گٹکے ماوے پر پابندی یا کچھ اور- شیراز علی

یہ اپنی جگہ بجا ہیے کہ گٹکے ماوے اور مین پوری کے خلاف کارروائیاں جو کہ عدالتی حکم کے مطابق 30ستمبر سے شروع کی گئی ہے قابل تحسین ہے ۔

اور اسکے ذریعے درجنوں افراد گرفتار ہوئے اور کروڑوں روپے مالیت کی منشیات بھی برآمد ہوئی ۔جس کا کریڈٹ پولیس ہر جگہ وصول کرتی پھر رہی ہے ۔
لیکن کیا یہی اس مثلے کا کامل حل ہے ؟ اور اب واقعی اس کے بعد ان خطرناک اشیاء کی خرید و فروخت بند ہو جائے گی؟

تو جواب بہت سیدا سادہ اور اسان ہے کہ اس طرح کی پابندیاں اور کروائیاں پہلے بہی ہو چکی ہیں۔

جس کی بدولت گٹکا ماوا دس(10) روپے سے بیس(20) اور پہر پچاس روپے میں فروخت ہونے لگا اور اس کی طلب اور زیادہ بڑھ گئی۔
ڈایریکٹر صحت نے اپنی 23 اکتوبر کی رپورٹ سندھ ہا ئی کورٹ میں جمع کروائی جس کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ 5برسوں کے دوران ایک لاکھ 76 ہزار سے زائد لوگ کینسر کا شکار ہوئےاور یہ تعداد سب سے زیادہ کراچی سول اسپتال میں دیکھی گئی جہاں 83 ہزار مریض علاج کے لئے آئے۔

جس طرح کراچی ماوے کے استعمال میں سر فہرست ہے وہی عالمی رپورٹ کے مطابق ہیروئن کے استعمال میں بھی بہت تیزی سے ٹاپ 10 میں آیا ہےتو کیا یہ امر حالات کی سنگینی کے لئے کافی نہیں۔

اور اگرحالیہ کاروائیوں کے بعد دیکھا جائے کراچی کے وہ کچھی آبادی والے علاقے خصوصا منگھوپیر کے اطراف ۔اتحاد ٹاون۔اور ملیر کے کچھ علاقوں کے علاوہ بہار کالونی ۔مکین کالونی اور اگر ہم تھوڑا آگے سے یوٹرن (عمران خان والا نہیں) لے تو کوٹری۔ جام شورو میں تو کھلے عام ہیروئن بھانٹی جا رہی ہے اور اس کی تو باقاعدہ ویڈیو منظر عام پر آچکی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون سڑک پر بلا خوف ہیروئن فروخت کر رہی ہے اور ملنے والی خبروں کے مطابق جام شورو انتظامیہ کے کچھ افسران بھی اس میں ملوث ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   حیات کی موت - ناصر اقبال خان

ان حالات کو دیکھ کر ایک سادہ لوح انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ سب سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہمارے جوانوں کو ہیروئن جیسی زہریلی نشہ آور چیز کی طرف دکھیلا جا رہا ہے
اور اگر یہی صورتحال حال رہی تو اگلے پانچ سال بعد آپ کو 55% نوجوان ہیروئن کے عادی نظر آئنگے ۔

لیکن ہمارے اداروں کی سنجیدگی کا جائزہ لیا جائے تو وزیر اعظم کی کرسی تک محفوظ نہیں اور وہاں کوئی بھی ناچ گانے والی با آسانی جا کر بیٹھ سکتی ہیں
تو وہ خاک ہم عوام کا سوچے گے ۔

خدارا اس معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اس پر اعلی سطح کا اجلاس بلوایا جائے اور اس مثلے کا مثبت اور دیر پا حل نکالا جائے نھیں تو کل کو یہی ہیروئن آپ کے بچوں کی جیبوں سے برآمد ہونی ہیں۔