لباس کی کہانی ؟ - فائزہ حقی

" آپ کو پتہ ہے ، موجودہ دور میں کوئی عورت ، بچہ ، لڑکی ، لڑکا ،کوئی بھی محفوظ نہیں " "اس کے لئے آپ کے پاس باہر نکلتے ہوئے چند چیزیں ضروری ہیں ۔مرچوں والے مائع ، آنکھوں میں اسپرے کرنے کیلئے ،الیکٹرک شاک پہنچانے کیلئے الیکٹرک گن اور ایسے ہی چند مزید لوازمات یہ لباس وباس کی کہانی بالکل بے کار ہے کہ لڑکی قرینے کا لباس پہن کر باہر نکلے تو محفوظ ہے "

اس قسم کی باتیں آج کے دور میں بہت سننے کو ملتی ہیں اور اکثریت فضول کپڑے لٹکا کر نکلنے کو روشن خیالی سے تعبیر کرتی ہے . اس کا اصل جواب تو بالکل واضح ہے اگر تھوڑا سا عقل کو راہ دی جائےرہتی دنیا کے لئے جو ایک گائیڈ بک ہے اس میں ہم سب لوگوں کو آرام وسکون سے اپنی اور دوسروں کی زندگی گزارنے کیلئے چند اصول دئیے گئے ہیں جن میں ایک اصول خواتین کے بچاءو کے لئے معقول اور ڈھنگ کا لباس زیب تن کرنے کا ہے اور اس اصول سے پہلے حضرات کو بھی پابند بنایا گیا کہ وہ اپنی نظروں اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کریں ۔اور ان ساری باتوں سے بھی پہلے اللہ صاحب کا حکم ہے کہ "تم میں سب سے بہتر وہ ہےجو نیکی کا حکم دے اور برائ سے روکے " یعنی موجودہ دور میں پھیلی ساری برائیوں کی اصل وجہ لاعلم ہونا ہے . انڈیا میں عورتوں اور بچوں کا ریپ بہت معمولی سی بات ہوچکی ہے اور وہاں کے پنڈت سارے اس بات پر متفق ہیں کہ لڑکیاں گھروں سے باہر نکلتے ہوئے ذرا معقول لباس زیب تن کیا کریں ۔لیکن روشن خیال خواتین اس بات کو یک جنبش قلم رد کئے ہوئے ہیں اور انکا اصرار ہے کہ برائی لڑکیوں کے آدھے پونے لباس میں نہیں بلکہ ماحول میں ہے لہذا اسے درست ہونا چاہئے ۔

یہ بھی پڑھیں:   لباس ایک پہچان - ثوبیہ اجمل

اس کے بارے میں تھوڑی سی بات شاید کافی ہو . پلاؤ کی مزیداری کا تعلق صرف اس بات سے نہیں کہ اس میں لہسن زیادہ ڈال دیا جائے بلکہ ہر جز اپنے صحیح تناسب سے استعمال کیا جائے تبھی مزیداری ہوگی اسی طرح جب ہم اسلام کے کسی خاص جز پر ہی زور دیں گے تو معاشرے میں پھیلی بےراہروی کم یا ختم نہیں ہوگی اس کیلئے ضروری ہے کہ ہر امر کو اس کے تناسب سے استعمال کیا جائے ۔ ان ساری گندگی وغلاظت سے اپنے اور اپنی اولاد کے بچاؤ کیلئے ضروری ہے کہ الہامی علم کو ترویج دی جائے . اسلام کی تاریخ کا اگر ہمارا مطالعہ مستحکم ہو تو ہمیں اچھی طرح اس کا علم ہو جائے گا کہ اسلام نے جب بھی حکمرانی کی اسکے مسلم حکمران بذات خود عالم رہے سو انہوں نے حکومت کو بھی قرآن کے علم کو پھیلانے کیلئے استعمال کیا اور یہی وجہ تھی کہ اس زمانے کا ایک عام شہری بھی دین کی باریک باریک باتوں کا بخوبی علم رکھتا تھا ۔موجودہ دور میں شہریوں کو جاہل رکھنے کی کوشش کیجاتی ہے تاکہ انہیں اپنے حقوق کا علم ہی نہ ہو اور دوسری طرف شیطان بھی ایسے جاہل عوام کی ہوس میں اضافہ ہی کرتا رہتا ہے جس کا نتیجہ ہم بخوبی بھگتتے ہیں لیکن وجوہات سے ناآشنا ہی رہتے ہیں

ٹیگز