بیچارے اسلام آباد والے - احسان کوہاٹی

سیلانی نے زندگی میں کبھی ’’ہارس ٹریڈنگ ‘‘ نہیں کی لیکن اس نے سن رکھا ہے کہ انتخابات کے دنوں میں اسلام آباد میں گھوڑوں کی بڑی اور چاروں صوبوں میں چھوٹی منڈیاں لگتی ہیں ان دنوںگھوڑوں کے بڑے بڑے تاجرجہاں کہیں بھی ہوں وہ سب چھوڑچھاڑ کریہاں کا رخ کرتے ہیں الیکشن نتائج کے بعد منڈی گرم ہوتی ہے اورکاروبار زوروں پر ہوتا ہے۔۔۔خوسب سودے ہوتے ہیں، ایک ملاقات میں اسلام آباد میں موجوداور مصروف ایک پرانے ہارس ٹریڈر نے سیلانی کو بتایاتھا کہ سب سے زیادہ گھوڑے فاٹا سے آتے تھے اس کے باوجود طلب پوری نہیں ہوتی ادھر ادھر سے گھوڑے پکڑنے پڑتے ہیں اور اصل دھندہ بھی تب شروع ہی تب ہوتا ہے،ایک ایک گھوڑا کروڑوں میں فروخت ہوتاہے ایک سرمایہ کار نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کا بندوبستی علاقوں میں شامل کئے جانے سے اس صنعت پر منفی اثر پڑے گا۔

سیلانی کو یہ سب کچھ منیب اور شیث کو جگاتے ہوئے یاد آرہا تھا،دونوں بھائی رضائی میں گھٹڑی بنے ایسے سو رہے تھے جیسے ہارس ٹریڈر تویہی ہیں اور سارے گھوڑے گدھے خچر بیچ کر سوئے ہیں ،سیلانی نے کمرے میں گھس کرآواز لگائی’’اٹھو لڑکو! صبح ہو گئی ہے ،جلدی کرو شاباش،منیب بیٹا آپ نے میرے ساتھ واک پر جانا ہے ،جلدی سے اٹھ جاؤ نماز کا ٹائم بھی نکل رہا ہے‘‘سیلانی کی آواز پر دونوں بھائی کسمسا کر رہ گئےسیلانی کو علم تھا کہ یہ ایسے نہیں اٹھیں گے اس نے بلب جلاتے ہوئے غوں غوں کرتا پنکھا بندکیا اور بڑبڑانے لگا’’دونوں نالائق اپنے باپ پر گئے ہیں ۔۔۔سردی دیکھو اور ان کے پنکھے دیکھو‘‘سیلانی نے دونوں بھائیوں پر سے رضائی کھینچ کر ہٹائی اور ذرا سخت لہجے میں اٹھنے کے لئے کہاشیث اٹھ کر بیٹھ گیاا ور آنکھیں ملتے ہوئے پوچھنے لگا’’بابا! میٹرو چل رہی ہے ؟‘‘’’نہیں ‘‘’’بابا! میں نے موٹرسائیکل پرکالج نہیں جانا ،بہت سردی لگتی ہے‘‘’’تو جیکٹ پہنو،مفلر لو،گرم ٹوپی پہنو۔۔۔اچھا اٹھو تو سہی‘‘شیث منہ بناتے ہوئے اٹھ گیا ،منیب الرحمٰن کو اٹھانے کے لئے سیلانی کو پرانا نسخہ استعمال کرنا پڑا وہ ہڑبڑا کر اٹھ گیا،سردی میں پانی کے چھینٹے تو اچھے اچھوں کو اٹھا دیتے ہیں،وہ روہانسی آواز میں احتجاج کرنے لگا’’کیا ہے بابا ایسے تو نہ اٹھایا کریں‘‘ویسے آپ اٹھتے جو نہیں ہیں۔

سیلانی دونوں کونماز کی تلقین کرکے منیب کو پیچھے آنے کا کہہ کر باہر نکلا اور چمبیلی روڈ کے واکنگ ٹریک پر تیز تیز قدم اٹھانے لگا،ابھی اس نے رفتار پکڑی ہی تھی کہ پیچھے سے خٹک
صاحب کی آواز نے اسکے قدم روک لئےارے صاحب !ذراہمیں بھی ساتھ لے لیں ’’جناب آپ خٹکس کو کوہاٹیوں کی نہیں،ڈیرہ اسماعیل خان والوں سے لفٹ کی ضرورت ہے اور پرویز خٹک کوشش تو کر رہے ہیں ‘‘ہاہاہا۔۔۔‘‘ صبح کی خاموشی میں خٹک صاحب کا قہقہ خاصا بلند تھا،سرخ و سپید خٹک صاحب ساٹھ سے اوپر کے ہیں پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیںانہوں نے پنج وقتہ نماز کی طرح خود پر صبح کی چہل قدمی فرض کر رکھی ہے،ان سے آتے جاتے اکثر علیک سلیک ہوجاتی ہے کبھی کبھارساتھ بھی ہو لیتے ہیں اور یہ تب ہوتا ہے جب انہیں کچھ ڈسکس کرنا ہو آج بھی کچھ اایسا ہی لگ رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم سمجھنا ہی نہیں چاہتے - شیخ خالد زاہد

وہ سیلانی کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے کہنے لگے، مولانا والوں کا کیا پروگرام ہے ،کافی دن ہو گئے اٹھ نہیں رہے؟ ابھی تومولانا نے پلان بی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اے ،بی اور سی سے کیا بلا ہے بس جو بھی ہو جلدی سے ہو،پورے شہر کی زندگی ڈسٹرب ہوگئی ہے ،میرا تو بجٹ آؤٹ ہوگیا ہے۔’’کیا مطلب ؟‘‘مجھے کورٹ اور پھر بلیو ایریاجانا ہوتا ہے ،اس عمر میں موٹرسائیکل پر بیٹھنے کا رسک نہیں لے سکتا مجبورا ٹیکسی کرنی پڑتی ہے ،آپ یقین کرو گے گذشتہ آٹھ دنوں میں سات ہزار تین سو روپے میں نے ٹیکسی کے دیئے ہیں اورچار ہزار روپے میرے بیٹے کی جیب سے گئے ہیں اتنے میں تومیرے گھر کاآدھا راشن آجاتا ہے ،یہ مولاناتو ہمیں بہت مہنگا پڑ رہا ہے جی ۔۔۔کل ہی میں خبر پڑھ رہا تھا،پینتیس لاکھ روپے یومیہ میٹروکو نقصان ہورہا ہے،پاکستان ٹو ڈے نے رپورٹ کیا ہے کہ بیالیس ملین روپوں کا نقصان ہو چکا ہے ،اس سے یومیہ ایک لاکھ مسافر سفرکرتے ہیںاور ان میں اسی فیصد غریب اور سفید پوش لوگ ہیں ایک لاکھ لوگوں کا سیدھا سیدھا مطلب ہے کہ ایک لاکھ خاندان،یعنی آپ نے ایک لاکھ خاندانوں کو ٹیکسی والوں کے سامنے ڈال دیاہے یہاں تو کم بخت رکشے بھی نہیں چلتے کہ چلو ان سے سو پچاس روپے بچ جائیں‘‘خٹک صاحب ایسے دلائل دینے لگے جیسے سیلانی جج ہواور وہ میٹرو کی بندش کا مقدمہ لڑ رہے ہوں۔

’’بات توآپ کی درست ہے میرے بیٹے کا کالج بھی بلیو ایریا میں ہے پہلے اسکا ایک دن کا کرایہ اسی روپے لگتا تھا اب صرف ایک طرف کا کرایہ ڈیڑھ سو روپے ہے وہ بھی اگر آن لائن موٹرسائیکل منگوائے،وہ آج ہی کہہ رہا تھا کہ بابا! صبح بہت سردی ہوتی ہے میں بائیک پر نہیں جاؤں گا‘‘بالکل ٹھیک کہہ رہا تھاصبح موٹرسائیکل پر تو قلفی جمنے والی سچویشن ہوتی ہے،آپ میڈیا والے دھرنا شرنا تو خوب دکھا رہے ہیں لیکن اس حوالے سے بھی تو لکھیں ناں اور ایک بات مجھے بتائیں یہ کشمیر کا اشو کہاں گیا؟ ادھر کرفیو کے سو دن پورے ہو گئے ہیں اور ادھر ہمارا میڈیا اسے چھوڑ کر دھرنا دھرنا کر رہا ہے۔جس چینل کا بھی نیوز شو دیکھو ایک ہی بات ہے کہ دھرنے والے یہ کر رہے ہیں،دھرنے والے وہ کر رہے ہیںادھر بھارت نے کشمیر اور لداخ کو دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا اور ہمارا میڈیا دھرنا دھرنا کر رہا ہے ۔۔۔مہنگائی ،بے روزگاری ،ڈینگی عذاب بنا ہوا ہے یہ سب عوامی اشوز ہیں میڈیا کو ان پر فوکس ہونا چاہئے لیکن دھرنادھرنا ہے یا نوازشریف کی بیرون ملک روانگی ہے ،سوال یہ ہے کہ ہم بیس کروڑ عوام کی باری کب آئے گی ہمارے اشوز کب ڈسکس ہوں گے‘‘خٹک صاحب دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر سیلانی پر سوالیہ نظریں جمائیں اور کھڑے ہوگئے۔

خٹک صاحب کی ساری باتیں ٹھیک تھیں ،میٹرو کی بندش سے واقعی ایک لاکھ خاندان متاثر ہورہے ہیں یہاں اسلام آباد اکا لوکل ٹرانسپورٹ سسٹم نہائت واہیات ہے،شہر میں بسیں ہیں نہ منی بسیں،چھوٹی چھوٹی چودہ پسنجروں والی سست رفتار ویگنیں چلتی ہیں جس میں بیس بیس مسافر ٹھوسنے کے بعد بھی کنڈیکٹر کووہ خالی لگتی ہے،لے دے کر سارا بوجھ میٹرو اور ٹیکسی پر ہوتا ہے رکشہ یہاں چھوڑا نہیں جاتا، میٹرو کی بندش میں ٹیکسی والے مسافروں کی کھال اتارنے سے چوکتے نہیں،سو کی جگہ دو سوروپے مانگتے ہیںلیکن بات یہ بھی ہے کہ میٹرو بس سروس دھرنے والوں نے تو بند نہیں کرائی ،لاہور میں میٹرو او آزادی مارچ ساتھ ساتھ چل رہے تھے کسی نے نسوار کی گولی بھی نہیں اچھالی ۔

یہ بھی پڑھیں:   دھرنے کے مقاصد کیا ہیں - مسزجمشیدخاکوانی

سیلانی نے یہ بات کہی ہی تھی کہ خٹک صاحب بھڑک کربولے’’ میٹرو کی بندش کی وجہ تو یہی ہیں ،میٹرو ریڈ زون تک جاتی ہے اگر یہ پلان ڈی ، ایف،جی بنا کر میٹرو میں بیٹھے اوریڈ زون میں گھس گئے تو آپ لوگ ہی یہ بڑی بڑی سرخیاں لگائیں گے سیکیورٹی اداروں کی نااہلی پولیس تماشہ دیکھتی رہی،یہ ہوگیا اور وہ ہوگیا۔’’آزادی مارچ سکھر سے چلا تھا ابھی تک تو کچھ بھی نہیں ہو‘‘سیلانی مسکرایا اسکی بات خٹک صاحب کو زیادہ پسند نہیں آئی کہنے لگے’’دھرنا جائز ہے یا حرام میرا مسئلہ یہ نہیں ہے میں تو اپنے مسائل کو رو رہا ہوں کہ اسکے لئے کہاں جاؤں ۔۔۔ہاں ایک بات اور بتا دوں ،کل ایک بڑے سرکاری وکیل سے سن گن ملی ہے سپریم کورٹ اٹھارہ سال سے کم عمرلڑکوں کی دھرنوںمیں شرکت کو ممنوع قرار دے رہی ہے اور بالکل درست بات ہے بچے اس لئے نہیں ہوتے کہ کالج مدرسے چھوڑ کر دھرنوں میں جائیں ‘‘’’نہیں بھئی!‘‘سیلانی چونکا ۔ سیلانی کا تجسس دیکھ کر خٹک صاحب رازدارآنہ انداز میں کہنے لگے ’’ ایک بات اور بتاتا ہوں دھرنے میں افغان نیشنل بھی ہیں ‘‘

’’کیا مطب؟‘‘

بس اطلاع ملی ہے کہ دھرنے میں افغان شہری بھی ہیں اور اس پربھی عدالت کو متوجہ کیا جارہا ہے ،میرا خیال ہے کوئی اپیل شپیل تیار ہورہی ہے۔اپیل شپیل کی کیا ضرورت ہے بغیر ویزے کے جو کوئی افغانی ہو یا جاپانی سب کے خلاف قانون حرکت میں آئے،ویسے آپکو یہ بات پتہ کہاں سے چلی۔ ہمارے بھی سورسز ہیں جی ۔ ہاہاہاہا۔خٹک صاحب بتانے لگے ان کے دوست سرکاری وکیل ہیں انکی گفتگو سے پتہ چلا ہے ،خٹک صاحب سے گپ شپ جاری تھی کہ سیلانی کو شیث خان کی آواز آئی ،وہ اسے پکارتا ہوا بھاگا چلا آرہا تھا۔’’کیا ہوا خیر تو ہے ‘‘سیلانی نے گھبرا کر پوچھا’’بابا !کالج جانا ہے ،پیسے تو دے دیں ‘‘شیث خان نے پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ کہا’’یار !اپنی امی سے لو‘‘انہوں نے ہی بھیجا ہے ان کے پاس نہیں ہیں۔

سیلانی نے منہ بنا کر بٹوہ کھول کر دیکھاپانچ پانچ سو کے دو ہی نوٹ پڑے ہوئے تھے ’’آپ کوکل تو پانچ سو دیئے تھے ‘‘ سیلانی نے ایک نوٹ نکالتے ہوئے کہا’’بابا! ڈیرھ سو روپے صبح اوبر کی بائک والے نے لئے تھے اورچھٹی پر تین سو روپے ٹیکسی والے نے باقی پچاس روپے کے چپس لئے تھے‘‘سیلانی نے ہانپتے ہوئے حساب دیا اورجھٹ سے نوٹ اچک کرسلام کرکے واپس پلٹ گیا اور سیلانی منہ بنا کر بٹوے میں رہ جانے والے پانچ سوروپے کے اکلوتے نوٹ کو دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتاچلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.