دعا کے آداب و فضیلت - رانا اعجاز حسین چوہان

دعاکو عبادت کامغزاور جوہر کہا گیا ہے، خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِی۔آخر تک پڑھی ، جس کا مفہوم ہے کہ ’’ تمہارے ربّ کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو اورمانگو، میں قبول کروں گا ، اور تم کودوں گا ‘‘۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ کمال عبدیت میں سب سے اعلیٰ ہیں۔

اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم افضل مخلوقات اوراشرف کائنات ہیں اور اسی وجہ سے قرآن مجید میں جہاں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند ترین خصائص وکمالات اوراللہ تعالیٰ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص الخاص انعامات کاذکرکیاگیا ہے وہاں معزز ترین لقب کے طورپر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبدہی کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے ۔ دعا چونکہ عبدیت کاجوہر اورخاص مظہر ہے، اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے وقت بندے کاظاہر وباطن عبدیت میں ڈوبا ہوتا ہے ، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال واوصاف میں غالب ترین وصف اور بیش قیمت خزانہ ان دعائوں کاہے جو مختلف اوقات میں اللہ تعالیٰ سے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیں یا امت کو ان کی تلقین فرمائیں ۔ ان میں سے کچھ دعائیں ہیں جن کاتعلق خاص حالات یا اوقات اورمخصوص مقاصد وحاجات سے ہے اور زیادہ تر وہ ہیں جن کی نوعیت عمومی ہے۔

ان دعائوں کی قدر وقیمت اورافادیت کاایک عام عملی پہلو تو یہ ہے کہ ان کے ذریعے دعا کرنے اوراللہ سے اپنی حاجتیں مانگنے کاسلیقہ اورطریقہ معلوم ہوتا ہے اور وہ رہنمائی ملتی ہے جو کہیں اور سے نہیں مل سکتی ۔ احادیث مبارکہ کے ذخیرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو سینکڑوں دعائیں محفوظ ہیں ان میں اگر تفکر کیاجائے تو کھلے طورپر محسوس ہوگا کہ ان میں سے ہر دعا معرفت الٰہی کاشاہکار ہے۔ دعا اپنی کامل عاجزی وبے بسی اورسراپا محتاجی کامظاہرہ ہے اوریہی کمال عبدیت ہے، اس لئے عافیت کی دعا اللہ تعالیٰ کو سب دعائوں سے زیادہ محبوب ہے ، اور جس کے لئے دعا کا دروازہ کھل گیا یعنی جس کو دعا کی حقیقت نصیب ہوگئی اوراللہ سے مانگنا آگیا اس کے لئے رحمت الٰہی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ دعادراصل ان دعائیہ الفاظ کانام نہیں ہے جو زبان سے ادا ہوتے ہیں ، ان الفاظ کو تو زیادہ سے زیادہ دعا کا لباس یا قالب کہا جاسکتا ہے ۔ دعا کی حقیقت انسان کے قلب اوراس کی روح کی طلب اورتڑپ ہے اورحدیث پاک میں اس کیفیت کے نصیب ہونے ہی کو باب دعا کے کھل جانے سے تعبیر کیاگیا ہے ، اور جب بندے کویہ نصیب ہوجائے تو اس کے لئے رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   محبت ایک دن کی :حافظ امیرحمزہ سانگلوی

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جب اللہ سے مانگو اوردعا کرو تو اس یقین کے ساتھ کرو کہ وہ ضرور قبول کرے گا اورعطاء فرمائے گا ، اور جان لو اوریادرکھو کہ اللہ اسکی دعا قبول نہیں کرتا جسکا دل ( دعا کے وقت ) اللہ سے غافل اوربے پرواہ ہو ۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ دعا کے وقت دل کو پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور ربّ رحمن کی کریمی پرنگاہ رکھتے ہوئے یقین کے ساتھ قبولیت کی امید رکھنی چاہئے ، تذبذب اوربے یقینی کے ساتھ جو دعا ہوگی وہ بے جان او رروح سے خالی ہوگی۔ جو کوئی یہ چاہے کہ پریشانیوں اور تنگی کے وقت اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے ، تو اس کو چاہئے کہ عافیت اورخوش حالی کے زمانہ میں دعا زیادہ کیا کرے۔ جو لوگ صرف پریشانی اورمصیبت کے وقت ہی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اوراسی وقت ان کے ہاتھ دعاکے لئے اٹھتے ہیں ، ان کارابطہ اللہ کے ساتھ بہت کمزور ہوتاہے ،اللہ تعالیٰ کی رحمت پر ان کو وہ اعتماد نہیں ہوتا جس سے دعا میں روح اورجان پیدا ہوتی ہے۔

اس کے برعکس جو بندے ہر حال میں اللہ سے مانگنے کے عادی ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا رابطہ قوی ہوتاہے اور اللہ کے کرم اوراس کی رحمت پر ان کو بہت زیادہ اعتماد اوربھروسہ ہوتاہے ، اس لئے ان کی دعا قدرتی طورپر جاندارہتی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی ہدایت دی کہ بندوں کو چاہئے کہ عافیت اور خوش حالی کے دنوں میں بھی وہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ دعا کیا کریں اورمانگا کریں، اس سے ان کو وہ مقام حاصل ہوگا کہ پریشانیوں اور تنگی کے پیش آنے پر جب وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو انکی دعا خاص طورپر قبول ہوگی۔ دعا بندے کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں استدعا ہے ، اوروہ مالک کل اورقادر مطلق ہے ، چاہے تو اسی لمحہ دعاکرنے والے بندے کو وہ عطاء فرمادے جو وہ مانگ رہاہے لیکن اس کی حکمت کاتقاضایہ نہیں ہے کہ وہ ظلوم وجہول بندے کی خواہش کی ایسی پابندی کرے بلکہ بسا اوقات خود اس بندے کی مصلحت اسی میں ہوتی ہے کہ اسکی دعا جلد پوری نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   محبت ایک دن کی :حافظ امیرحمزہ سانگلوی

لیکن انسان کے خمیر میں جو جلد بازی ہے اس کی وجہ سے وہ چاہتا ہے کہ جو میں مانگ رہا ہوں وہ مجھے فوراً مل جائے ، اورجب ایسا نہیں ہوتا تو وہ مایوس ہوکر دعا کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے ، یہ انسان کی وہ غلطی ہے جس کی وجہ سے وہ قبولیت دعا کا مستحق نہیں رہتا اورگو یا اس کی یہ جلد بازی ہی اس کی محرومی کاباعث بن جاتی ہے۔ دعا کرنا انبیائے کرام کی سنت ہے ہر نبی نے ہر حال میں دعا کی ہے قرآن مجید میں انبیا ئے کرام کی بہت سی دعائوں کو محفوظ کیا گیا ہے۔سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے زندگی کے ہر عمل میں دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ کبھی بھی دعا میں کوتاہی نہ برتی جائے بلکہ ہمہ وقت دعائیں کرتے رہنا چاہیے اور ایک دوسرے کو دعا کی تلقین بھی کرنا چاہیے۔

دعا مانگنے سے بندے کو خاص قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے، دعا کے ذریعے بندے کے اندر عجزوانکساری جنم لیتی ہے ۔ بارگاہ الٰہی میں دعا ہے کہ اللہ ربّ العزت ہمیں خشوع و خضوع کے ساتھ دعا مانگنے والا بنائے، اور ہماری دعاؤں کو شرف قبولیت عطاء فرمائے ۔آمین