ناکامی کے بعد پلان بی کا کیا حشر ہوگا؟ ویسے بھی جی ٹی روڈ، موٹر وے یا شہروں کی اہم سڑکیں بند کرنے سے عوام ہی خوار ہوتے ہیںا ور ان کی تمام تر صلواتیںایسا کرنے والے کو پڑتی ۔مولانا اپنے پلان بی کو کتنا طول دے سکتے ہیں؟ اندازہ یہی ہے کہ دو تین دنوں میں تھکے ہارے کارکن اپنے اپنے گھروں کی راہ لیں گے۔سودوزیاں کا حساب کسی میں ہمت ہوئی تو کرے گا، ورنہ لیڈر کی محبت میں ٹوٹے سپنوں کی کرچیاں ان کے دلوں میں تادیر پیوست رہیں گی۔ مولانا کے اچانک دھرنا ختم کرنے سے ان کے پرجوش حامیوں اور میڈیا میں ان کا کیس لڑنے والوں کو بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا تاویل کریں یا کون سا نیا بیانیہ تخلیق کریں؟ حقیقت یہ ہے کہ ان سب نے اپنے پروفیشنل صحافیانہ معیار اور انداز کو نظرانداز کر کے خواہشوں پر مبنی تجزیے لکھے، پروگرام کیے اور اپنے قارئین، ناظرین کو گمراہ کیا۔جو چیز میرے جیسے عام اخبار نویس کو دور سے نظر آ رہی تھی، وہ ان جیسے باخبر، میگا سٹارز سے کیسے پوشیدہ رہ سکتی تھی؟ صرف یہ ہوا کہ عمران مخالفت کے جذبات اور سیاسی تعصبات ان کے تجزیہ پر غالب آگئے۔

ان کی غلطی اب سب کے سامنے واضح ہوچکی۔ مولانا کا یہ دھرنا مارچ اپنی ابتدا ہی سے غلط تھا۔ اس کی کوئی تُک تھی نہ منطقی جواز۔ یوں لگتا ہے مولانا اسلام آباد آئے ہی اس لئے تھے کہ دھرنے کی ناکامی کا داغ ماتھے پر لگوائیں اور پھر پسپا ہو کر چلتے بنیں۔ کہا جاتا ہے کہ مارچ سے قبل جب جے یوآئی کے اندر اس پر بحث ہوئی تو کئی لوگوں نے مخالفت کی، مولانا اس پر مشتعل ہوجاتے ۔ جھنجھلا کر وہ کہتے ، ’’تم لوگ زیادہ جانتے ہو یا میں؟ میرے اوپر بھروسہ کرو اور ساتھ دو۔‘‘دھرنے کے دوران بھی اپنی کئی تقریروں میں انہوں نے کارکنوں کو یہی کہا ،اپنی قیادت پر بھروسہ کرو، ہم تمہارے زیادہ خیر خواہ ہیں، ہمارے فیصلوں پر اعتماد کرو، وغیرہ وغیرہ۔ ایسا کرنے سے مگر کیا شکست فتح میں بدل جاتی ہے؟ ایسا بہرحال نہیں کہ سب کچھ غلط رہا۔ دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ مولانا کے دھرنے کا جامع تجزیہ کیا جائے۔ انہوں نے خاصا کچھ کھویا ہے تو کچھ حاصل بھی کیا۔ ان تمام پہلوئوں پر بات ہونی چاہیے۔ مولانا نے کیاحاصل کیا؟ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کا مخالف ہونے کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ مولانا نے جس مہارت اور عمدگی سے یہ مارچ یقینی بنایا، یہ سب قابل تحسین تھا۔ صرف دو مہینے پہلے تک مولانا فضل الرحمن کی قومی سیاست میں کوئی جگہ نہیں تھی۔ وہ الیکشن ہار چکے تھے اور بظاہر ان کی جماعت بھی تنزل کی راہ پر گامزن تھی۔ مولانا نے مارچ کی بات کی تو اسے شروع میں زیادہ لوگوں نے سیریس نہ لیا۔

مولانا نے ایسا کر دکھایا۔ مارچ کا پلان بنانے، اس پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے انہیں دس میں سے سات، یا آٹھ نمبر ملنے چاہئیں۔ اگلے تین چار دن تک جس منظم انداز سے مارچ کو لے کر چلے، بڑی ہوشیاری کے ساتھ میڈیااور سوشل میڈیا پر اس کا مثبت تاثر بنوایا، وہ قابل تعریف ہے۔ لاہور جلسہ میں میٹرو کے لئے سڑک کھلی چھوڑ دینا جبکہ ایمبولینس کے لئے نہ صرف ہجوم کا راستہ چھوڑنا بلکہ کارکنوں کا بھاگ بھاگ کر جگہ بنانا بھی خوبصورت رویہ تھا۔ یہ ویڈیو کلپس وائر ل ہوئے اور مولانا کے کارکنوں کا بہتر تاثر قائم ہوا۔ اس پر بھی مولانا کو اسی فیصد نمبر، اے گریڈ دینا بنتا ہے۔ ان کا اسلام آباد جلسہ اچھا تھا، خاصے لوگ شامل ہوئے۔اسلام آباد کے حساب سے یہ اچھا متاثر کن شو تھا۔ عمران خان پانچ سال پہلے اپنے دھرنے میں اتنے لوگ اکٹھے نہ کر سکے تھے۔ مولانا نے اس حوالے سے ان سے بہتر پرفارم کیا۔ چودہ دنوں تک ان کے کارکن، ساتھی ، حامی دھرنا دیتے رہے، اس دوران ان کا رویہ مناسب رہا۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ کارکنوں اور انصار الاسلام والوں نے شائستگی ، اخلاق کا مظاہر ہ کیا۔روایتی مذہبی فکر کا مثبت، سافٹ امیج سامنے آیا۔ شروع میں خواتین صحافیوں کے حوالے سے مسئلہ پیدا ہوا۔ اسی نہایت سرعت اور عمدگی کے ساتھ حل کر لیا ۔یہ سب اچھے اشاریے تھے۔ دس میں سے سات یا سو میں سے ستر نمبر بنتے ہیں، دس فیصد نمبر مولانا منظور مینگل جیسے غیر محتاط لوگوں کو سٹیج شیئر کرنے پر کاٹ رہا ہوں۔یہ تباہ کن رہا۔

مولانا نے کیا کھویا؟ مولانا کی سب سے بڑی ناکامی تو یہی ہے کہ جس طنطنے، رعب داب اور دعوے کے ساتھ اپنے لائو لشکر سمیت تشریف لائے تھے، اس مقصد میں ناکام ہو کر انہیں پسپا ہونا پڑا۔ پسپائی کی خواہ جس قدر مرضی تشریح کر لی جائے، وہ اپنے وجود میں شکست ہی ہے۔ مولانا نے دراصل اپنے کارکنوں کی توقعات بہت بڑھا دی تھیں۔ اپنی ترجیحی فہرست میں استعفے کو اس قدر اوپر رکھا اوراس پر اصرار کیا کہ ان کے پاس پیچھے ہٹنے کی جگہ ہی نہیں بچی۔ کوئی بھی سمجھدار سیاستدان یوں بند گلی میں نہیں جاتا۔ مولانا نجانے کیا سوچ کر خود کو یوں مقید کرا بیٹھے کہ پسپا ہونے کے سوا اور آپشن نہیں بچی تھی۔وزیراعظم کا استعفا تو کہیں سے ممکن نظر نہیں آ رہا تھا، پھر اس پر اتنا اصرار کیوں کیا؟ عمران خان کا دھرنا بھی اس لئے ناکام ہوا تھا۔ مولانا کے مداح ان کی زہانت، زیرکی، ہوشیاری اور سیاسی فراست کے بڑے قائل ہیں، اس پر بہت سے کالم لکھے گئے، پروگرام ہوئے۔ افسوس کہ مولانا کی یہ تمام تر مبینہ دانش، فراست اور سمجھداری انہیں دھرنے کے جال میں پھنسے سے نہ روک سکی۔ مولانا کی محنت، تنظیم سازی، جے یوآئی کے کمیٹیڈ کارکنوںکے حوالے سے نئے پہلو سامنے آئے، مگرمولانا کی سیاسی فراست اور ویژن نے بہت سوں کو مایوس بھی کیا۔

مولانا کے سامنے چیزیں واضح ہوچکی تھیں۔ معلوم ہو گیا کہ اسٹیبلشمنٹ کا کوئی بھی حصہ ساتھ نہیں۔ اگر کسی مڈل مین، کسی قبائلی سینیٹر نے تاثر دیا تھا تو وہ غلط نکلا۔ مولانا کو تب اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی چاہیے تھی۔ اپنے مطالبات کو مزید حقیقت پسندانہ بناتے، استعفے کو چھوڑ کر انتخابی اصلاحات کی بات کرتے، کچھ نہ کچھ فیس سیونگ کے لئے معاہدہ کرا لیتے۔اس کے بجائے وہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا ٹی وی پر مذاق اڑاتے رہے، اس سے فیس سیونگ کا آخری آسرا بھی جاتا رہا۔ مولانا کی فراست اس موقعہ کی اہمیت نہ بھانپ پائی۔ مولانا کا ایک پلس پوائنٹ یہ بتایا جاتا رہا کہ وہ اپنے کارڈز سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ واقعی ایسا ہی تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اسلام آباد پہنچ کر کیا کریں گے؟بعد میں علم ہوا کہ یہ کارڈ مولانا کے اپنے پاس بھی نہیں تھا۔ وہ غالباً بلف کر رہے تھے، دوسروں سے، اپنے آپ سے ۔ سوچتے ہوں گے کہ اگرسیاسی قوت کا مظاہر ہ کر لیا تو طاقت کے مراکزاپنی ترجیح بدل لیں گے۔ ایسی اہم باتیں مگر مفروضوں پر تو طے نہیں ہوتیں۔جو ابہام رکھا گیا، اسی وجہ سے ن لیگ بھی دور رہی ۔ ن لیگ کو خطرہ تھا کہ معلوم نہیں مولانا آخری کارڈ کیا کھیلیں اور اس کا نقصان پورے سسٹم کو نہ ہوجائے۔ مولانا اگر حقیقت پسندانہ ترمیمی پلان بی بناتے تو وہ بڑی اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ ملا سکتے تھے ، بلکہ انتخابی اصلاحات اور سسٹم میں تبدیلی کے نام پر جماعت اسلامی بھی ساتھ آ سکتی تھی ۔ تب مولانا کچھ نہ کچھ حاصل کر کے ہی واپس لوٹتے۔ ان کا دامن خالی نہ ہوتا۔

ایک بڑا سیاسی نقصان یہ ہوا کہ مولانا نے اس تاریخ ساز موقعہ سے فائدہ اٹھا کر اپنی آڈینس میں اضافہ نہیں کیا۔ اتنی میڈیا کوریج انہیں کبھی نہیں ملی ، آئندہ بھی شائد نہ ملے ۔وہ حکومت ، وزیراعظم پر بے شک تنقید کرتے ، مگر اس کے ساتھ سسٹم میں تبدیلی کا پروگرام بھی دیتے۔ معیشت کو اٹھانے، ٹیکس اصلاحات، عام آدمی کی زندگیاں بدلنے کے لئے کچھ بتاتے ،اپنا ویژن شیئر کرتے۔ اپنی جرات، کسی قدر سیاسی مزاحمت اوراچھی سیاسی مینجمنٹ سے انہوں نے داد حاصل کی، مگر ان کی تقریریں جو لائیو نشر ہوتی رہیں، ان میں پڑھے لکھی اربن مڈل کلاس، لوئر مڈل کلاس کے لئے کچھ نہیں تھا۔رسمی، روایتی تقریریں ہی سننے کو ملیں۔ ایک سیاسی کارکن نے مجھے شکوہ کیا کہ میں عمران مخالف ہوں، مگر دیوبندی ہوں نہ مدرسے کا مولوی اور نہ ہی پشتون جبکہ مولانا انہی تینوں سیاسی عصبیتوں کو لے کر چل رہے ہیں۔ ن لیگ کے سیاسی کارکن، پی ٹی آئی کے کچھ ناراض حامیوں یا رائٹ آف سنٹر نظریاتی سوچ رکھنے والے لوگ مولانا کے دھرنے کو دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ یہ مولانا کے لئے نئی آڈینس تھی۔ انہیں اپنی طرف کھینچ سکتے تھے۔ مولاناکے ویژن، سیاسی پٹاری میں کچھ بھی نیا نہ ہونے کے باعث یہ لوگ کشش محسوس نہ کر سکے۔ مولانا کا دھرنا ناکام رہا، یہ وقتی سیاسی ناکامی ہے،۔نئے حلقہ اثر کو گرفت میں نہ لے سکے، یہ دیرپا ناکامی ہے۔ مولانا کا دھرنا ختم ہونے سے عمران خان کی حکومت کا کیا فائدہ پہنچا، حکومت نے کیا کھویا، کیا پایا اور اب اسے کیا کرنا چاہیے… اس پر الگ سے بات ہونی چاہیے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.